جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں پیسہ نہ چلتا: سپریم کورٹ
- بدھ 10 / فروری / 2021
- 5030
سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرنے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سینٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی جہاں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیے۔ اٹارنی جنرل نے سینیٹ میں ووٹنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں ووٹر کو مکمل آزادی نہیں ہوتی۔
جسٹس عمر عطابندیال نے اٹارنی جنرل کے دلائل پر کہا کہ آپ بھارتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں، بھارتی آئین میں خفیہ ووٹنگ کا آرٹیکل 226 موجود نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارتی آئین میں ہر الیکشن کے لیے خفیہ ہونے یا نہ ہونے کا الگ سے ذکر ہے جبکہ آرٹیکل 226 میں تمام انتحابات خفیہ ووٹنگ سے ہونے کا ذکر نہیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آئین بنانے والوں کو سینیٹ انتخابات کا معلوم نہیں تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اوپن ووٹنگ کی فروخت آج سے پہلے نہیں تھی۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 1973 میں تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ لوگ نوٹوں کے بیگ بھر کر لائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صورت حال اتنی بھی سادہ نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا لوگ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں یا اس کے منشور کو ووٹ دیتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ زیادہ تر لوگ لیڈر کی طلسماتی شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں، قائد اعظم کی شخصیت سے متاثر ہوکر لوگوں نے انہیں ووٹ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر پارٹی اور منشور دونوں کو ووٹ ملنا چاہیے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ طلسماتی چیز کیا ہے، کیا بہترین شخصیت اور خوش لباسی پر ووٹ دیا گیا۔ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ ووٹ پارٹی کو دیا جاتا ہے نہ کہ انفرادی شخصیت کو۔ لوگ انتخابات میں پوچھتے ہیں کہ کتنے وعدے پورے کیے۔ پارٹی منشور کو شائع کرنا قانونی طور پر ضروری ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں تو سیاسی جماعتوں کا ذکر ہے، اندرا گاندھی نے آئین توڑا تو لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو قانون کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا طریقہ کار رولز میں ہے، کیا اسپیکر کا انتخاب آئین کے بجائے رولز کے تحت ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب الیکشن کمیشن نہیں کرواتا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی رائے آنے پر چیئرمیں سینیٹ کا انتخاب بھی اوپن بیلٹ سے کروا دیں گے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والے کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی لیکن عوام کی نظر میں گر جانا سیاست دان کی بڑی ناکامی ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والا بد دیانت ہوتا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بد دیانت نہیں ہوتا تاہم پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے تو کھلے عام دے۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی اور کل اٹارنی جنرل حتمی دلائل دیں گے۔