مقتل میں مراقبہ

میں ایک زمانے سے  معاشرے کے مقتل میں رہتا ہوں  جو ایک بہت بڑے  قبرستان  سے متصل ہے  جس میں کُشتگان و رفتگاں کی  نقل و حرکت جاری رہتی ہے ۔ اس مقتل میں تین مُختلف قسم کے قتل کی وارداتیں ہوتی ہیں :

۱۔ روایتی قتل

۲۔ خُود کُشی

۳۔ کردار  کُشی

پاکستان سے آنے والی آج کی خبروں کے مطابق  لاہور میں راوی کی ایک خوبصورت شہزادی نے اپنے نوجوان شوہر جمشید کو آتشیں اسلحے موت کی نیند سُلا دیا۔  بے چارہ شوہر جانے کب سے بے خوابی کے عارضے میں مبتلا تھا جو بالآخر چین کی نیند سوگیا۔ یہ محبت کی شادی کا دردناک انجام ہے، جس کی ذمہ داری اُس تلخ مزاجی اور بے قابو پن پر ہے  جو ہماری گھُٹی میں ہے۔  اور اب ہماری تہذیبی روایت بن کر رہ گئی ہے۔ یہ ہمارا اخلاقی اثاثہ ہے۔  ہمارے  شہروں، قصبوں اور دیہات  کے  گلی کوچوں  میں وقفوں  وقفوں کے ساتھ گالی گلوچ، دھینگا مُشتی  اور ہاتھا پائی  کے مناظر  روز مرہ کی بات ہے۔  کم سن بچوں اور بچیوں کے بد فعلی اور  زنا بالجبر کے بعد  قتل کر دینا اب معمول کی بات ہے  لیکن انسان اور انسانیت کی اِس بے حُرمتی  پر اہلِ منبر و محراب کیے کان پر جُوں تک نہیں  رینگتی۔

ایک بار توہینِ رسالت ﷺ کے موضوع پر علما کی پرسوز کانفرنس کے بعد جو خورونوش کا بازار گرم ہوا تو  تو میں نے قہقہے سُنے ۔  ایسے لگتا تھا کہ جو لوگ کچھ دیر پہلے رسالت مآب کی شان میں گستاخی پر رنجیدہ اور آبدیدہ تھے ، وہ سب کچھ بھول بھول کر اب  قورمے اور بریانی  کے  گرویدہ ہو کر رہ گئے ہیں۔  ہم عجیب لوگ ہیں۔ پل میں تولہ، پل میں ماشہ۔  ہم لوگ جذبات کے طوفان  میں بہتے ہوئے مٹّی کے برتن ہیں  جن پر کسی برقی جھٹکے  سے تھوڑی دیر کے لیے جنبش  ہوتی ہے  اور پھر اپنے آپ  ختم ہو جاتی ہے۔

لیکن ان روایتی نوعیت کے قتل کی وارداتوں  سے بھی خطرناک  عمل کردار کُشی ہے  جس میں ہم من حیث القوم  مبتلا ہیں۔  کردار کُشی روایتی قتل سے بھی زیادہ قبیح اور بھیانک  ہے جس میں  ایک دوسرے پر الزامات کی فائرنگ کر  کے ایک دوسرے کا  اخلاقی اور شخصیاتی قتل کیا جاتا ہے۔  اور یہ جنگ  ہمارے معاشرے  کے ہر طبقے اور ہر  شعبے میں  کئی سطحوں اور پرتوں پر جاری ہے۔  سیاست دان سیاست دانوں کو قتل کرتے ہیں۔ علما  دوسرے فرقوں کے علماء  کی داڑھیاں نوچتے اور پگڑیاں اُچھالتے ہیں ،  دانشور،  ادیب، صحافی اور فنکار  قلم اور زبان سے  ایک دوسرے کو موت کی نیند سلانے کے لیے بر سرِ پیکار رہتے ہیں ۔ ریستوران، ادبی محافل، پریس کانفرنسیں  اخباری کام، ٹک ٹوک  اور یو ٹیوب چینل بڑی سرگرمی سے  کردار کے قتلِ عام کی ان وارداتوں میں  سرگرمِ عمل ہیں۔ 

