پارٹی اور کیمپین فنڈنگ پُراسرار کیوں؟
- تحریر
- سوموار 15 / فروری / 2021
- 4160
دیکھیں، نظام عدل سے گِلے اپنی جگہ مگر ہمارے ہاں ایک اہم مسئلہ انصاف کے بارے میں ہمار رویہ بھی ہے۔ ہم عدالت میں انصاف کے لئے نہیں جاتے، بلکہ اپنی مرضی کا انصاف ڈھونڈنے جاتے ہیں۔ معروف قانون دان اور سابق سینیٹر ایس ایم ظفر نے شرکا کے ایک سوال کے جواب میں ایک نہایت قابلِ غور نکتہ بیان کیا۔
یہ چند سال قبل کی بات ہے، سپریم کورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس کی سماعت ہو چکی تھی اور فیصلے کا اعلان متوقع تھا۔ لاہور کے چند دانشوروں اور ریٹائرڈ دوستوں نے ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا، مقصود یہ جاننا تھا کہ ممکنہ فیصلہ کیا ہو سکتا ہے؟ محفل کے کچھ شرکا کو ان کا جواب پسند نہیں آیا، وہ ان سے واضح طور پر سننے کی خواہشمند تھے کہ بقول ان کے وزیر اعظم بچ سکیں گے یا نہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کا کیس زیرِ غور ہے۔ بابر ایس اکبر کے بقول اس کیس کو بلاوجہ طول دیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے لئے بھی اب یہ کیس خصوصی توجہ کا مرکز ہے کہ بقول ان کے یہ کیس ٌ مدر آف منی لانڈرنگ ٌ ہے، اور یہ کہ اس کیس کے حقائق اس قدر واضح ہیں کہ پی ٹی آئی بطور جماعت ڈس کوالیفائی ہو سکتی ہے۔
ہمارے ہاں الیکشن فنڈنگ کے قوانین اور اخراجات کی حدود کے ضوابط موجود ہیں۔ البتہ ان قوانین اور ضوابط کی زِیر زَبر پیش کے مطابق ان کا اطلاق کا خیال اور ڈھنڈورا پیٹنے کا موقع تب ہی آتا ہے جب کسی سیاسی حریف کے ساتھ حساب کتاب برابر کرنے کا موقع سیاسی میدان میں نہیں ملتا۔اس اعتبار سے پی ٹی آئی پر فارن فنڈنگ کیس میں اپنوں اور مخالفین کی دلچسپی قابل فہم ہے۔ یہ فیصلہ آج نہیں تو کل ہو جائے گا۔ جس فریق کو اس فیصلے سے اتفاق نہیں ہو گا وہ اسے اگلے قانونی فورم پر لے جائے گا لیکن اس ساری بحثا بحثی میں ایک اہم نکتہ سیاسی گرد میں گم ہو رہا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آیا ہمارے ہاں الیکشن کیمپین چلانے کے لئے درکار پارٹی وسائل اور امیدواروں کو فنڈز اکٹھے کرنے کے ذرائع ہمہ گیر، شفاف اور واضح ہیں؟ اخراجات کی حدود کافی ہیں یا ناکافی؟
کسی بھی ادارے کو چلانے کی طرح سیاسی جماعت کو چلانے کے لئے ایک بھرپور تنظیم، اسٹاف، دفاتر اور لاجسٹکس کے لئے وسائل درکار ہو تے ہیں۔ الیکشن کے لئے پارٹی کو مزید وسائل درکار ہوتے ہیں۔ گزشتہ دو الیکشن کیمپین میں صرف میڈیا پر کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے اشتہارات اور اخراجات سب کے سامنے تھے۔ جلسے اور جلوسوں پر بھی پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ مگر یہ عجیب دو عملی ہے کہ الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے حسابات کا جائزہ لیں تو پارٹی، امیدواران اور بیشتر ارکان اسمبلی کی درویشی اور فقر پر ترس آتا ہے۔
