مناسب وقت آنے تک افغانستان سے فوج نہیں نکالیں گے: نیٹو چیف

  • منگل 16 / فروری / 2021
  • 4800

مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد نیٹو)کے سیکرٹری جنرل ینس استولتن برگ نے کہا ہے کہ مناسب وقت آنے سے قبل افغانستان سے فوج کا انخلا نہیں ہو گا۔

برسلز میں پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو چیف نے خبردار کیا کہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد افغانستان عالمی دہشت گرد تنظیموں کا محفوظ ٹھکانہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہماری موجودگی مشروط ہے اور کوئی بھی اتحادی ضرورت سے زیادہ وہاں رہنا نہیں چاہتا۔ تاہم ہم مناسب وقت آنے تک افغانستان سے نہیں نکلیں گے۔

نیٹو چیف کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے نیٹو میں شامل اتحادی ملکوں کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں افغانستان میں فورسز کی موجودگی اور امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ نیٹو چیف کے مطابق اس توازن کو یقینی بنانا ہے کہ افغانستان میں ضرورت سے زیادہ عرصہ قیام بھی نہ کیا جائے اور وہاں سے بہت جلد انخلا بھی نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مئی میں مکمل اںخلا کی ڈیڈلائن پر عمل درآمد سے قبل طالبان کو امن معاہدے کے تحت مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس میں دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات منقطع کرنا اور اُنہیں کسی بھی قسم کی حمایت نہ دینا شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک مشروط امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت غیر ملکی افواج کو افغانستان سے مئی 2021 تک انخلا کرنا ہے۔ اس عرصے کے دوران طالبان کی جانب سے غیر ملکی فورسز کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔  معاہدے کے تحت امریکہ نے ایک سال کے دوران افغانستان سے اپنے فوجیوں کی تعداد 13 ہزار سے کم کر کے 2500 کر دی ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصے کے دوران افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن نے طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر نظرثانی کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دیکھیں گے کہ آیا طالبان تشدد میں کمی کے اپنے وعدے کی پاسداری کر رہے ہیں یا نہیں۔

پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیٹو چیف نے طالبان کی جانب سے دشمنی کے خاتمے کے ارادے پر شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات انتہائی نازک صورتِ حال اختیار کر گئے ہیں اور افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جن میں طالبان کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو لازماً تشدد کا خاتمہ کرنا ہو گا اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کو منقطع کرنا ہو گا۔  دوسری جانب افغان رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان امن مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور وہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طاقت کے بل بوتے پر اقتدار پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

طالبان نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔ طالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر 29 فروری 2020 کو ہونے والا معاہدہ منسوخ کیا گیا تو یہ اقدام افغانستان میں جاری 20 سالہ جنگ میں خطرناک حد تک اضافے کا باعث بنے گا۔