کورونا کے باعث شدت پسند گروہوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے: اقوام متحدہ
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- ہفتہ 06 / فروری / 2021
- 9210
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے تنازعات کا شکار علاقوں میں شدت پسند گروہوں داعش اور القاعدہ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ البتہ یہ خطرہ یورپ میں نسبتاً کم ہے۔
شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے حوالے سے خدشات کا انکشاف رواں ہفتے جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہرین کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020 کے آخری چھ ماہ کے دوران تنازعات کا شکار علاقوں میں شدت پسند گروہوں کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ وبا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام میں مشکلات پیدا کی ہیں۔ لیکن دوسری طرف شدت پسندوں کی آزادنہ نقل و حرکت جاری رہی۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ کئی مقامات جہاں پر وبا کی وجہ سے پابندیاں نرم ہوں گی، شدت پسند اچانک حملے کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی ہے۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ عالمی وبا کے اقتصادی اور سیاسی اثرات کی وجہ سے انتہا پسندی کے رجحان میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے باعث طویل مدت میں شدت پسند گروہوں کا خطرہ ممکنہ طور بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام اور عراق کے کئی علاقے شدت پسند گروپ داعش کا مرکز ہیں۔ جب کہ شمال مغربی شام میں ادلب کے علاقے میں القاعدہ سے منسلک گروہوں کی موجودگی باعثِ تشویش ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے تعلقات میں بہتری کی وجہ سے یہاں بھی شدت پسند گروہ القاعدہ او ر داعش کا ردِ عمل سامنے آ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افریقہ کے بعض علاقوں میں بھی شدت پسند گروپ داعش کی کارروائیاں باعث تشویش ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک افغانستان ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے اور بین الافغان مذاکرات کے باوجود افغانستان میں صورتِ حال خراب ہے۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی کی کارروائیاں اور انتہا پسند نظریات خطے اور دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ افغانستان میں جاری امن عمل کی کامیابی کی صورت میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں افغانستان میں حملوں کی وجہ سے 600 سے زائد عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے 2500 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ داعش کی طرف سے حملے کرنے کی صلاحیت اور کسی علاقے پر قبضے کا امکان موجود نہیں ہے۔ تاہم داعش نے افغانستان میں کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات میں کسی نمایاں تبدیلی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش اور القاعدہ دونوں کے لیے افغانستان اب بھی اہم ہے اور امن عمل ان دونوں گروہوں سے خطرے کو کم کرنے کے لیے ضروری ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق اگر دوحہ معاہدے کے تحت طالبان اپنے وعدے پورے کریں تو القاعدہ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں