عمر شیخ اور دیگر ملزمان رہائشی بلاک میں منتقل کردیے گئے
- اتوار 07 / فروری / 2021
- 4770
سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ڈینئل پرل کیس میں گرفتار ملزمان کو بیرکس سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ اب اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وقت گزار سکیں گے۔
محکمہ داخلہ سندھ کے نوٹی فکیشن کے مطابق احمد عمر شیخ، فہد نسیم، سید سلمان ثاقب، اور شیخ محمد عادل کو ہفتے کی شب جیل بیرک سے باہر جیل کے احاطے میں ہی موجود کمروں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ تمام افراد اب اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات بھی کر سکیں گے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق ان افراد کی سیکیورٹی پولیس اور رینجرز کی مشترکہ ذمہ داری ہو گی۔ آئی جی جیل خانہ جات ان افراد کو کمروں کے لیے آرائشی سامان فراہم کریں گے تاہم ملزمان کو انٹرنیٹ سمیت بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔
ملزمان کو صرف ان کے قریبی خاندان کے افراد سے ملاقات کی اجازت ہوگی جس کے لیے صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے کا وقت متعین کیا گیا ہے۔ ان افراد کے لیے ایک ڈاکٹر کو بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اہلِ خانہ کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا اور ادویات ڈاکٹر کے معائنے کے بعد حراست میں رکھے گئے افراد کو فراہم کی جائیں گی۔
اسی طرح حراست میں موجود افراد کے وہ اہلِ خانہ جو کراچی سے باہر رہتے ہیں ان کے قیام کے لیے سرکاری گیسٹ ہاؤس قصر ناز میں کمرے بک کیے گئے ہیں جب کہ ان کو سینٹرل جیل تک ٹرانسپورٹ کی فراہمی بھی صوبائی حکومت کے ذمے ہو گی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ ماہ ڈینئل پرل قتل کیس کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کی رہائی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے تمام ملزمان کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔ ملزمان کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل رد ہونے کے بعد ایک جانب صوبائی حکومت نے نظرِ ثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ وہیں وفاقی حکومت نے بھی ان ملزمان کو رہا نہ کرنے کی استدعا کی ہے۔
درخواستوں میں ان ملزمان کی رہائی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر ان ملزمان کو رہا کیا گیا تو وہ دوبارہ غائب ہو جائیں گے۔ اس لیے انہیں فی الوقت رہا نہ کیا جائے۔ عدالت نے اس صورتِ حال میں ملزمان کو جیل کے احاطے ہی میں رہائشی ماحول فراہم کرنے کی مشروط اجازت دی تھی۔
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملزمان ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ احمد عمر شیخ عام ملزم نہیں بلکہ دہشت گردوں کا ماسٹر مائنڈ ہے اور وہ پاکستان کے عوام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم گزشتہ 20 سال میں دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئی، سانحہ آرمی پبلک اسکول اور سانحہ مچھ جیسے واقعات کی دنیا میں کم ہی نظیر ملتی ہے۔
امریکہ کے اخبار 'دی وال اسٹریٹ جرنل'سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کو کراچی میں جنوری 2002 میں اغوا کیا گیا تھا جن کی لاش مئی 2002 میں برآمد ہوئی تھی۔