سینیٹ انتخابات ریفرنس: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو طلب کرلیا

  • سوموار 15 / فروری / 2021
  • 6000

چیف جسٹس گلزار احمد نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا و دیگر اراکین کو طلب کیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ عام تاثر ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کرپشن ہوتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ اس دوران اٹارنی جنرل، وکیل الیکشن کمیش و دیگر حکام پیش ہوئے۔ 5 رکنی بنچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے علاوہ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سندھ بار کونسلز سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل گئی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بار کونسلز کا مؤقف ہے کہ آئین کے خلاف کوئی کام نہ ہو۔ اس دوران جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بار کونسلز نے اپنی قراردادیں ججز کو بھی بھجوائیں۔ مقدمہ سننے والے ججز کو قراردادیں بھجوانا پروفیشنل رویہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ واضح کرنا ہوگا کہ بار کونسلز کا کام کہاں ختم ہوتا ہے اور عدالت کا کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بار کونسلز کو سب سے زیادہ خطرہ سینیٹ میں اوپن بیلٹ سے ہے۔ بار کونسلز کا مؤقف سن کر شدید مایوسی ہوئی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بار کونسلز کا مؤقف آزادنہ ہونا چاہیے نہ کہ سیاسی جماعتوں والا۔

ان کی بات پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بار کونسلز ماضی میں آئین اور قانون کی بالادستی کا کردار ادا کرتی تھیں۔ میں بار کونسلز سے درخواست کروں گا کہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سینیٹ الیکشن خفیہ ہو مگر شکایت پر جانچ ہونی چاہیے۔ کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات ختم نہیں کرسکتا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس کی روک تھام الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ شفاف الیکشن یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ آئین شفافیت یقینی بنانے کا کہتا ہے تو الیکشن کمیشن ہر لحاظ سے بااختیار ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انتحابی عمل سے کرپشن کے خاتمے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جہموریت کی بقا شفاف انتحابات میں ہی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اوپن بیلٹ میں بھی ووٹ خفیہ طور پر ہی ڈالا جائے گا۔ اس موقع پر بنچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ انتخابات والے رولز کا سینیٹ انتخابات پر اطلاق کیوں نہیں ہوتا۔ عام انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن ووٹوں کا جائزہ لیتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کا اطلاق ووٹ ڈالنے تک ہوتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن ووٹوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ڈالے گئے ووٹ کو آ رٹیکل 226 کے تحت تحفظ ہوتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے طور پر بھی تحقیقات کر سکتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اب تو انتخابی کرپشن کی ویڈیو بھی سامنے آ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو بتانا ہوگا کہ شفافیت کیسے یقینی بنائی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صرف شیڈول دینا کافی نہیں الیکشن کمیشن کو پولنگ اسکیم بنانا ہوگی، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں کرپشن کے خاتمے کا طریقہ کار موجود ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس تو جاری ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ 40 سال تک کتنے سینیٹرز ووٹوں کی خرید و فروخت پر نااہل ہوئے؟ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ وکیل نے کہا کہ ڈیٹا منگوا کر دیکھنا ہوگا کہ کوئی نااہل ہوا یا نہیں۔ تاہم وحیدہ شاہ کیس میں ای سی پی نے کارروائی کی۔ ٹھوس شواہد ملیں تو الیکشن کمیشن کارروائی سے بھاگے گا نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ عام تاثر ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کرپشن ہوتی ہے، الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل سے کرپشن روکنے کی اسکیم نہیں بنائی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سینیٹ انتخابات میں کرپشن روکنے کی پولنگ اسکیم بھی طلب کرلی، اب اس کیس کی مزید سماعت کل ہوگی۔