نااہلی کیس: الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا
- منگل 09 / فروری / 2021
- 6480
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نااہلی کیس میں بار بار التوا مانگنے پر وفاقی وزیر فیصل واڈا پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے وفاقی وزیر فیصل واڈا کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ فیصل واڈا کے وکیل محمد بن محسن الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے اور محمد بن محسن کے معاون وکیل حسنین علی چوہان نے کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
معاون وکیل نے کہا کہ وکیل محمد بن محسن ہائی کورٹ کے کیس کے سلسلے میں لاہور میں ہیں اس لیے وہ سماعت پر پیش نہیں ہو سکے۔ فیصل واڈا کے وکیل کی عدم موجودگی پر الیکشن کمیشن نے برہمی کا اظہار کیا۔ بینچ کے رکن الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کسی عدالتی کارروائی سے مشروط نہیں۔ آپ پاور آف اٹارنی لے آئیں، ہم بیان ریکارڈ کرکے فیصلہ سنا دیتے ہیں۔
اس موقع پر چیف الیکشن کمیشنر نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی آپ کو جواب جمع کرانے کا آخری موقع دیا گیا تھا اور متعدد مرتبہ جواب جمع کرانے کا موقع دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن بینچ کے رکن ارشاد قیصر نے معاون وکیل سے سوال کیا کہ پاور آف اٹارنی نہ ہونے پر آپ کیس کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں۔ اور فیصل واڈا کے معاون وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا۔
الیکشن کمیشن نے کیس میں بار بار التوا مانگنے پر فیصل واڈا پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔ درخواست گزار قادر خان مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وکلا کو جواب جمع کرانے کے کئی مواقع فراہم کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کی امریکی شہریت ثابت ہونے پر سینیٹ رکنیت معطل کرچکا ہے اور فیصل واڈا نے بھی کاغذات نامزدگی میں امریکی شہریت چھپائی۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر امریکی شہریت پر وضاحت کا موقع دیا تھا، الیکشن کمیشن میں فیصل واڈا کے پاس امریکی شہریت تسلیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم فیصل واڈا کی جانب سے مزید التوا کی درخواستیں مسترد کرتے ہیں اور ان کے عدم تعاون پر الیکشن کمیشن تحقیقاتی اداروں کی مدد لینے پر غور کر رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر فیصل واڈا کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے نا اہلی کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