اپوزیشن نے آئینی ترمیم پر قومی اسمبلی میں بحث نہیں ہونے دی
- جمعرات 04 / فروری / 2021
- 5800
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان الزامات اور سخت جملوں کے تبادلے کی وجہ سے آج بھی حکومت کی پیش کردہ آئینی ترمیم پر بحث نہیں ہوسکی۔ حکومت سینیت انتخاب کا طریقہ تبدیل کروانے کے لئے آئین میں ترمیم چاہتی ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے حکومت کی جانب سے کیے گئے توانائی کے معاہدوں پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں 15 سے 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے ان اعتراضات کا جواب دینا شروع کیا۔ لیکن شازیہ مری سمیت اسمبلی اراکین نے احتجاج کرنا شروع کردیا۔
اپوزیشن بالخصوص پیپلز پارٹی کے اراکین نے سیٹیاں اور ڈیسک بجا کر گو عمران گو کے نعرے لگائے۔ عمر ایوب پر لوٹے لوٹے کے جملے بھی کسے گئے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے کہا کہ یہاں ایک ایسا لوٹا ہے جو پہلے مسلم لیگ (ق) میں تھا، پھر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو کر پہلے والی جماعت کو برا کہنے لگا، اب پی ٹی آئی میں ہے تو مسلم لیگ (ن) کو برا کہہ رہا ہے۔ اس ایوان میں سب سے بڑا لوٹا سوالات کے درست جواب نہیں دیتا۔
اس موقع پر وزیر خارجہ نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ وکٹ کی دونوں طرف کھیلنے کے عادی ہیں۔ مراد سعید کھڑا ہو تو واک آؤٹ کر جاتے ہیں، ان میں سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ یہ مسلم لیگ (ن) کو استعمال کرکے جمہوریت کے علمبردار بن جاتے ہیں۔ یہ دوغلے ہیں اور اگر یہ رویہ ہو گا تو ہاؤس اس طرح نہیں چلے گا، نہیں چلے گا تو پھر نہیں چلے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ بلڈوز کر دیں گے تو ہم آپ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ بہت ہو گیا، ہم نے بہت برداشت کیا ہے، بہت لحاظ کیا ہے لیکن انہیں روایات کا کوئی خیال نہیں ہے۔ کوئی تمیز نہیں ہے۔ اگر یہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بات سننی بھی ہوگی، اگر بات نہیں سننا چاہتے تو یک طرفہ بحث نہیں ہو سکتی، یہ قابل قبول نہیں اور جمہوری روایات کے برعکس ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر اسمبلی قاسم سوری نے حکومتی بینچ کے رکن عامر ڈوگر کو ہدایت کی کہ وہ اپوزیشن سے بات کریں۔ اگر یہ ماحول ہے تو بحث کرانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ ایوان کے دونوں جانب حوصلے سے تقریر سنی جائے گی تو ہی معنی خیز بحث ہو سکے گی۔
شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر کے معزز جج صاحبان کی رائے طلب کی۔ سپریم کورٹ میں مسئلہ زیر بحث ہے۔ ہمارے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہم آئین میں ترمیم کریں۔ ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے جو ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے۔ لیکن ہم نے یہ بل اس لیے پیش کیا تاکہ میثاق جمہوریت کے علمبردار اور شفاف انتخابات کے دعویداروں کو بے نقاب کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے۔ یہ چہرے بے نقاب ہو گئے اور اصلیت سامنے آ گئی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو استعفے دینے کے لیے آئے تھے اور ہھر استعفیٰ دیتے دیتے راتوں رات پتا نہیں کیا ہوا، وہ راز ہے اور میں راز کھولنا نہیں چاہتا کہ وہ زاویہ تبدیل کیسے ہو گیا، ان کے مؤقف میں اتنی لچک کیسے پیدا ہو گئی، وہ منہ پر مارنے والے آج منہ کی کھا رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا کہ آج ہم کسی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) یا جے یو آئی والے کو اس بل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں کل سے بات کرنا چاہ رہا ہوں، چار مرتبہ مجھے فلور دے کر واپس لے لیا گیا اور اپوزیشن کو آئینی ترمیم جیسے اہم معاملے پر بات کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔
ایوان کے سینئر ترین رکن نوید قمر نے جب جا کر احتجاج کیا تو حکومت کے لوگوں نے نہ صرف ان کو گالیاں دیں بلکہ ان پر حملہ آور بھی ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے یکے بعد دیگرے تین وزیروں کو فلور دینے پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر سے سوال کیا کہ آپ نے اس معاملے پر اعتراض کیوں نہیں کیا۔ اسپیکر تو آپ ہیں، فلور تو آپ نے دینا ہے۔ یہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہو رہا تھا یا ایوان میں ترمیم پیش ہو رہی تھی۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر نے آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو شروع کی تو مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر نے کورم کی نشاندہی کردی اور کورم نا مکمل ہونے پر اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