معصوم انسانی مسکراہٹ کا پیکر

14فروری ویلنٹائن ڈے‘ پوری دنیا میں محبت کے سمبل کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ محبت جو ایک پادری اور لڑکی سے شروع ہوئی تھی، اب محبوبہ اور بیوی سے بھی آگے بڑھتے ہوئے ماں باپ، بال بچوں دوست احباب سب کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

ویلنٹائن ڈے یا یوم محبت پر برس ہا برس سے بہت کچھ لکھا بولا جا رہا ہے۔ آج ہم نے سوچا کہ اس حوالے ایک الگ ریفرنس سے پیش کرتے ہیں۔انڈین فلم انڈسٹری کے پوری دنیا میں جو لافانی اثرات ہیں ان سے انکار کس کافر کو ہے۔ رنگ اور نور کی اس دنیا میں بڑے بڑے سٹار جگمگائے لیکن جو ملکوتی حسن اور فطری خوبصورتی مدھو بالا کے حصے میں آئی وہ بے مثال ہے۔ فرشتوں جیسی معصوم انسانی مسکراہٹیں بکھیرنے والی اس ساحرہ کی پیدائش 14فروری 1933 کو جی ہاں ویلنٹائن ڈے پر ہوئی اور محض 36سال کی عمر میں 23 فروری 1969 کو یہ مسکراہٹیں آنسوؤں میں ڈھل گئیں۔

مدھو بالا کا اصلی نام ممتاز جہاں بیگم دہلوی تھا جس کے اَبا افغانستان سے پشاور آ گئے تھے۔ بعد ازاں ان کے والد عطاء اللہ خاں تمباکو کمپنی میں نوکری ختم ہونے پر تلاش روزگار میں دہلی چلے گئے۔ مدھو کی ماں عائشہ دہلی کی تھیں۔ ان کے گیارہ بچے پیدا ہوئے اور مدھو کا پانچواں نمبر تھا۔ غربت بہت تھی باپ رکشہ چلاتا تھا اور پھر روزگار کی تلاش میں ممبئی چلا گیا۔ جہاں 9سال کی ممتاز جہاں کو لئے فلمی سٹوڈیوز کے چکر کاٹنے لگا۔ یوں بے بی ممتاز کو 1942 میں فلم بسنت میں چائلڈ سٹار کا رول مل گیا جہاں انہوں نے گایا تم کو مبارک اونچے محل ہم کو تو ہیں پیاری ہماری گلیاں..... انہی دنوں کسی جوتشی نے کہا کہ یہ لڑکی بہت نام کمائے گی، ناچے گائے گی مگر عمر پوری نہ کر پائے گی۔

کوئی خاص کامیابی نہ ملنے پر یہ لوگ دوبارہ دہلی چلے گئے مگر ممتاز پروڈیوسر دیوکا رانی نے انہیں ممبئی بلوایا اور کام دلوایا۔ انہوں نے ہی جس طرح یوسف خاں کو دلیپ کمار کا نام دیا اسی طرح ممتاز جہاں کو مدھو بالا کا نام دیا۔ مدھو بالا چٹی ان پڑھ تھیں محض دستخط کرنا سیکھا تھا۔ بعد ازاں اپنی ریاضت سے 1947 میں کیدار شرما کی مشہور فلم نیل کنول میں مدھو بالا کو راج کپور کے ساتھ ہیروئن لیا گیا جبکہ ان کی عمر محض 14سال تھی۔ یہی فلم ان کی اصل پہچان بنی اس کے گیت لازوال ثابت ہوئے۔ مگر انہیں شہرت اور مقبولیت کے آسمان پر بیٹھا دینے والی فلم تھی ’محل‘ جس کے ہیرو اشوک کمار تھے۔

