یوم یکجہتی کشمیر یا یوم نمائش؟
تین دہائیوں سے پاکستان سرکاری سطع پر ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی مناتا آ رہا ہے ۔یکجہتی کا مطلب اگر چھٹی کرنا ، مہنگے ہوٹلوں میں تقریبات، ضیافتیں اور نمائشی ریلیاں نکالنا ہے تو پھر واقعی یہ یوم یکجہتی ہے۔ اگر یکجہتی کا مطلب ہماری نتیجہ خیز جد و جہد کے لیے عملی جد و جہد کرنے والوں کی حمایت اور ان کی ضروریات پوری کرنا ہے تو پھر اسے یکجہتی نہیں کہا جا سکتا۔
مقبول بٹ کی شروع کردہ جد و جہد نے جب قومی تحریک کا روپ دھارا تو بھارت نے اسے کچلنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر اس کی یہ سازش اس وقت آسان ہو گئی جب پاکستان کے حمایت یافتہ گروپوں نے لبریشن فرنٹ کے خلاف محاز کھول کر پاکستان کے جھنڈے لہرانے شروع کیے۔ اس سے بھارت کے اس الزام کو تقویت ملی کہ یہ کشمیریوں کی اپنی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ پاکستان کی مداخلت ہے۔ اب تک ایک لاکھ سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں ۔ ہزاروں سیاسی قیدی کشمیر سے دور بھارتی جیلوں میں نظر بند ہیں جن کے ساتھ ان کے خاندان کی ملاقاتوں کو بھی ناممکن بنا دیا گیا یے۔
5 اگست 2019 کو بھارت نے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے پوری ریاست کو جیل خانے میں بدل دیا مگر پاکستان اور آزاد کشمیر تماشہ دیکھتے رہے۔ پاکستان جو خود کو کشمیریوں کا وکیل اور سفیر کہتا ہے، وہ عالمی سطع پر کشمیریوں کی وکالت اور سفارت کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی مہم میں مصروف ہو گیا۔ اور آزاد کشمیر کے سرکاری سیاستدان بھانت بھانت کی بولیاں بولنا شروع ہو گئے۔ یوں تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، عام بات ہو چکی ہیں لیکن جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے سربراہ ڈاکٹر نذیر گیلانی نے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے تمام تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو تین تفصیلی رپورٹس میں پیش کی ہیں۔
پاکستان عالمی انسانی حقوق کے ادارے میں موجود ہونے کے باوجود ان رپورٹس کو زیر بحث نہ لا سکا۔ آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان کی سفارتکاری کا بڑا چرچا تھا۔ انہیں صدر بنانے کا واحد جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ وہ اہنے سفارتی تجربات سے تحریک کے لیے عالمی حمایت حاصل کریںگے۔ وہ اپنے اعلان کردہ مشن میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ آئے روز پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکمران امریکہ اور یورپ کے دوروں پر رہتے ہیں مگر وہ جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کی جانے والی رپورٹس کا کسی بھی فورم میں حوالہ دینے سے قاصر ریے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ کشمیریوں کے مضبوط ترین عالمی کیس کو کسی بھی فورم پر موثر طریقے سے نہ اٹھایا جاسکا اور نہ ہی سیاسی جماعتیں اور آزادی پسند تنظیمیں بھارتی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کی موثر مہم چلا سکی ہیں۔ میرے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کشمیریوں کے اندر باہمت باصلاحیت اور باکردار قیادت پیدا نہیں ہونے دی جا رہی۔ یہ قیادت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے اور ہر جگہ اپنی نمائش کی وجہ سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے خود کو نمایاں کرنے کے چکر میں رہتی ہے۔ بے ضمیر، بد کردار اور نااہل لوگوں کو سیاست میں پروموٹ کر کے باکردار قیادت کا راستہ روکا جاتاہے۔ یہ کوئی لوکل نہیں بلکہ عالمی ایجنڈا ہے جس کے تحت تنازعات کو طول دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔
تمام تر تلخ حقائق کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی قوم متحد ہو کر جد و جہد کرنے کا فیصلہ کر لے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ اس لیے ہمیں مایوس نہیں ہونا بلکہ الللہ تعالیٰ کی زات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی صفوں کو درست کرنا ہو گا۔