قوم سے معافی مانگ کر جیو

نوعمری کی یادیں بڑی انمٹ ہوتی ہیں۔ درویش، مذہبی جنون سے سرشار دیوبندیت کے بارڈر کو کراس کرتے ہوئے ریاستِ مودودیت میں داخل ہو رہا تھا۔ پوری طرح فکر مودودی میں ڈوب کر ہر چیز کو اسلامی و غیر اسلامی کے چشموں سے دیکھتا اور جھانکتا۔

مولانا صاحب نے اپنے مخصوص نظریہ حیات کے تحت مغربی تہذیب اور اس کی اقدار پر تابڑ توڑ حملے کر رکھے تھے۔ سو اس نرالے تصور مکمل ضابطہ حیات کے زیر اثر مغربی جمہوری نظام ایک کافرانہ نظام لگا۔ دوسری طرف مولانا مفتی محمود تھے جن کا تعلق ایک ایسے قافلہ حریت سے تھا کہ جس نے انگریزوں کے خلاف پورے متحدہ ہندوستان میں آزادی کی طویل جنگ لڑی تھی۔ اس حوالےسے ظاہر ہے جمعیت علمائے ہند کانگریس جیسی ٹھیٹھ سیاسی ، عوامی اور جمہوری پارٹی کی اتحادی تھی سو اس کے کارکنان کی ٹریننگ عوامی و جمہوری جدوجہد کے اسلوب میں ہوئی تھی یہ ڈرائنگ روموں کے نہیں، گلی کوچوں کےلوگ تھے۔

مولانا محمود الحسن اسیر مالٹا اور مولانا حسین احمد مدنی جیسی قدآور بڑی شخصیات کے سیاسی شعور اور وزڈم سے کوئی بھی باخبر شخص کیسے انکار کر سکتا ہے۔ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ علامہ اقبال اور مولانا مدنی کے درمیان “قومیں اوطان سے بنتی ہیں ’’ جیسے حساس ایشو پر طویل مباحثہ بھی ہوا تھا۔ درویش اعتراف عظمت میں سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے اس لمحے کو یاد کرتا ہے جب انہی علامہ اقبال کے فرزند جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے والد مرحوم کے نام جو دوسرا خط ارسال کیا تو درویش کو اپنے گھر بلا کر تنقیدی جائزے کیلئے دکھایا۔ یہ خط ان کی آب بیتی‘‘ اپنا گریبان چاک”میں موجود ہے اور مولانا مدنی کی سچائی پر حرف آخر ہے۔

جب جنرل ضیاءالحق کا اسلامی مارشل لاء لگا تو ناچیز اس پس منظر کی فکری کشمکش سے گزر رہا تھا۔ مودودی صاحب کا انڈیلا ہوا مذہبی جنون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔جہاں بظاہر جمہوریت کا نام اور مطالبہ بھی موجود تھا لیکن اندر خانے اس کی جڑیں کاٹنا فریضہ دینی تھا۔دوسری طرف مفتی محمود جیسا ثقہ بند جمہوری لیڈر تھا جس نے اگر سویلین آمریت کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی تو عسکری آمریت کے خلاف بھی وہ طبل جنگ بجا رہے تھے اور تحریک بحالی جمہوریت کیلئے بے تاب تھے۔

مفتی صاحب سے تعلق اور محبت کی طویل داستان تھی۔ بہرحال ان حالات میں مفتی صاحب کے نام ایک بھرپور خط تحریر کیا جو آج بھی محفوظ ہے کہ مفتی صاحب آپ کو کیا ہو گیا ہے آپ کیوں اٹھتے بیٹھتے جمہوریت کا ورد کرتے اسے اپنی عبادت بنائے ہوئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں جمہوریت مشرق سے آئے یا مغرب سے دائیں سے آئے یا بائیں سے، ہم اس کے بغیر کچھ قبول نہ کریں گے۔ آپ اسلامائزیشن کا حصہ کیوں نہیں بنتے ہیں وغیرہ و غیرہ ۔ یہ سب یادیں ذہنی کینوس پر انہی مفتی محمود کے فرزند مولانا فضل الرحمن کی حیدرآباد میں تقریر سنتے ہوئے ابھر رہی تھیں جو کہہ رہے تھے کہ ’ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں ان کو مان کر قوم سے معافی مانگنی پڑے گی‘۔

