مفاد پرستوں کے سیاسی ہتھکنڈے
دوسری جنگ عظیم کی تیاریوں کے دوران غیر فطری اتحاد نے بہت زور پکڑا تھا۔ سیاست میں غیر فطری اتحاد سے مراد مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان ایسے اتحاد ہوتے ہیں جو کسی اصول اور نظریے کے بجائے صرف اور صرف سیاسی مفاد کی بنیاد پر ہو ۔
دوسری جنگ عظیم سے پہلے کئی اتحاد بنے اور ٹوٹے۔ ایک اتحاد جرمنی کے ہٹلر اور سوویت یونین کے سٹالن کے درمیان یوا۔ یہ دونوں بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے لیکن جانتے تھے کہ امریکہ ان دونوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے انہوں نے آپس میں اتحاد کر لیا جو ہٹلر کی غلطی سے ٹوٹ گیا۔ اور سٹالن نے امریکہ کے ساتھ اتحاد کر کے ہٹلر کو ختم کر دیا۔ ہٹلر کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مشرقی یورپ میں سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر رسوخ کو ختم کرنے کے لیے پولینڈ میں پیش قدمی کی کوشش کی تھی۔
سٹالن نے ہٹلر کو ناقابل اعتبار قرار دے کر وہ دوستی توڑ دی جسے توڑنے کے لیے برطانیہ سب سے زیادہ سرگرم تھا۔ ہٹلر اور سٹالن کی غیر فطری دوستی کا جب اعلان ہوا تو برطانیہ کے ایک اخبار نے ایک فقرہ ایجاد کیا تھا اور وہ تھا:
"You scratch my back I scratch your back."
سوویت یونین نے امریکہ کے ساتھ مل کر ہٹلر کو ختم کیا کیونکہ امریکہ اور سوویت یونین نہیں چاہتے تھے کہ یورپ میں جرمنی کی شکل میں ایک تیسری قوت پیدا ہو۔ بعد میں سوویت یونین نے ویت نام میں امریکہ کو زلیل کیا اور افغانستان پر سوویت حملے کو بنیاد بنا کر امریکہ نے سوویت کو ختم کر کے خود افغانستانن ہر قبضہ کر لیا۔ اس کا اتحادی پاکستان، یورپ کی مدد کرنے کی پاداش میں یورپ ہی کی نظر میں دہشت گردی کا اڈہ بن گیا۔
اس پس منظر میں جانے کا میرا اصل مقصد آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس سے نکلنے والی پہلے پیپلز پارٹی اور اس سے نکلنے والی پی ٹی آئی پھر مسلم کانفرنس سے ن لیگ اور اب سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات کی ن لیگ سے مسلم کانفرنس میں واپسی پر تبصرہ ہے۔ اس واپسی کا اصل مقصد بھی کوئی نظریہ یا قومی مفاد نہیں بلکہ ذاتی اور وقتی مفاد ہے۔
جس طرح ہٹلر اور سٹالن نے غیر فطری اور غیر نظریاتی بنیادوں پر اتحاد کیا تھا، اسی طرح آزاد کشمیر کا مفاد پرست ٹولہ بھی آئے روز اتحاد کرتا اور توڑتا ہے۔ سکندر حیات بذریعہ مسلم کانفرنس تحریک انصاف کی گود میں بیٹھ گئے ہیں۔ اقتدار کی خاطر اتحاد کر کے ان لوگوں نے دولت تو بہت کمائی ہے لیکن عوام کی اور خدا کی نظروں میں یہ گر گئے ہیں ۔ اقتدار کی خاطر اگر یہ زلت برداشت کرتے ہیں تو کریں لیکن یہ بے ہودہ اور جھوٹے دعوے بند کریں کہ یہ اتحاد تحریک آزادی کشمیر کی خاطر ہوا ہے۔
تحریک آزادی ایک مقدس مشن ہے جس کا زکر گند پھیلانے والے بے ضمیروں کی زبان پر ہم برداشت نہیں کریں گے۔