چھوٹی چھوٹی، گھٹیا گھٹیا، بے ہودہ اور شرمناک  باتوں کے رنگوں سے ہولی کھیلنا ہمرا روز مرہ ہے،  ہمارا معاشرتی رویہ  ہیں اور ہماری یہ بد تمیزیاں  چیخ چیخ کر کہ رہی ہیں کہ  ایسا مکروہ طرزِ عمل اخلاقی اور مذہبی  اقدار سے دیدہ دانستہ گریز ہے،  لگتا ہے ہم وہ قوم بن کر رہ گئے ہیں جس کا پیشہ الزام تراشی، بہتان طرازی، یاوہ گوئی اور غیبت ہے۔  غیبت کے باب میں ہم قرآن کے واضح حکم کی خلاف ورزی اور بے حُرمتی کر کے  اپنے مردہ بھائیوں کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ خود کو علماکہلوانے والے  لعنت و ملامت  کے اس جلوس کی قیادت کر رہے ہیں ۔ اس صورتِ حال کو پیش نظر رکھ کر یہ سوال ذہنوں میں کُلبلاتا ہے کہ کیا   ایسا بدزبان معاشرہ کسی طور بھی مسلمان، مومن، عاشقِ رسول ﷺ اور اُمتِ خیر کہلانے کا مستحق ہے؟ ہر گز نہیں۔

کیونکہ ہم نے ان منفی اور مکروہ رویوں کی دانستہ پرورش کی ہے۔ جو ہمارے اجتماعی خبث ِ باطن کی عکاسی ہیں۔  ہم الزام لگانے والوں سے کبھی یہ نہیں کہتے  کہ  یہ باتیں پبلک جلسوں، ہجوم اور میڈیا پر  اُگل کر  عوام کے ذہنوں میں زہر  کیوں بھر رہے ہو۔ جاؤ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بات کرو  بلکہ اس کے برعکس میں ہم سنی سنائی باتوں کو جو بلا تحقیق جھوٹ  ہوتاہے ، اُسے بڑے خضوع و خشوع سے  عوام  میں کیوں پھیلایا جا رہا ہے اور عام آدمی کو، بچوں کو بوڑھو ں کو، بیماروں کو اور عورتوں کو  ذہنی اذیت کیوں دی جا رہی ہے ۔  لیکن سیاسی کوے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کائیں کائیں  کوئی نیکی کا عمل ہے  جس پر وہ  صدقِ دل سے  ایمان رکھتے ہیں  کہ نتھو خان نے  فتو جان کے بارے میں جو  کچھ کہا ہے وہ لوہے پر لکیر ہے ، لیکن وہ یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ  ایک دوسرے پر لگائے الزامات اور بہتان  روح کے زخم بن جاتے ہیں  جو کبھی نہیں بھرتے ۔ جسے کسی عرب شاعر نے یوں بیان کیا ہے :

جراحت السنان لہ التیام

وما یلتام ما جرح اللسان

کہ نیزے کا زخم تو بھر جاتا ہے لیکن زبان کا دیا زخم کبھی نہیں بھرتا  اور ہمارے ہر معاشرتی طبقے اور ہر شعبہ ء زندگی میں اُن زخمیوں کی چیخ و پکار  سنائی دے رہی ہے اور اتنا شور ہے کہ کان پڑی آواز  تک سنائی نہیں دیتی  اور یہاں اس مقتل میں نماز اور مراقبہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔  مگر میں بڑا ڈھیٹ ہوں اور اسی مقتل میں چیخ و پکار کے درمیان  مراقبہ کرتا رہتا ہوں اور ایسا ممکن نہ ہوتا تو میں مرگیا  ہوتا۔ میرے اللہ! مجھے توفیق دے کہ میرا  مراقبہ جاری رہے:

پوری دنیا ہے جنگ کا میدان

ہر طرف قتلِ عام جاری ہے

آمنے سامنے ہیں صف آراء

لوگ جنگی مزاج رکھتے ہیں

قتل و غارت گری کا فیشن ہے

ہم انوکھا رواج رکھتے ہیں