میانمار میں عوامی احتجاج جاری، بڑے کریک ڈاؤن کا اندیشہ
- سوموار 15 / فروری / 2021
- 5310
میانمار کے کئی بڑے شہروں کی سڑکوں پر فوجی بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی دکھائی دے رہی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ فوج حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی قوتوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کی تیاریاں کر رہی ہے
گزشتہ روز مقامی وقت کے مطابق ملک بھر میں رات ایک بجے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی۔ شمالی ریاست کاچن میں گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولیاں برسائی تھیں۔ ملک بھر میں یہ مارشل لا مخالف مظاہروں کا مسلسل نواں روز تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے میانمار کی فوج پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے میانمار ٹام اینڈریوس نے کہا ہے کہ ایسے سخت اقدامات سے جرنیلوں میں بے چینی کی جھلک نظر آرہی ہے۔
ملک میں مغربی ممالک کے سفارتخانوں نے فوج سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کے دستخط شدہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سکیورٹی فورسز سے اپیل کرتے ہیں کہ مظاہرین پر تشدد سے گریز کریں۔ یہ لوگ اپنی منتخب حکومت کا تخت الٹائے جانے پر سراپا احتجاج ہیں۔
میانمار میں فوجی بغاوت سے آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت گِرا دی گئی تھی۔ ان کی جماعت نومبر کے انتخابات میں بڑی اکثریت کے ساتھ فاتح بن کر سامنے آئی تھی لیکن فوج نے انتخابی دھاندلی کy الزامات عائد کرتے ہوئے بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ آنگ سان سوچی فی الحال اپنے گھر میں زیر حراست ہیں۔ سینکڑوں سماجی کارکنان اور اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ملک بھر میں لگاتار نویں روز بھی ہزاروں شہری فوج کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ریاست کاچن کے مٹکینا شہر میں فوجی بغاوت کی مخالفت کرنے والے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں استعمال کی جا رہی ہیں یا اصل گولیاں۔ گرفتار کیے گئے افراد میں پانچ صحافی بھی شامل ہیں۔
رنگون میں فوجی بغاوت کے بعد سے پہلی بار بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی دیکھی گئی ہیں۔ یہاں ریلیاں بھی نکالی گئیں جبکہ دارالحکومت نیپیداو میں موٹر سائیکل پر سوار افراد کو قافلے کی شکل میں دیکھا گیا۔ برما میں ٹیلی کام آپریٹرز نے کہا ہے کہ اتوار سے پیر تک انٹرنیٹ سروس معطل رہیں۔
دارالحکومت میں ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپے مار رہی ہیں۔ اس ڈاکٹر کی حفاظت کے لیے ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کے کرفیو کے وقت پولیس اور فوجیوں کو موقع ملتا ہے کہ لوگوں کو گرفتار کر سکیں۔
رنگون میں امریکی سفارتخانے نے امریکی شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ کرفیو کے اوقات میں گھروں تک محدود رہیں۔ فوج نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے سات اہم رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ گرفتاری سے بھاگنے والے رہنماؤں کی مدد نہ کریں۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ اس فوجی بغاوت کو نامنظور کر رہے ہیں اور رات کے چھاپوں کے دوران اپنے برتن بجا کر سکیورٹی فورسز کے اقدام پر احتجاج کر رہے ہیں۔
فوج نے اس قانون کو بھی معطل کر دیا ہے جس میں 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک کسی شخص کو عدالت کی اجازت کے بغیر زیر حراست نہیں رکھا جا سکتا۔