پاکستان کشمیریوں کو حق دے گا کہ وہ پاکستان سے الحاق کریں یا آزاد مملکت بنالیں
- جمعہ 05 / فروری / 2021
- 4110
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے لوگ جب پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں گے تو وہ انہیں یہ حق دیا جائے گا کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
کوٹلی میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے میں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دنیا نے کشمیر کے لوگوں سے 1948 میں ایک وعدہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حق ملنا تھا۔ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا جا سکا۔ جبکہ سیکیورٹی کونسل نے انڈونیشیا جیسے مسلمان ملک میں، مشرقی تیمور سے کیا ہؤا وعدہ پورا کیا جزیرہ تھا کیوں کہ وہاں عیسائی آبادی تھی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کو یہ حق ملے گا اور مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے لوگ جب اپنے مستقبل کا پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے تو اس کے بعد پاکستان کشمیر کے لوگوں کو حق دے گا کہ آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری مسلمان دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر مسلمان ملکوں کی حکومتیں کسی بھی وجہ سے آپ کو سپورٹ نہیں کرتیں لیکن مسلمان دنیا کے عوام مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر فورم پر آواز بلند کروں گا۔ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو گا، اس وقت تک سب جگہ آپ کی آواز بلند کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے پوری کوشش کی کہ ہندوستان کو دوستی کا پیغام دیں، ان کو سمجھائیں کہ کشمیر کا مسئلہ ظلم سے حل نہیں ہو گا، تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقتور فوج ایک آبادی کے خلاف جیت نہیں سکتی۔ امریکا سپر پاور ہونے کے باوجود ویتنام میں نہیں جیت سکا، ویتنام کے لوگوں نے 30 لاکھ لوگوں کی قربانی دی اور آزاد ہو گئے۔ سپر پاور نہیں جیت سکی۔
افغانستان کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ نجانے کتنی سپر پاورز آئیں لیکن ایک آبادی کے خلاف کوئی سپر پاور نہیں جیت سکت۔، الجیریا میں فرانس نے کتنا ظلم کیا لیکن وہ آبادی کے خلاف نہیں جیت سکا۔ ہندوستان بے شک 9 لاکھ سے زیادہ فوج لے آئے لیکن کشمیر کی آبادی آپ کی غلامی قبول نہیں کرے گی۔ کشمیر میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے دل میں سب سے پہلے آزادی کا جذبہ جاگتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں ہندوستان سے کہتا ہوں کہ آپ وہاں جیت ہی نہیں سکتے۔ جب ایک آبادی آپ کو مانتی ہی نہیں اور جو تھوڑے بہت لوگ کشمیر میں ہندوستان کی حمایت کرتے تھے، 5 اگست سے جو آپ نے ظلم کرنا شروع کیا، وہ تھوڑے سے لوگ بھی اب آزادی چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کریں۔ میں آپ سے پھر کہتا ہوں کہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ مجھے ابتدا میں سمجھ نہیں آئی کہ مودی مجھ سے مذاکرات کیوں نہیں کررہا لیکن پھر جب پلوامہ ہوا اور بالاکوٹ میں ہندوستان کے جیٹ نے ہمارے درختوں کو شہید کیا، آپ کو پتا ہے کہ مجھے درختوں سے خاصا لگاؤ ہے تو جب انہوں نے درخت شہید کردیے تو مجھے خاصی تکلیف ہوئی لیکن تب مجھے پتا چلا کہ یہ امن اور دوستی نہیں چاہتے بلکہ وہ پلوامہ اور بالاکوٹ کو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کررہے تھے۔
عمران خان نے کہا کہ آج ہندوستان تقسیم ہو چکا ہے۔ آر ایس ایس کی سوچ نے سب سے زیادہ نقصان ہندوستان کو پہنچایا۔ آج ہندوستان کے کسان نکلے ہوئے ہیں، وہاں مسلمانوں کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ میرا نریندر مودی کو پیغام ہے کہ یہ ہندوستان کو تقسیم کر کے ہندوتوا کی سوچ آپ کو الیکشن تو جتوا دے گی لیکن آپ ہندوستان کی تباہی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ میں پھر سے کہتا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ ہمارے ساتھ مل کر حل کریں۔ اس کے لیے سب سے پہلے 5 اگست کے فیصلے واپس لینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مت سمجھیں کہ ہم کمزور ہیں اور آپ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، ہم اللہ کے آگے جھکنے والی قوم ہیں اور ہمیں اس کے علاوہ کسی کا خوف نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق ملے، یہ ظلم ختم ہو اور کشمیری بھی اپنی زندگی کا خود فیصلہ کریں۔ یہ ان کا جمہوری حق ہے اور اس حق کے لیے سارا پاکستان کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