دہشت گردی کے بعد ہزارہ میں خوف و ہراس، کئی کانیں بند ہوگئیں

  • جمعرات 04 / فروری / 2021
  • 5300

بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 10 مزدوروں کے قتل کے بعد ہزاروں کان کنوں نے کام روک دیا ہے۔ کئی لوگ صوبہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مزدور تنظیموں اور حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے قتل کے بعد تقریباً 15 ہزار مزدوروں نے کام چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں 200 کانیں بند ہوگئی ہیں اور پیدوار بھی کم ہوگئی ہے۔  کوئلے کی کانوں کے صوبائی سربراہ عبداللہ شالوانی کا کہنا تھا کہ 100 سے زائد کانیں تاحال غیر فعال ہیں۔

بلوچستان میں قائم سینکڑوں چھوٹی کانوں میں 40 ہزار سے زائد مزدور کام کرتے ہیں۔ انتہا پسندوں گروپس کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے اور اغوا کے بعد کان مالکان سے تاوان وصول کیا جاتا ہے۔ تاوان کی عدم وصولی پر مزدوروں کو قتل کرکے صوبے میں کشیدگی پھیلائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کوئلے کی کانیں افغان مہاجرین کے لیے معاشی ضروریات پوری کرنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ خاص کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد  یہاں بڑی تعداد میں مزدوری کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ مچھ کے علاقے میں ایک کان سے ہزارہ برادری کے متعدد مزدوروں کو اغوا کرکے پہاڑی علاقے میں لے جایا گیا تھا جہاں بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا۔

مزدوروں کے قتل کے بعد کوئٹہ میں شدید احتجاج ہوا تھا اور لواحقین نے مقتولین کی تدفین سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے ان کے تحفظ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے صوبائی سربراہ حبیب طاہر کا کہنا تھا کہ مقامی مزدور زیادہ معاوضہ طلب کرتے ہیں اور کسی قسم کے حادثے کی صورت میں مالکان انہیں تاوان بھی ادا کرتے ہیں۔ لیکن افغان مہاجرین ان کانوں میں کم معاوضے پر کام کر رہے ہیں۔

مائنز مالکان ایسوسی ایشن کے صدر بہروز ریکی نے کہا کہ موجودہ حالات سے مقامی برادریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کان کے بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سیکیورٹی گارڈز، ڈرائیورز، ہیلپرز سمیت دیگر شعبوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے کوئی روزگار نہیں۔

صوبائی حکومت کے محکمہ مائنز کے عہدیدار عاطف حسین کا اصرار تھا کہ سیکیورٹی کو بہتر بنایا گیا ہے۔