2018 کے انتخابات چوری کرکے ملک کو مسائل کی طرف دھکیلا گیا: شاہد خاقان عباسی
- منگل 09 / فروری / 2021
- 4810
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سندھ میں آج گیس بھی نہیں ہے اور ہر طرف مسائل ہیں اور اس کی وجہ 2018 کے انتخابات کی چوری ہے۔
حیدر آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دھاندلی کے باوجود سب سے زیادہ ووٹ لینے والی تمام جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔ یہاں ایسی جماعتیں موجود ہیں جن کو ماضی میں غداراور ایجنٹ کہا گیا لیکن آج وہ سب جماعتیں قومی دھارے میں ہیں اور کہہ رہی ہیں پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے اور عوام کے مسائل کا حل آئین کی حکمرانی میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سوچ ہے جو پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جائے۔ یہ تمام جماعتیں اٹھارویں ترمیم میں شامل تھیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے زمانے سے ہم نے انتخاب بھی لڑا، میثاق جمہوریت بھی کیا، مخلوط حکومت بھی بنائی، جمہوریت کا سفر کیا اور آخر میں اٹھارویں ترمیم ہوئی جس کے نتیجے میں عوام کے حقوق صوبوں کو دیے گئے۔ جس کا ثمر عوام کو مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک کوشش ہے کہ ان ساری چیزوں کو واپس کیا جائے، صوبوں کے حقوق واپس لے کر ایک وفاقی نظام کے تحت کردیا جائے۔ ایسا کوئی معاملہ ہم پاکستان میں ہونے نہیں دیں گے۔ یہ جنگ پی ڈی ایم نے لڑنی ہے۔ پاکستان کے عوام اور صوبوں کے حقوق کی جنگ پی ڈی ایم لڑ رہی ہے اور سندھ کے حقوق پر شب خون مارنے نہیں دیں گے۔ جو حقوق اٹھارویں ترمیم میں ملے تھے اس کو واپس کرنے نہیں دیں گے جس پر تمام جماعتیں متفق ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں ایک صدارتی یا نیم صدارتی نظام واپس لایا جائے۔ پارلیمان اور عوام کے منتخب نمائندوں، وزیراعظم کو ایک غیر منتخب شخص کے تابع کیا جائے لیکن یہ شب خون کبھی کسی کو مارنے نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک نکتے پر تمام جماعتیں متفق ہیں کہ ہم نے پاکستان کو آئین کے مطابق چلانا ہے، جو جمہوریت کا سفر ہے وہ پارلیمان کا سفر آج مفلوج کردیا گیا۔ جس پارلیمان میں عوام کے مسائل کی بات نہیں ہوسکتی، آج ان سب مسائل کا حل پی ڈی ایم کے ایک نکتےپر ہے نظام کو واپس پارلیمانی جمہوریت کی طرف لے کر جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا آپ سے وعدہ ہے سندھ کے حقوق کو چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن اس کے لیے 26 مارچ کو سب کو نکلنا پڑے گا چند دنوں کی تکلیف ہے اور اسی لگن سے بہتر مستقبل ملے گا۔