فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے: آئی ایس پی آر

  • سوموار 08 / فروری / 2021
  • 5570

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے اپوزیشن اتحاد سے بیک ڈور رابطوں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فوج کو سیاست میں مت نہ گھسیٹا جائے۔

نجی ٹی وی  سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کورونا وبا سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے اور پاکستان کے لیے بھی ایک بہت بڑا معاشی اور سیکیورٹی خطرہ بن چکا تھا۔ تاہم اس دوران پوری قوم نے اس وبا کا بہت اچھے سے مقابلہ کیا اور این سی او سی کی جاری کردہ ہدایات پر اچھی طرح عمل کیا۔

اس پوری مہم کے اصل ہیروز قوم کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور ہیلتھ کیئر ورکرز ہیں، جنہوں نے فرنٹ لائن پر اس کا مقابلہ کیا اور اپنے بے پناہ ایثار اور قربانی سے قوم کی مدد کی۔ انہوں نے بحیثیت ترجمان پاک فوج،  چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی طرف سے ویکسین کے عطیہ پر شکر گزاری کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ  یی ویکسین بھی فرنٹ لائن ورکرز کو دی جائیں گی۔

بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کے گروہوں کی معاونت اور بلوچستان میں شرانگیزی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت بہت حد تک بےنقاب ہوچکا ہے۔ میں نے اپنی گزشتہ کی پریس کانفرنس میں بہت سے شواہد سامنے رکھے اور حال ہی میں ای یو ڈس انفو لیب نے بہت کچھ عیاں کیا۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے اس تمام مؤقف کی تائید کی ہے کہ بھارت کا اس خطے میں بہت منفی کردار ہے۔

کوہ پیما علی سدپارہ سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں تاہم بدقسمتی سے وہ 72 گھنٹے سے لاپتا ہیں۔ وہ بہت مشکل مشن کو پورا کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ ہماری تہہ دل سے دعا ہے کہ وہ خیریت سے ہوں۔ پاک فوج نے اس دوران سرچ اور ریسکیو کی کوششوں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آنے دی اور ہم مسلسل اسے دیکھ رہے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کے رابطوں سے متعلق چہ میگوئیوں پر کیے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ سیاست سے افواج کا اس وقت کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی قسم کے بیک ڈور رابطے یا چینل استعمال نہیں کیے جارہے۔

جو لوگ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں ان سے پھر کہوں گا کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہمارے پاس سیکیورٹی سے متعلق اندرونی اور بیرونی معاملات دیکھنے کا بہت بڑا فریضہ ہے جو ہم پوری طرح سے سرانجام دے رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ثبوت، تحقیق کے اس بارے میں تبصرہ کرنا، بات کرنا میرے خیال میں کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتا ہے۔ اس قسم کی قیاس آرائیوں کو بند ہونا چاہیے۔ جو بھی اس بارے میں بات کر رہا ہے اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے، تحقیق کے مطابق کوئی چیز سامنے لاسکتے ہیں تو لے آئیں، دکھا دیں کون کس کو کال کر رہا ہے، بات کر رہا ہے۔ ادارے کو اس مکالمے میں مت گھسیٹیں۔