تقریباٌ سبھی بڑی سیاسی پارٹیوں کی فنڈنگ ہمیشہ ایک پر اسرار انداز میں سرانجام پاتی ہے۔ جلسے جلوسوں پر بظاہر کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، کہاں سے آتے ہیں؟ کیسے آتے ہیں؟ واقفان حال کو سب معلوم ہوتا ہے مگر حسابات میں اندراج یا تو ندارد ہوتا ہے یا خانہ پوری کے لئے معمولی رقم کا انداراجج۔الیکشن کے دنوں میں پارٹی ٹکٹ کے خواہشمندوں سے پارٹی فنڈنگ کا تقاضا ہوتا ہے، ٹکٹ حاصل کرنے والے کو پارٹی کے لئے اکثر مزید حقِ خدمت بھی دینا پڑتا ہے۔ پارٹیاں موروثی اور خاندانی تنظیم کی مانند تشکیل ہیں، لہذٰا فنڈنگ کے جمع کرنے، خرچ کرنے اور اس سرمائے کے صرف پارٹی پر ہی خرچ ہونے کے معاملات پر مکمل رازداری اور پراسراریت کا پردہ پڑا رہتا ہے۔ اس پردے کے پیچھے کیا ہے جب کوئی پارٹی چھوڑتا یا نکالا جا تا ہے، اس وقت کچھ وقت کے لئے جوتیوں میں بٹنے والی دال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہنڈیا میں کیا اور کہاں کہاں سے آیا ورنہ ایک پُر اسرار رازداری کا آہنی پردہ پڑا رہتا ہے۔
سال ہا سال کا مشاہدہ سامنے ہے کہ سیاست کرنا اور الیکشن لڑنا سرمائے کا کھیل ہے۔ متوسط طبقہ کبھی شاید اس میدان میں ہوتا ہوگا جس کی مثالیں آخری بار 70 کے الیکشن میں دیکھی گئیں۔ مگر آج سیاست میں عام آدمی تو کجا ایک متوسط طبقے کا فرد الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ترقی یافتہ ممالک میں پارٹی فنڈنگ کی اہمیت اور شفافیت مسلّم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں فنڈنگ کے قوانین وضوابط بہت واضح ہیں، پارٹی کو ایک پبلک تنظیم کے طور پر چلانے کے لئے فنڈز جمع کرنے کے اسباب شفاف ہیں۔ پارٹیوں کی رکنیت بھی وسیع اور ہمہ گیر ہوتی ہے، پارٹی کے وسائل ذاتی ملکیت ہوتے ہیں نہ کہ پارٹی کے چند بنیادی ارکان کی جاگیر۔ اسی لئے ایک جمہوری عمل کے ذریعے پارٹی کی قیادت میں تبدیلی طے پا جاتی ہے۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں پارٹی اور الیکشن فنڈنگ کے معاملات میں شفافیت نہیں ہے، اس پر مستزاد فنڈنگ پر مکمل موروثی گرفت نے اسے چند شخصیات کے حصار میں دے رکھا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پارٹی اور الیکشن کیمپین فنڈنگ کو حقیقت آشنا کیا جائے ، شفاف کیا جائے، قابل احتساب بنایاجائے۔ اس عمل پر پڑے پرا سراریت کے پردے کو ہٹانے کی ضرورت ہے ورنہ پارٹی اور الیکشن فنڈنگ میں زیرِ زمین اور پس ِ پردہ سرمایہ لگانے والے حکومت سازی اور پالیسی سازی میں نادیدہ انداز میں قابض رہیں گے۔
ہمیں اس روئیے کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم عدالت میں انصاف کے لئے نہیں جاتے، بلکہ اپنی مرضی کا انصاف ڈھونڈنے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس میں اپوزیشن کی اس حد تک ہی دلچسپی ہے کہ شاید اس کے فیصلے سے مخالف چوپٹ جا گرے، جواباٌ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیا ں بھی اپنی فنڈنگ کا کھاتہ سامنے لائیں۔ اس مطالبے سے ان کی منشا بھی وہی ہے جو ان کے مخالفین کی ہے۔ مگر شاید کوئی ایک بھی پارٹی فنڈنگ کے ذرائع کی شفافیت، صحیح ریکارڈ اور زمینی حقائق سے مطابقت کے بارے میں جاری دو عملی اور تضاد کو دور کرنے کے لئے مکالمے اور قانون سازی پر سنجیدہ نہیں۔ ایسے میں حیرت نہیں ہوتی کہ سیاست ایک دائرے میں کیوں سفر کر رہی ہے۔