واہ! محمد علی سدپارہ
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 09 / فروری / 2021
- 7490
سدپارہ بلتستان کے شہر سکردو کے نواح میں آباد ایک گاؤں کا نام ہے اور یہاں کے رہنے والے دوسرے علاقوں کے رہنے والوں کی طرح اپنے علاقے کی پہچان کے طور پر سدپارہ لکھتے ہیں۔ جو کہ ان کی اپنی سنگلاخ زمین سے محبت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔
یوں تو ہرکم ترقی یافتہ یا پھر گمنام جگہ سے نکل کر کسی بھی قسم کی شہرت پانے والے اپنے آبائی وطن یا علاقے کا نام بطور لاحقہ استعمال کرتے ہیں جو اس بات کی گواہی ہوتی ہے کہ انہیں اپنے خمیر میں گندھی مٹی سے کتنی محبت ہے۔ اور وہ اس کی گونج ساری دنیا میں سننا چاہتے ہیں۔ جذبات اور احساسات انتہائی نجی ہوتے ہیں کوئی کسی کے جذبات و احساسات تک لاکھ چاہنے پر بھی رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔محنت مشقت، لگن، جستجو، عزم اور حوصلہ کسی خاص علاقے یا مٹی کی میراث نہیں ہے۔یہ ہر انسان کو خدا کی طرف سے عطاکردہ گوہرنایاب ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کاستعمال ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ سدپارہ پہاڑوں میں بساایک گاؤں یا وادی ہے۔ دنیا کو ہمیشہ ایسے لوگ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیتے ہیں اور انہیں استعمال میں لاتے ہوئے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت کبھی کسی محنت کش کی محنت رائیگاں جانے نہیں دیتے اسی لئے محنت میں عظمت رکھی گئی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ سب ہی شہرت کی بلندیوں کو چھوپائیں ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بلندی کے قدموں سے ہی لوٹ جاتے ہیں۔
ابھی کچھ دن پہلے سماجی ابلاغ کے توسط سے محمد علی سدپارہ سے تعلق قائم ہؤا۔ وہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا پہاڑوں جیسی ہمت اور حوصلہ رکھنے والا کوہ پیما ہے۔وہ اپنے بیٹے اور دو غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ساتھ بغیر آکسیجن لئے کے ٹو کی چوٹی پر پاکستان کا جھنڈا لگانے کیلئے نکلا، یہ سبز ہلالی جھنڈے سے ہماری محبت کا ثبوت تھا کہ پھر ہم سماجی ابلاغ پر محمد علی سدپارہ کے پیچھے ہولئے۔ اس کا عزم اور حوصلہ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس چوٹی کو سر کر لے گا۔ شدید موسم میں ایسا فیصلہ کرنا اپنے پیشے سے جنون کی حد تک لگاؤ کا حوالہ تھا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قسمت ہمیشہ بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔ قسمت نے ساتھ دیا مختلف کوششوں کے بعد پاکستان کا سبز ہلالی پرچم کے ٹو کی چوٹی پر لہرایا گیا لیکن سفر میں موسم کی شدت میں مزید اضافہ ہوا اور محمد علی اپنے دو غیر ملکی ساتھیوں کے ساتھ برف کی گھاٹی میں کہیں گم ہوگئے۔
قدرت کے کام قدرت ہی جانتی ہے محمد علی کا بیٹا ساجد علی بخیر و عافیت پہنچ گیا اور اپنے ساتھیوں کے گم ہوجانے کی اطلاع دی جس پر اداروں نے غائب ہونے والے کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا اور ساجد علی کی نشاندہی پر مخصوص جگہوں کا معائنہ بھی کیا لیکن وہاں سے انہیں کسی قسم کے کوئی زندگی کے آثار نہیں دیکھائی دیے۔ موسم اپنی شدت پر ہے جس کی وجہ سے مزید تلاش کا سلسلہ منقتع کر دیا گیا ہے اور سرکاری سطح پر محمد علی سدپارہ اور ان کے غیر ملکی ساتھیوں کی موت کی تصدیق کردی گئی ہے۔ جیسا کہ درجہ بالا سطور میں آگاہ کیا ہے کہ ہم محمد علی سدپارہ کے نام سے واقف تھے۔اس کی وجہ پاکستان کی کوہ پیمائی میں ان کے کار ہائے نمایاں ہیں۔ تقریباً بارہ چوٹیاں وہ ہیں جو آٹھ ہزار فٹ بلند ہیں اور محمد علی کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ان میں سے آٹھ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا چکے ہیں۔
مغرب والوں کو وسائل کی کوئی کمی نہیں ہوتی انہیں صرف راستہ چاہئے ہوتا ہے جبکہ تیسری دنیا کے لوگ دووقت کی روٹی کمانے کیلئے اپنی زندگیاں ایسی کسی بھی مہم جوئی کی نظر کردیتے ہیں جن سے وہ اپنے گھربار کیلئے کھانے پینے کا بندوبست کرسکیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے اس پر پھر کبھی تیز روشنی ڈالیں گے۔ ہمیں نہیں معلوم پاکستان کی شان محمد علی سدپارہ کے ساتھ لاپتہ ہونے والے دو غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ممالک میں کس قسم کا رد عمل ہوگا لیکن پاکستان میں جہاں تک یہ خبر پہنچ رہی ہے وہاں ایک گہرا دکھ کا بادل چھاتا جا رہاہے۔
عنوان میں آہ! محمد علی سدپارہ لکھنا چاہتا تھا لیکن محمد علی سدپارہ کے مزاج کے خلاف لگا اور آہ کی جگہ واہ نے لے لی۔ وہ پہاڑوں کی سنگلاخی سے واقف ہوتے ہوئے خوف زدہ نہیں ہوا تو بھلا اس کے نام کے ساتھ آہ کیسے لکھا جاسکتا ہے۔ وہ عزم اور حوصلے کا ایک نیا میعار قائم کرگیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کیوں کہ میرا دل ماننے کو تیار نہیں ہے کہ انہیں برف سے ڈھکی سنگلاخ چٹانوں نے اپنے سینے میں دفن کر لیا ہے، اس وقت تقریباً پاکستان اور دنیا میں جہاں جہاں کوہ پیمائی کے شوقین بستے ہیں، وہ سب دعا گو ہیں کہ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کو زندہ سلامت واپس آجائیں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ ان کی زندگی کی نوید سنائی دے گی۔ اسے کسی دیوانے کا خواب کہیں یا کچھ بھی۔ ان گمشدہ لوگوں کو ایسے موسم کا سامنا ہے کہ جہاں زندگی منجمد ہوجاتی ہے۔ ہماری سماعتیں ایک بار پھر محمد علی سدپارہ کو سماجی ابلاغ پر اپنی خیریت کی خبر دیتے سن سکیں۔
ہم نے محمد علی سدپارہ کیلئے جو کچھ لکھا ہے سب کچھ قلم سے قلب تک ہے کسی خاص تگ و دو کی ضرورت نہیں پڑی۔