مجھے یہ باتیں بھلی لگتی ہیں جب ہمارے ملک کی اسٹبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں اس میں نہ گھسیٹا جائے ۔ہم کب چاہتے ہیں کہ ہماری اسٹبلشمنٹ سیاست میں ملوث ہو، ہم کب چاہتے ہیں کہ وہ دفاع کے علاوہ کوئی اور کردار ادا کرے۔ لیکن کیا کریں غلطیاں ہوئی ہیں اور یہ غلطیاں ماننا پڑیں گی اور قوم سے معافی مانگنا پڑے گی۔اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔ میں پوچھتا ہوں اگر آپ نے نتائج تبدیل نہیں کئے تو آپ نے اسی رات کیوں کہا و تعزِمن تشاء واتذل من تشاء۔ آپ نے عزت و ذلت کے حوالے سے ان کو مبارکباد دی مجھے حیرت ہوئی جب کہا گیا کہ ہم نے تو دشمن کو شکست دی ہے یہ کون دشمن تھے؟ اس ملک کے عوام، انتخابات کسی اور نے جیتے ہیں تو آپ فتح کا اعلان کیوں کر رہے تھے اور پھر کہتے ہیں کہ ہمارا اس کامیابی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اب آپ نے عدالت کو بھی امتحان میں ڈال دیا ہے حالانکہ جہاں آئین خاموش ہو وہاں صرف پارلیمینٹ بول سکتی ہے۔

بھٹو مرحوم نےکہا تھا کہ میں تاریخ میں دھاندلی کروانے والے وزیراعظم کی حیثیت سے زندہ نہیں رہنا چاہتا، خواہشیں جیسی بھی مقدس ہوں ان سے حقائق تو مسخ نہیں کئے جاسکتے۔ آج آپ بھی خواہش کر رہے ہیں کہ ہمیں اس دلدل میں نہ گھسیٹا جائے لیکن کیا اس کا اولین تقاضا یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی حدود میں رہ کر وہ ذمہ داریاں ادا فرمائیں جو آئین پاکستان نے آپ کو تفویض کر رکھی ہیں ؟

تاریخی حقائق پر آئیں تو ایسی ایسی تلخیاں اور زیادتیاں ہیں کہ الامان والحفیظ۔ آج اگر ہماراحال بدتر ہے تو اس کی جڑیں اسی بدنما ماضی میں پیوست ہیں۔ یہاں عوامی یا انسانی حقوق کا احترام کب روا رکھا گیا؟کبھی اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے مذہبی جنونیت کو بھڑکا کر بے گناہ انسانوں کا قتل عام روا رکھا گیا اور کبھی دھونس، جبراور استبداد کے ذریعے عوامی آراء اور تمناؤں کا خون کیا جاتا رہا۔

کیا دنیا میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ کسی ملک کی 53فیصد اکثریت نے اقلیتی جبر سے خلاصی پانے کیلئے لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کئے ہوں جنہیں اپنا سمجھ کر گلے لگایا ہو۔ انہوں نے ہی کمر میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ کتنی تلخ یادیں ہیں اس ملک میں عوامی تمناؤں کے خون کی۔ سیاستدان اچھے ہیں یا برے آپ کو یہ خدائی اتھارٹی کس نے دے رکھی ہے ، عوامی قسمتوں کے فیصلے کرنے کی ۔اگر اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں اور منتخب پارلیمینٹ عوامی امنگوں کا ترجمان ادارہ ہے تو کسی بھی شخص یا محکمے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ عوامی شعور پر بوٹ یا بندوق رکھ دے۔ انسانیت کی اس سے بڑی توہین ہو ہی نہیں سکتی کہ کوئی طاقت کے زور پر عوامی تمناؤں کو کچلے ۔

ایک زمانہ تھا جب دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما تھا۔ عسکری طاقت کے زور سے بڑی بڑی سلطنتیں معرض وجود میں آتی تھیں۔ پھر وقت کے ساتھ انسانی شعور ترقی کرکے اس مقام پر پہنچا جہاں ذمہ دار مہذب آئینی ریاستیں وجود پذیر ہوتی چلی گئیں ۔ بلاشبہ جبرواستبداد پر مبنی سوچوں کی حامل کئی مملکتیں دنیا کے کئی خطوں میں آج بھی موجود ہیں لیکن انسانیت کا سفر آمریت و جہالت کے بالمقابل تہذیب و شعور اور انسانی عظمت و وقار کی جانب جاری و ساری ہے ۔

آخر ہمارا ملک ہی ایسا بدنصیب کیوں رہے، جبر دھونس اور دھاندلی جس کی پہچان ہو۔ اپنے سیاسی مخالفین پر گھٹیا ذہنیت کے الزامات عائد کئے جائیں اور اندھے احتساب کے نام پر قومی اتحاد و یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔ یوں ہم دنیا میں ڈیپ سٹیٹ کی مثال بن جائیں۔ اس سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے سابقہ کئے پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ کے لئے آئین، جمہوریت، انسانی حقو ق اور آزادی اظہار کی پاسداری پر ایمان لے آئیں۔