فلم ’دلاری‘ کے گیت بھی سپر ہٹ تھے۔ درویش کو ذاتی طور پر بچپن سے لے کر اب تک فلم دلاری میں لتا جی کے گائے اور مدھو بالا پر فلمائے ہوئے ایک گیت نے ہمیشہ بڑا حوصلہ دیا وہ گیت تھا ’اے دل تجھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا/ دن زندگی کے جیسے بھی گزریں گزارنا.....‘ اپنے قاعدے اور کاپیوں میں یہ بول جگہ بہ جگہ تحریر کرتا جو یادوں کا حصہ ہے۔ مدھو بالا کی شخصیت ہی ایسی پُر کشش کہ جو بھی اُن کے قریب آیا پھر اُس نے دور جانا بادل نخواستہ ہی قبول کیا۔ کمال امروہوی نے مینا کماری پر ڈورے ڈالنے سے پہلے بمبئی ٹاکیز میں مدھو بالا کو شادی کے لئے منانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ حالانکہ وہ شادی شدہ اور عیال دار تھے اسی طرح راج کپور، اشوک کمار، رحمٰن اور بالخصوص دیو آنند بھی خوبصورت ساحرہ کی زلفوں کے اسیر رہے۔ فلم بادل اور برسات میں کام کر کے پریم ناتھ تو گویا ان کے اس قدر دیوانے ہوئے کہ شادی کے لئے رضا مند کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ شمی کپور تو ان کے سامنے ڈائیلاگ بولنا ہی بھول جاتے تھے اور اپنی ماں سے کہہ دیا تھا کہ اگر شادی کروں گا تو صرف مدھو بالا سے۔ یہی حال بھارت بھوشن کا تھا۔

مدھو بالا کا اصل معاشقہ دلیپ کمار سے ہوا۔ جو ان کے لئے بالآخر سوہان روح بن کر رہ گیا اور مدھو بھی دلیپ کی گہری محبت میں ڈوب گئی۔ ان کی پہلی ملاقات تو جوار بھاٹا کے سیٹ پر ہوئی تھی لیکن دیوانگی فلم ’ترانہ‘ سے پروان چڑھی اور عشق و محبت کی یہ داستان کوئی 9سال چلی۔ ایک طرح سے منگنی بھی ہو گئی اور دیگر تمام عاشق دلیپ اور مدھو کی محبت دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ دلیپ کمار کے ساتھ ان کی زبردست فلمیں آئیں۔ ’مغل اعظم‘ جیسے شاہکار کو انڈین سینما سے لگاؤ رکھنے والا کوئی شخص کیسے بھول سکتا ہے جسے ہالی ووڈ والوں نے ’بن حر‘ کے لیول کی فلم قرار دیا۔ جس کی شوٹنگ بوجوہ 9سال چلی یا ایک روایت کے مطابق 14 سال لٹکی رہی۔ پھر دلیپ کمار کے ساتھ اُن کی یادگار فلم ’امر‘ کے کیا کہنے۔ اس طرح سنگ دل.... امر کے سیٹ پر نمی کی دلیپ کمار میں دلچسپی اور محبت کو دیکھتے ہوئے مدھو کو تکلیف پہنچی تو کہا کہ اگر یہ آپ کو اتنے پسند ہیں تو میں بیچ سے ہٹ جاتی ہوں۔ اس پر نمی نے کہا ’نہیں مدھو جی مجھے دان میں پتی نہیں چاہئے‘۔ وہ دلیپ کمار کے لئے کہتی تھیں کہ فلمی سین میں بھی جب وہ محبت بھرے فقرے بولتا ہے تو وہ ایکٹنگ نہیں ہوتے، اس کے من سے نکلی ہوئی محبتیں اور دھڑکنیں ہوتی ہیں۔

فلمی زندگی کے علاوہ بھی دلیپ کمار اور مدھو بالا کے آپسی تعلقات اور ایک دوسرے کے لئے چاہتوں بھرے خیالات جمع کریں تو ایک علیحدہ آرٹیکل لکھنا پڑے گا۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ محبت کامیابی کی بجائے بالآخر ٹریجڈی کا شکار کیوں ہوئی؟درویش کی تحقیق کے مطابق یہ معصوم سی لڑکی دو پٹھانوں کی ضد اور انا کی بھینٹ چڑھ کر رہ گئی۔ سچائی تو یہ ہے کہ مدھو کا باپ عطاء اللہ خاں ایک حد درجے کا لالچی اور مفاد پرست شخص تھا جو اس سونے کی چڑیا کو ہمہ وقت اپنی کمائی کے لئے استعمال کرتا۔ اسے یہ خوف تھا کہ شادی کی صورت اس کی موج مستی چھن جائے گی۔ حالانکہ دلیپ کمار نے اسے یہ آفر بھی کی تھی کہ وہ مدھو کی شادی اس سے ہونے دے، میں فلم گنگا جمنا کی ساری کمائی تمہیں دے دوں گا۔ (جاری ہے)