چلتے پھرتے درخت کا سفرِ آخرت

آج میں بہت اُداس ہوں۔ مجھے لگتا ہے لاہور 1947  کے بعد  ایک بار بھراتھل پتھل کی زد میں آ کر  اُجڑ گیا ہے۔  اس عہد کا سب سے بڑا لاہور شناس، ایک چلتا پھرتا تُلسی کا بُوٹا، زاہد ڈار  پژمردہ  ہو کر زیرِ زمین  جا سویا ہے مگر وہ اپنی بہت قیمتی، نایاب اور لاجواب یادیں  لاہور کی شاہراہوں اور گلیوں میں رقم کرگیا ہے۔

 وہ مزاجاً ایک درویش تھا، ایک بنجارہ تھا، ایک سیلانی سادھو تھا ایک  بے خانماں بھکشو تھا ۔ اُس کا کل دنیاوی اثاثہ  تن کے کپڑے ،  قلم ،  کاغذاور تن کے کپڑے تھے۔  اُس کی زندگی میں کوئی آرزو نہیں تھی۔  وہ کچھ بننا نہیں چاہتا تھا۔ وہ جیسا ماں کی گود سے نکلا تھا جوں کا توں ہی زندگی کے جھولے میں جھولتا رہا۔  نہ شادی کی نہ نوکری۔  نہ گھر بنایا،  نہ  بچوں کاروگ پالا۔  اس کے برعکس زندگی بھر کتابوں، کہانیوں،  نظموں، غزلوں اور ناولوں  کے ذریعے  زندگی کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتا رہا۔

پاک ٹی ہاؤس اس کا ڈرائنگ روم تھا جہاں  لاہور کے بڑے بڑے ادیب، شاعر ، مصور،  دانشور  اور  گلوکار اُس کے مہمان ہوتے تھے مگر وہ  اس  دھنک رنگ سنگت میں بھی تنہائی کا مجسمہ بنا رہتا تھا۔ میں 1979 میں لاہور چھوڑ کر جہاں گردی کی مہم پر روانہ ہوگیا لیکن زاہد ڈار کی خوشبو ہر جگہ مجھ تک پہنچتی رہی ۔ اور بالآخر یہ خبر ملی ہے  کہ زاہد ڈار  امر ہو گیا ہے۔  وہ  اپنے  سن رسیدہ  بدن کی کھال  اُتار کر ایک نئے لباس میں  جلوہ گر ہو گیا ہے ۔  میرے  دل میں زاہدڈار زندہ ہے  کیونکہ  جو لوگ جو زندگی کو  در خُورِ اعتنا نہیں سمجھتے ،  زندگی کے  کبھی مقروض نہیں ہوتے۔ 

مجھے زاہد ڈار کے انتقال کی خبر گزشتہ روز فیس بُک کے ایک دوست کے ذریعے ملی  تو میں  اس انتظار میں  رہا کہ شاید پاکستانی ٹی وی چینلوں پر اُس کی وفات کا تذکرہ بھی اُسی طرح ہوگا جس طرح فیض، فراز  اور منیر نیازی کا ہوتا ہے۔ مگر دو دن سے اس انتظار میں رہ کر میں نے جان لیا کہ  زاہد ڈار  ادبی شو بزنس کا نہیں خالص ادب کا  نمائندہ تھا۔ چنانچہ   ادبی شو بزنس کی دنیا  میں اُس کا تذکرہ کیسے ہوگا۔  زاغ  و زغن کی دنیا میں فاختاؤں،  قمریوں  اور کوئلوں کا کیا کام۔ 

زاہد ڈار سے میری ملاقات پہلی بار  1965 کے سال میں ہوئی جب میں ستمبر کی جنگ کے بعد کراچی چھوڑ کر لاہور آگیا۔  میرا عارضی قیام کرشن نگر کی  ایک عمارت میں تھا جس  کے کمروں میں طلبا اور نوکری پیشہ لوگ مقیم تھے۔ زاہد ڈار کا  قیام بھی  اپنی بہنوں کے ہاں کرشن نگر میں تھا۔  چنانچہ رات کو پیدل کرشن نگر جانے والوں میں  میں بھی شامل ہوگیا۔ اس زمانے کا شبینہ لاہور ایک الف لیلوی بستی تھی۔ گول باغ  جو بعد میں ناصر باغ کہلوایا اور  ٹاؤن ہال کی عمارت سے  ملحقہ باغ  لاہور کے شب گردوں کا  چوپال تھا جس میں  ڈاکٹر سلیم واحد سلیم،  بے خانماں بیگم،  خواجہ تنویر ، اور ڈاکٹر عبد الغفار اپنی سبھا جمایا کرتے تھے۔

