یمن کے حوثی باغیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا

  • ہفتہ 06 / فروری / 2021
  • 5780

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بھوک و افلاس سے شدید متاثرہ ملک یمن میں حوثی باغیوں کو 'غیر ملکی دہشت گرد تنظیم' قرار دیے جانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 جنوری کو اپنا عہدہ صدارت چھوڑنے سے صرف ایک دن قبل ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا تھا کہ حوثی باغیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھوک و افلاس سے متاثرہ ملک یمن میں امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ اور ملک بڑے پیمانے پر قحط میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے اس فیصلے کی تصدیق گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن کے اس اعلان کے بعد کی گئی جس میں انہوں نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں پانچ برس سے جاری جنگ کی حمایت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حکام کے مطابق اس فیصلے سے صدر بائیڈن کی حوثی باغیوں سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جنہوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا اور امریکیوں کو اغوا کیا۔ اس اقدام کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کے آخری دنوں میں کیے گئے فیصلے کی وجہ سے پیدا شدہ انسانی بحران کو ختم کرنا ہے۔

حوثی باغی جو یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے کئی علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان کا امریکی اقدام پر کہنا ہے کہ سعودی عرب یمن میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور تنازع کے حل کے لیے امریکہ سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مند ہے۔

خالد بن سلمان نے کہا کہ وہ صدر بائیڈن کی سعودی عرب اور اس کے لوگوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