الیکشن کمیشن انتخابات شفاف بنانے کے لئے ٹھوس تجاویز دے: سپریم کورٹ کاحکم
- منگل 16 / فروری / 2021
- 5930
سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس میں الیکشن کمیشن سے انتخابات میں شفافیت سے متعلق تجاویز طلب کی ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ اس دوران عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا اور دیگر اراکین کمیشن پیش ہوئے۔ 5 رکنی بنچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے ساتھ ساتھ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ چیف الیکشن کمشنر بتائیں گزشتہ روز کے عدالتی حکم پر آپ کا کیا جواب ہے۔ جس پر سکندر سلطان راجا کا کہنا تھا کہ ہم نے رپورٹ جمع کروادی ہے۔ عدالت نے الیکشن اسکیم سے متعلق سوال کیا تھا، کرپٹ پریکٹس کے تدارک کے حوالے سے کچھ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے کہ کرپٹ عمل کے خلاف کارروائی کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے انتخاب میں ہر قسم کی کرپٹ پریکٹس کو روکنا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے چیپڑ 10 میں درج ہے کہ آپ نے کرپٹ پریکٹس کو روکنا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس کے تدارک کے لیے کیا اسکیم بنائی ہے۔ آپ نے صاف و شفاف انتخابات کروانے ہیں اور الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کا تدارک کرنا ہے۔ انتخابات سے قبل اور بعد میں سیاسی مداخلت سمیت کرپٹ پریکٹس کے لیے گارڈ کا لفظ ہے۔
ریمارکس میں جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس کو گارڈ کرنے کا مطلب ہے کہ الیکشن سے پہلے حفاظتی انتظامات کیے جائیں، انتخابات میں سیاسی مداخلت اور پیسے کا استعمال ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن میکنزم بتائے کہ کیسے کرپٹ پریکٹس کو روکا جائے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی یہی سوال کیا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ انتخابات میں کرپٹ پریکٹس کیسے روکیں گے۔ الیکشن ایکٹ میں کسی بھی کرپٹ پریکٹس سے متعلق واضح نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پوری اسکیم بتائی جائے کہ انتخابات کیسے شفاف ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کے تحت تمام کرپٹ پریکٹسز کو روکتا ہے۔ انتخابات سے پہلے اور بعد میں شکایت پر کارروائی کی جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عدالت کو تحریری جواب جمع کروا چکے ہیں، انتخابات سے کرپشن کو ختم کرنے کا طریقہ کار ایکٹ میں موجود ہے، الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔
ان کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے کرپشن ہر حال میں روکنا ہوگی۔ آپ نے شاید ہمارا کل کا حکم سمجھنے کی کوشش نہیں کی، آپ کو معلوم نہیں پاکستان میں الیکشن کیسے ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس موقع پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔
عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مانٹرینگ اورپولیٹیکل فنانس ونگ کو مضبوط کیا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا آپ کے اقدامات انتحابی عمل سے کرپشن روک سکتے ہیں، کیا آپ کے اقدامات کافی ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا ووٹ ڈالنے کے بعد ووٹ کو ہمیشہ کے لیے خفیہ رکھا جاسکتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ماضی میں بیلٹ پیپر پر نشان لگانے کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ قابل شناحت بیلٹ پیپرز کی قانون میں گنجائش نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ووٹ ڈالنے کے بعد خفیہ نہیں رہ سکتا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن ارکان سے ووٹ نہ خریدنے کا حلف لے سکتا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے رشوت دینے پر شکایت درج کرانے کا کہا، کیا اُمیدواروں کو ایک دوسرے کے خلاف شکایت کا موقع دیا۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مانیٹرنگ ٹیمیں اور ڈی آر اوز شکایات کرتے رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے بیلیٹ پیپرز قابل شناخت نہیں ہوتے۔
عدالت عظمیٰ میں موجود اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے شفاف انتخابات کے لیے تجاویز الیکشن کمیشن کو دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی تجاویز کا جائزہ لیں گے۔ اسی دوران کیس کے فریق رضا ربانی نے مؤقف اپنایا کہ اٹارنی جنرل کی تجاویز پی ٹی آئی کی تجاویز تصور ہوں گی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ہوگا، وقت کم ہے قانون میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔
عدالت نے کیس کی سماعت کو کل تک کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے سے متعلق معروضات جمع کروائے۔