چیف جسٹس کا فیصلہ مجھے نہیں ملا، میڈیا کو جاری ہوگیا: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  • ہفتہ 13 / فروری / 2021
  • 5180

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ترقیاتی فنڈ کیس میں 11 فروری کو جاری ہونے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل موصول نہ ہونے پر رجسٹرار آف سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے۔

اس فیصلہ میں چیف جسٹس پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق کیس کو نمٹاتے ہوئے تحریری فیصلے میں لکھا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق مقدمات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق اخباری خبر پر نوٹس لیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کی تھی۔ جسٹس عیسیٰ اس بینچ کے رکن تھے۔

اس کیس کو دوسری سماعت پر ہی وزیراعظم کی جانب سے خبر کی تردید کے بعد نمٹا دیا گیا تھا۔ تحریری فیصلہ بھی جاری کیا گیا جس کے موصول نہ ہونے پر جسٹس عیسیٰ نے اب خط لکھا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے 11 فروری 2021 کو مذکورہ کیس میں ایک حکم/فیصلہ  جاری کیا گیا تھا جو میڈیا کو جاری کردیا گیا۔ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ اب تک مجھے حکم/فیصلہ موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے لکھا کہ روایت ہے کہ بنچ کے سربراہ فیصلہ لکھنے کے بعد اسے اگلے سینئر جج کو بھیجا جاتا ہے اور اس کے بعد آگے۔ تاہم بظاہر جسٹس اعجاز الاحسن کو یہ موصول ہوگیا ہے لیکن مجھے نہیں ہوا۔ دنیا کو میرے دیکھنے سے پہلے ہی معلوم ہوگیا۔

جسٹس عیسیٰ نے اپنے خط میں سوال اٹھیا ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ کیوں مجھے حکم/ فیصلہ نہیں بھیجا گیا؟ کیوں سینئر جج کو فیصلہ بھیجنے کی روایت کو نہیں اپنایا گیا؟ کیوں اسے میرے پڑھنے سے قبل میڈیا کو جاری کردیا گیا۔ مجھے اس پر دستخط کرکے اتفاق یا اختلاف کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اسے میڈیا کو جاری کرنے کا حکم کس نے دیا ؟ مجھے کیس کی فائل دی جائے تاکہ میں بالآخر حکم/ فیصلہ پڑھ سکوں۔

عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ نے اراکین اسمبلی کو فنڈز جاری کرنے کے معاملے پر لیے گئے نوٹس پر سماعت کی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے اراکین میں فنڈز کی تقسیم کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ کسی ترقیاتی کام کے لیے قانون سازوں کو کوئی رقم نہیں دی جائے گی۔ تاہم بنچ کے رکن جسٹس عیسیٰ نے ایک واٹس ایپ پیغام کو پیش کرتے ہوئے اس یقین دہانی پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ انہیں ایک نامعلوم ذرائع سے یہ پیغام موصول ہوا تھا۔

پیغام میں قومی اسمبلی کے حلقہ 65 میں پاک پی ڈبلیو ڈی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر کے لیے حال ہی میں جاری کردہ بھاری رقم کا ذکر تھا اور یہ حلقہ ایک اہم اتحادی کا تھا۔ تاہم چیف جسٹس نے یہ کہہ کر معاملے کو نمٹا دیا تھا کہ جج اور وزیراعظم کیس میں فریق ہیں۔

جمعرات کو جاری ہونے والےعدالتی فیصلے میں چیف جسٹس نے لکھا تھا کہ چونکہ جسٹس عیسیٰ نے ذاتی حیثیت میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف درخواست دائر کی ہے لہٰذا غیرجانبداری اور بلا تعصب انصاف کی فراہمی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ وزیراعظم سے متعلق مقدمات سنیں۔