پاکستان سپر لیگ کے مقابلے: میدان میں یا سڑکوں پر؟
- تحریر شیخ خالد زاہد
- ہفتہ 13 / فروری / 2021
- 5320
ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ایک خواب بن چکا تھا۔ پاکستانی مشکلوں سے نکلنے کا ہنر بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کا ہنر بھی پاکستانیوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ مکمل تسلی اور ہر ممکن حفاظتی اقدامات کی بدولت پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا سلسلہ مختلف اقساط میں شروع ہوا۔ قانون نافذ کرنے والوں کی قربانیاں اس عمل کو مکمل کرنے میں نمایاں ہیں۔پاکستان کرکٹ بور ڈکے سابق چیف نجم سیٹھی کا کردار بھی بہت اہم رہا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ اپنے اداروں کی مشاورت اور باہمی ہم آہنگی سے ناممکن کو ممکن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں پاکستان سپر لیگ کا کارنامہ نمایاں ہے جس میں شامل ہو کر بین الاقوامی کھلاڑیوں نے پاکستان کی خدمات کو نا صرف سراہا بلکہ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کیلئے آئے۔ کرکٹ کی تقریباً مکمل بحالی ہو ہی جاتی اگر یہ کورونا درمیان میں نہ آتا۔
پاکستان میں بہار کے موسم کا آغاز تقریباً فروری میں ہوتا ہے شاید اسی لئے رنگا رنگ موسم میں رنگوں اور روشنیوں سے بھرپور کھیل کا بھی آغاز کیا جاتا ہے۔ بیس فروری کی تاریخ پاکستان سپر لیگ 6کے افتتاح کے لئے چنی گئی ہے اور افتتاحی تقریب عروس البلادشہر کراچی میں منعقد ہونی ہے۔ سات مارچ تک کل چونتیس میں سے بیس مقابلے کراچی میں ہی منعقد ہونے ہیں، باقی کے چودہ مقابلے جن میں فائنل مقابلے بھی شامل ہیں لاہور میں ہوں گے۔ دنیائے کرکٹ میں یہ دونوں شہر اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بیس فیصد خوش نصیب تماشائی یہ مقابلے دیکھ سکیں گے۔
پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دوسرے دور کا صحیح معنوں میں آغاز جنوبی افریقہ کی ٹیم کا دورے سے ہوا ہے۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم آزمائشی کرکٹ کی فہرست میں پاکستان آنے سے قبل پانچویں نمبر پر تھی لیکن اب پاکستان نے فہرست میں ترقی پاتے ہوئے پانچویں جگہ حاصل کرلی ہے اور جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان سے طے شدہ دو آزمائشی مقابلوں میں شکست کے باعث تنزلی کی وجہ سے چھٹے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ جنوبی افریقہ کی طاقتور ٹیم ایک قدرے کمزور ٹیم سری لنکا سے مقابلے جیت کر پاکستان پہنچی تھی جس کی وجہ سے ان کا اعتماد کچھ زیادہ ہوا ہوگا۔ جس کا انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔جبکہ پاکستان کی ٹیم ایک مضبوط ٹیم نیوزی لینڈ سے نیوزی لینڈ میں شکست کھا کر پاکستان پہنچی جس کا انہیں بہت فائدہ پہنچا۔ اس طرح وہ اپنے سے بہتر ٹیم جنوبی افریقہ کو شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اب بین الاقوامی مقابلوں کا سلسلہ انشا اللہ چلتا رہے گا۔ یکے بعد دیگرے ٹیموں کی آمد ورفت بحال ہوجائے گی۔ایک طرف جنوبی افریقہ کا دورہ اور پاکستان کی آزمائشی مقابلوں میں جیت تو دوسری طرف دنیا ئے کرکٹ کے شائقین میں گوادر کے خوبصورت اسٹیڈیم نے پاکستانی کرکٹ کو چار چاند لگادئیے ہیں۔
حالات کے پیش نظر پاکستانیوں نے حکومتی اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ وہ قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ ہو یا پھر کسی سانحے یا حادثے میں امداد کی اپیل ہویا پھر کسی بھی طرح سے عوام کے تعاون کی ضرورت پڑی،تاریخ گواہ ہے عوام کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ پاکستان میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کو صدارتی طرز کا حفاظتی حصار فراہم کیا جاتا ہے جو شاید ہی کسی اور ملک میں دیا جاتا ہو۔ ایسا کرنا پاکستان کیلئے ناگزیر تھا کیونکہ دہشت گردپڑوسی ملک پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کیلئے کچھ بھی کر گزرنے کیلئے تیار رہتا ہے۔پاکستان، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کبھی بد ترین دہشت گردی کی زد میں تھا، آئے دن دھماکوں میں خون میں لتھڑی لاشیں سے ملک میں سوگ کا سما رہتا تھا۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی زندگیوں کی پروہ کئے بغیر عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے دن رات ایک کر دیے۔ اور امن بحال کیا۔
اب صورتحال تسلی بخش ہوچکی ہے اور ممکن حد تک قابو میں ہے۔ دنیا جہان کے حفاظتی ماہرین ہمارے اداروں پر بھرپور اعتماد واضح کر چکے ہیں۔ اب جب کے سب کچھ موافق ہوچکا ہے تو پھر حالات آہستہ آہستہ معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے شہر کراچی میں جب کبھی کرکٹ کا میلہ سجے گا کراچی والے اپنی زندگیوں کا قیمتی وقت سڑکوں پر پھنسی جمی ہوئی گاڑیوں کی لائنوں میں گزاریں گے یا اسے بہتر کیا جاسکے گا۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی منظم ہیں یہ شہریوں کی ذمہ داری کیوں نہیں لیتے۔بد قسمتی سے کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم شہر میں ایسی جگہ واقع ہے جوتقریباً مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ تھوڑے وقت کیلئے اعلانیہ رکاوٹ تو قابل برداشت ہوسکتی ہے لیکن تمام راستوں پر رکاوٹیں رکھ کر بند کردینا کہاں کی منصوبہ بندی ہے۔
مقابلوں کے انعقاد کی منصوبہ بندی کے علاوہ شہری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو اول ترجیح میں شامل کریں کہ شہریوں کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس حفاظتی حصار میں دو بڑے ہسپتال بھی آتے ہیں جو بظاہر تو کھلے ہوتے ہیں لیکن ان تک رسائی کے راستے اتنی بری طرح سے بند ہوتے ہیں کہ ایک عام مریض کی بھی جان جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
ارباب اختیار پاکستان سپر لیگ 6 کے نتظامات کا دوبارہ جائزہ لیں اور راستوں کوحسب اعلان صرف ٹیموں کی آمد و رفت کے دوران بند کیا جائے۔ تاکہ عوام کا یہ تاثر یکسر غلط ثابت ہو کہ کرکٹ کے مقابلے میدانوں میں نہیں سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ پاکستانیوں کو اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھروسہ ہے کہ وہ اب دشمن کی ہر چال سے خوب واقف ہیں اور کسی قسم کی بد نظمی پیدا نہیں ہونے دیں گے۔