فارن فنڈنگ کیس سے دستبردار ہونے کیلئے چیئرمین سینیٹ بنانے کی پیشکش ہوئی تھی: اکبر ایس بابر
- سوموار 15 / فروری / 2021
- 6210
پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اور پارٹی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں یہ کیس واپس لینے کے لیے دھمکیاں دی گئی اور چیئرمین سینیٹ کے عہدے کی پیشکش بھی ہوئی۔
الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی میں پی ٹی آئی فارنگ فنڈنگ کیس کی سماعت میں پیش ہونے کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کے پاس پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی دستاویزات خفیہ رکھنے کا اختیار نہیں۔ کمیٹی کو تحقیقات کرنے اور حقائق تلاش کرکے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 28-29 ماہ تمام دستاویزات خفیہ رکھنے کے بعد اسکروٹنی کمیٹی نے 16 اگست 2020 کو جو رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی اسے خود کمیشن نے مسترد کردیا تھا۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ دستاویزات خفیہ رکھنے کے عمل سے بہت شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے تمام عمل کی شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی ان تمام دستاویزات کو خفیہ کیوں رکھ رہی ہے، اسکروٹنی کمیٹی کا کام تحقیقات کر کے حقائق سامنے رکھنا تھا تو ثبوتوں کو خفیہ کیوں رکھا جارہا ہے۔
اکبر ایس احمد کا کہنا تھا کہ عمران خان کیوں پاکستان تحریک انصاف کو گزشتہ 6 سال سے این آر او دے رہا ہے اور اسکروٹنی کمیٹی سے این آر او لے رہا ہے۔ حقائق چھپا رہا ہے؟ کیوں کہ بہت بڑے پیمانے پر غیر قانونی فنڈنگ ہوئی ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے، یہ پیسا نکالا گیا ہے۔ وہ تمام تفصیلات ان اکاؤنٹس میں موجود ہیں جنہیں چھپایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کا مقابلہ کریں گے، ہم اسکروٹنی کمیٹی میں احتجاجاً بیٹھے ہوئے ہیں کیوں کہ یہ ہم نے یہ معاملات بارہا کمیٹی کے سامنے اٹھائے ہیں اور ان کا مقابلہ کریں گے جبکہ کمیٹی کے فیصلے کو بھی الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے تحریری احکامات موجود ہیں کہ تمام دستاویزات پبلک ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی پی ٹی آئی نے دستاویزات خفیہ رکھنے کی درخواست کی تھی جو مسترد ہوئی۔
ایک سوال کے جواب میں اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ میں انصاف کے حصول کے لیے پاکستان کے اداروں سے ہی رجوع کرسکتا ہوں۔ یہ فرسودہ نظام کے خلاف جنگ ہے، جب یہ کیس دائر ہوا تو عمران خان حکم امتناع کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب بھاگا۔ ایک لحاظ سے اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی۔ یہ عوام کا حق ہے کہ انہیں حقیقت کا علم ہو۔ میں نے یہ کیس صرف اس لیے کیا تھا کیوں کہ مجھے معلوم تھا اس ملک کے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہورہا ہے، میں اس دھوکے کا حصہ نہیں بن سکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا عمران خان کہتا ہے کہ مجھے مقابلہ کرنا آتا ہے جبکہ 6 سال سے یہ مقابلے سے بھاگ رہا ہے۔ اور امپائر کی انگلی پکڑ کر چھپ رہا ہے، جس دن امپائر کی انگلی اس سے الگ ہوگئی ایسے حقائق لوگوں کے سامنے آئیں گے کہ دنیا دنگ رہ جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب اسکروٹنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، اس میں جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کا کوئی ذکر نہیں تھا آج وہ اس عمل کو خفیہ رکھنے کے لیے اسے جے آئی ٹی کا رنگ دے رہے ہیں۔ جے آئی ٹی میں تو حساس اداروں کے افراد بھی ہوتے ہیں کیا کمیٹی میں وہ لوگ ہیں؟
ان کا مزید کہنا کہ ہم نے 6 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی کہ ان کا آڈٹ کیا جائے لیکن انہوں نے اس سلسلے میں دفتر خارجہ یا ان ممالک کو خط بھی نہیں لکھا۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ جب سے میں نے یہ کیس دائر کیا مجھے جان سے مارنے کی بھی دھمکیاں موصول ہوچکی ہیں جو الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ جن لوگوں نے پیغام پہنچایا ان کی نشاندہی کرکے سیکریٹری داخلہ کو خط بھی تحریر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ مجھ پر 3 کیس کیے گئے جن میں سے 2 میں جیت گیا جبکہ ایک واپس لے لیا گیا۔ مجھے ڈرانے دھمکانے اور اس کیس سے دستبردار کرنے کے لیے ہر قسم کی پیشکش کی گئی۔
اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں عمران خان کے ایک عزیز کی جانب سے مجھے یہ پیغام دیا گیا کہ آپ کو پارٹی کا کونسا عہدہ چاہیے نشاندہی کریں، وہ عہدہ آپ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر آپ چیئرمین سینیٹ بننا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی ہم تیار ہیں۔ جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ مجھے اس دن اللہ اٹھا لے جس میں میں آپ کے معاملات میں شامل ہوں۔