پاکستان میں روسی ویکسین کمرشل بنیاد پر منگوانے کا فیصلہ

  • اتوار 14 / فروری / 2021
  • 5130

پاکستان میں ایک نجی لیب بہت جلد روس کی تیار کردہ'اسپتنک فائیو' کورونا ویکسین درآمد کرے گی جسے کمرشل بنیادوں پر عوام کو لگایا جائے گا۔

خیال رہے کہ سرکاری سطح پر ویکسی نیشن کے علاوہ حکومتِ پاکستان نے نجی شعبے کو بھی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔  پاکستان کی بڑی نجی ٹیسٹنگ لیبارٹریز میں شمار ہونے والی چغتائی لیب کے ڈائریکٹر عمر چغتائی نے بتایا کہ انہیں امید ہے کہ ویکسین کی ہزاروں خوراکوں پر مشتمل پہلی کھیپ انہیں اگلے ہفتے تک مل جائے گی۔

وزیرِ اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق وہ اس معاہدے سے براہ راست آگاہ نہیں ہیں۔  پاکستان دنیا کے اُن پہلے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں نجی شعبہ  میں کمرشل بنیادوں پر ویکسین لگائی جائے گی۔

پاکستان میں کمرشل بنیادوں پر ویکسین کی فروخت اور ممکنہ طور پر زیادہ قیمت کی وجہ سے بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 22 کروڑ آبادی والا ملک جس کا بڑا حصہ کم آمدنی والے طبقات پر مشتمل ہے، یہاں ہر سب کے لیے ویکسین خریدنا ممکن نہیں ہو گا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا بھی اس فیصلے کے ناقدین میں شامل ہیں۔ اُں کا کہنا ہے کہ ایک جانب شہریوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کا حکومتی اعلان حوصلہ افزا ہے، تاہم نجی شعبے کو قیمت کا تعین کئے بغیر ویکسین لگانے کی اجازت دینے سے معاشرے میں عدم مساوات مزید بڑھے گی۔  پاکستانی حکومت نے رواں ماہ فروری میں چین کی طرف سے عطیہ کردہ 'سائنو فارم ویکسین' کی پانچ لاکھ خوراکیں لگانے کا عمل شروع کیا ہے۔ ابتداً ہیلتھ ورکرز کو یہ ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

روسی ساختہ اسپتنک فائیو ویکسین ان چار ویکسینز میں سے ایک ہے۔ جس کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت پاکستان میں دی گئی ہے جب کہ دیگر ویکسینز میں چین کی 'سائنو فارم'، 'کنسینو بائیو' اور 'ایسٹرا زینیکا' شامل ہیں۔

چغتائی لیب دیگر کرونا ویکسینز بھی درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم عمر چغتائی کے بقول اسپتنک فائیو پہلی ویکسین ہو گی جو کہ پاکستان میں دستیاب ہو گی۔ چغتائی لیب کی طرف سے ویکسین کی درآمدی لاگت اور اس کی قیمت سے متعلق نہیں بتایا گیا۔ تاہم لیب کا کہنا ہے کہ اسپتنک فائیو کی دنیا بھر میں سامنے آنے والی قیمت کے برعکس پاکستان میں قیمت میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف اسپنک فائیو ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی دو خوراکوں کی قیمت 10 ڈالر فی کس ہے۔ عمر چغتائی کا کہنا تھا کہ اس وقت ویکسین کی بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ طلب ہے اور ان کے بقول انہیں حیرانی نہیں ہو گی کہ اگر آج ویکسین کی قیمت زیادہ ہو۔ اگلے چند ماہ میں جب ویکسین باآسانی دستیاب ہو جائے گی تو ویکسین کی قیمت نیچے آ جائے گی۔