مواخذے کی تحریک ناکام، امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو بری کر دیا

  • اتوار 14 / فروری / 2021
  • 5970

امریکی سینیٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی دوسری کوشش ناکام ہو گئی ہے۔  مواخذے کی تحریک کو ایک سو میں سے 57 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔ دوتہائی اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے سابق صدر کو الزامات سے بری سمجھا جارہا ہے۔

سابق صدر پر امریکی دارالحکومت میں کیپٹل ہل پر چھ جنوری کو ہونے والے حملے پر  اکسانے کا الزام تھا۔ مواخذے کے مقدمے کو سینیٹ کے دو تہائی اراکین کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔  ہفتے کو 100 نشستوں والی امریکی سینیٹ میں اس معاملے پر ہونے والی رائے شماری کا نتیجہ 57 کے مقابلے میں 43 رہا۔ سینیٹ کے 50 ری پبلکن اراکین میں سے سات نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے 50 اراکین کے مؤقف کی حمایت کی۔

ہفتے کی صبح امریکی سینیٹ میں سابق صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں گواہان کو طلب کرنے کے معاملے پر رائے شماری ہوئی تھی لیکن پھر یہ طے پایا تھا کہ گواہان کو طلب نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل گواہان کو طلب کرنے پر رائے شماری کروانے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پانچ روز تک جاری رہنے والے مواخذے کے مقدمے کی کارروائی ابھی مزید جاری رہے گی۔

سینیٹ کی جانب سے الزامات سے بری کیے جانے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو ملکی تاریخ کا سب سے بدترین سیاسی انتقام قرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر کو اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔  ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو عظیم تر بنانے کی خوبصورت مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔

بیان میں سابق صدر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس آنے والے مہینوں میں آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے اور میں آپ کے ساتھ مل کر اس ملک کو تمام امریکیوں کے لیے عظیم تر بنانے کا مشن حاصل کروں گا۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ہفتے کی شب ایک بیان میں کہا کہ گو کہ سینیٹ میں حتمی ووٹنگ نے جرم کا تعین نہیں کیا لیکن اس الزام کی حقیقت پر کوئی تنازع نہیں ہے۔ حتٰی کے مچ مکونل جیسے ری پبلکن رہنما بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے فرائض پورے نہیں کیے اور وہ اخلاقی طور پر تشدد کو بڑھاوا دینے اور دارالحکومت پر چڑھائی کے ذمہ دار تھے۔

بائیڈن نے مزید کہا کہ ہماری تاریخ کے اس سیاہ باب نے ہمیں احساس دلایا کہ ہماری جمہوریت اب بھی نازک ہے، لہذٰا بطور امریکی اور خاص طور پر ہمارے رہنماؤں کی یہ ذمہ داری ہے کہ سچ کا دفاع کریں اور جھوٹ کو شکست دیں۔

سابق صدر کے وکلا کے دلائل کے مطابق کیپٹل ہل پر حملے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ وکلا کے مطابق سابق صدر کو چھ جنوری کے واقعات کے لیے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد موردِ الزام ٹھیرانا غیر قانونی ہے۔

ورمونٹ سے سینیٹر برنی سینڈرز نے دفاعی وکیل سے سوال کیا کہ کیا وہ سابق صدر کے اس دعوے پر یقین رکھتے ہیں کہ 2020 کا انتخاب وہ جیتے تھے۔ اس پر وین ڈر وین کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے اس معاملے میں غیر اہم ہے اور یہ کہ اس وقت معاملہ یہ ہے کہ آیا سابق صدر کے الفاظ ہجوم کو اشتعال دلانے کا باعث بنے۔

ٹرمپ کے وکلا نے سابق صدر کا دفاع کرتے ہوئے ڈیمو کریٹک اراکین کی اس دلیل سے اتفاق کیا کہ چھ جنوری کو ہونے والا تشدد غیر قانونی اور ناقابل قبول تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا چھ جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملے کے ذمہ داروں کو اکسانے میں کوئی کردار نہیں تھا۔

واضح رہے کہ سابق صدر نے اپنے مواخذے کی کارروائی میں شہادت کے لیے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز دونوں جماعتوں کو اپنے شواہد اور دلائل پیش کرنے کے لیے 16، 16 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔ لیکن سابق صدر کے وکلا نے کہا تھا کہ انہیں دلائل پیش کرنے میں ایک ہی دن لگے گا۔

دوسری طرف ڈیموکریٹک اراکین کی ٹیم نے جمعرات کو اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے۔  پراسیکیوشن ٹیم کا کہنا تھا کہ سابق صدر ٹرمپ نے چھ جنوری کو کیپٹل ہل کی جانب مارچ کرنے کے لیے اپنے حامیوں کو اکسایا تھا جس کے بعد ہجوم نے کانگریس کی عمارت پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے عمارت کی کھڑکیوں کو توڑا، افسران کو یرغمال بنایا اور محافظوں سے ہاتھا پائی کی۔

جمعرات کو اپنے اختتامی کلمات میں ریاست میری لینڈ سے کانگریس کے رکن جیمی راسکن نے سینیٹ کے 100 رکنی ایوان سے کہا تھا کہ وہ جیوری کے ارکان کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انہیں اس بارے میں اپنی فہم استعمال کرنی چاہیے کہ اس روز یہاں کیا ہوا تھا۔