میں نے انہی دنوں  حلقہ اربابِ ذوق کے جلسے میں زاہد کو دیکھا ۔ تب حلقہ  اربابِ ذوق ایک ہی تھا اور ادبی و سیاسی میں تقسیم نہیں ہواتھا ۔  حلقہ جب تقسیم ہوا تو سالانہ انتخابات کے لیے شاہد محمود ندیم اور میں جائنٹ سیکریٹری کے امیدوار تھے۔  میں  ادبی و سیاسی اختلافات کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر حلقہ بٹ گیا تو  میں ادبی حلقے کا جائنٹ سیکریٹری اور سہیل احمد خان سیکریٹری بنے اورادبی  حلقے کے اجلاس  وائی ایم سی اے  کے میٹنگ روم کے بجائے  ٹی ہاؤس کی بالائی منزل پر ہونے لگے۔ ادبی حلقے میں انتظار حسین، منیر نیازی، شبیر شاہد،  سجاد باقر رضوی اور زاہد ڈار تھے۔  یہاں زاہد ڈار کو  اور قریب سے  دیکھنے کا موقع ملا۔ زاہد ڈار  ہر روز کرشن نگر سے اپنا  یومیہ خرچہ لے کر نکلتا تھا  اور پھر  رات گئے  کبھی ٹی ہاؤس سے اور کبھی ریگل چوک سے  پیدل چلتے ہوئے  مالو مال چلتا ہوا، فٹ پاتھ پر ہمکتا اور گٹکتا  راستہ طے کرتا۔ کبھی اس سفر میں اچانک امین مغل شال ہوجاتے، کبھی ناصر کاظمی  کی رفاقت بہم ہوتی اور  کبھی زاہد ڈار  تنہا  ہی  مال کے درختوں  کی سنگت میں گھر پہنچ جاتا۔ اس پر کبھی تنہائی کے دورے پڑتے تو  اسے  سرحد پار اپنا بچپن کا گھر یاد آ جاتا۔ اور ایک بار  ناسٹلجیا کے دورے میں زاہد دار سچ مُچ سرحد پار کرنے بارڈر پر پہنچ گیا  مگر سرحدی محافظوں نے اُس ڈی پورٹ کردیا۔  زاہد نے جب مادھو کے نام سے نظمیں لکھیں تو اس  میں  اپنی مٹی سے محبت ،  زندگی کی بے ثباتی اور  لا یعنیت کا عنصر غالب  نظر آتا تھا۔  اس کی نظم میں ایک چیخ سی سنائی دیتی تھی  جس میں سب سے غالب آواز  یہ تھی کہ:

رحمِ مادر سے نکلنا میرا بے کار گیا  

شاید یہ  سعدی کی آواز کی باز گشت تھی جنہوں نے کہا تھا:

مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے

اعجاز حسین بٹالوی مرحوم جو حلقے کے جنرل سیکریٹری تھے، زاہد ڈار کو ایک چلتے پھرتے درخت کی صورت  پر قیاس کرتے تھے۔لیکن زاہد ڈار کا خود اپنے بارے میں کیا بیان تھا، وہ اس کی نظم  میں  پنہاں ہے جس کا عنوان ہے:  اپنے آپ سے

خوف آتا ہے کہ لوگوں کی نظر سے گر کر

دورِ حاضر میں کوئی شخص جیے تو کیسے

شہر کی لاکھوں کی آبادی میں

ایک بھی ایسا نہیں جس کا ہو  ایمان  کسی

ایسی ہستی  یا حکایت  یاحقیقت  پر ہو

جس کی اس دور کے جبریل کے اخبار تلک

دسترس  اور  رسائی نہ ہو

میں نے لوگوں سے بھلا کیا سیکھابزدلی اور جہالت کی فضا میں جینا

دائمی خوف میں رہنا، کہنا:

سب برابر ہیں ہجوم

جس طرف جائیں  وہی رستہ ہے

میں نے لوگوں سے بھلا کیا سیکھا