امریکہ اور افغان امن معاہدہ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 16 / فروری / 2021
- 5010
افغانستان کے بحران کے حل میں افغان معاہدہ اہم ہے۔ معاہدہ میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ ماضی میں امریکہ نے پاکستان کو باہر نکال کر افغان بحران حل تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، جو کارگر نہ ہوسکی۔
پچھلے دنوں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بھی ایک تحریری معاہدہ ہوگیاجو تاریخی وقوعہ تھا۔18برس کے بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کسی تحریری معاہدے کا حصہ بنے ہیں۔ سب سے اہم سوال افغانستان میں امن کی مکمل بحالی کا ہے۔کیونکہ مسئلہ محض افغانستان کا نہیں بلکہ ان کے داخلی حالات کی بہتری کا براہ راست تعلق پاکستان اور علاقائی استحکام سے بھی ہے۔
امریکہ کی نئی حکومت اور صدر جو بائیڈن سابق صدر ٹرمپ کی داخلی اور خارجی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کا اشارہ دے رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں میں افغانستان کا معاہدہ بھی شامل ہے۔دی افغانستان سٹڈی گروپ نے بھی اپنی سفارشات میں امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افغان امن معاہدہکو آگے بڑھانے سے قبل افغان طالبان پر دباؤڈالیں کہ وہ معاہدہ کی پاسداری کریں اور پرتشدد سیاست سے مکمل کنارہ کشی اختیار کریں۔امریکہ میں افغان امن معاہدہ کے حوالے سے مختلف سوچ کا ہونا فطری امر ہے۔لیکن اہم پہلو یہ ہے کہ اب تک جو معاملات آگے بڑھے ہیں ان کو مزیدکیسے آگے بڑھایا جائے۔جو چیلنجز، مسائل یا مشکلات افغان حکومت او رافغان طالبان کے درمیان موجود ہیں ان کو ختم کرنا ایک اہم سیاسی مرحلہ ہے۔
امریکہ کی نئی قیادت کے بیانات کی روشنی میں دو پہلو سامنے آئے ہیں۔ اول افغان حکومت نے بھی امریکہ کے سامنے اپنا یہ موقف پیش کیا ہے کہ افغان طالبان تشدد کی سیاست کو جاری رکھ کر معاہدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ دوئم امریکہ اور افغان حکومت کے طرز عمل پر جوابی ردعمل افغان طالبان نے بھی دیا ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں تشدد کو براہ راست طالبان سے جوڑنا درست نہیں۔ ہم معاہدے کے پابند ہیں اور اگر امریکہ یا افغان حکومت نے اس کی پاسداری نہ کی یا ہم پر بداعتمادی کی تواس کے سنگین نتائج ہوں گے۔افغان طالبان کا کہنا کہ امریکہ فیصلہ کرے کہ اسے جنگ اور امن میں کونساراستہ اختیارکرنا ہے۔
کچھ ماہ قبل تک ایسا لگ رہا تھا کہ امن معاہدہ تمام فریقین کی مدد سے نہ صرف آگے بڑھے گا بلکہ اس کے مثبت نتائج بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ لیکن امریکہ میں نئی سیاسی قیادت کے آنے کے بعد کچھ نئے شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں جو یقینی طور پر افغانستان میں جاری امن کی کوششوں کو پیچھے کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔امریکہ سمیت طاقت کے تمام مراکز کو یہ بنیادی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ جو اس وقت امن کی بات چل رہی ہے اس کو پیچھے کرنا اور مفاہمت کی بجائے مزاحمتی رویہ یا بداعتمادی کی صورتحال پیدا کرنا افغانستان سمیت خطہ کے امن کے لئے خطرناک ہوگا۔ جو معاملات طے شدہ ہیں ان سے انحراف کرنے یا اس میں کوئی بڑی نوعیت کی تبدیلی کرنے کی بجائے جو اس وقت مسائل ہیں ان کو بات چیت سے حل کیا جائے۔امریکہ کو ان تمام کرداروں سے خبردار رہنا ہوگا جو افغانستان میں موجودہیں اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بھی ہیں۔ اور جو افغانستان میں صورتحال کو بہتر بنانے کی بجائے اسے پیچیدہ اور خراب کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی ادارے انسٹی ٹیوٹ فارپیس کے مضمون میں سابق امریکی سفیر رچرڈ اولسن کے بقول امریکہ کی نئی سیاسی قیادت کو جوش یا جلد بازی میں فیصلہ کرنے کی بجائے افعانستان کے حل میں پاکستان کے ساتھ تعمیر ی تعلقات کو قائم کرنا ہوگا۔ پاکستان امریکہ کے درمیان تعلقات کی بہتری میں بھارت، چین او رافغانستان براہ راست اثر انداز ہوں گے۔اصل میں پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ہر سطح پر بھارت مخالفت کا سامنا ہے۔ بھارت افغانستان کے امن کو بھی پاکستان کی بڑی کامیابی سمجھتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ اس افغان معاہدے کو خراب کیا جائے۔ اس کے لیے بھارت اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کا باہمی گٹھ جوڑ بھی ہے۔ اسی طرح بھارت افغانستان کی سرزمین کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ایسے میں امریکی حکومت اور اسٹبلیشمنٹ کا کردار اہمیت کا حامل ہوگا کہ وہ پاکستان کو کس عینک سے دیکھے گا او راس کی ترجیحات میں بھارت او رپاکستان کہاں کھڑے ہوں گے۔ خاص طور پر افغان حل میں وہ کس حد تک بھارت کی سیاسی چالوں یا دباؤکا سامنا کرتا ہے۔
امریکہ کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ افغان طالبان اپنی ایک علیحدہ شاخت رکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں میں بھی وہ آزاد ہیں۔ پاکستان کا کردار ایک معاونت کار کا ہے۔ ہم طالبان سے بات چیت کرسکتے ہیں یا کسی فریق کو ان کے ساتھ بٹھانے پر راضی کرسکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا کہ ہم جو کچھ طالبان کو کہیں گے وہ من وعن ہماری بات ماننے کے پابند ہیں، درست نہیں ہوگا۔اسی طرح امریکہ کو ماضی کی طاقت او رجنگ پر مبنی پالیسی سے بھی سبق سیکھنا ہوگا کہ مسئلہ کا حل سیاسی ہے او راسے سیاسی بنیادوں پر ہی حل کرنا دانشمندی ہوگی۔اسی طرح افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار کنجی کی حیثیت رکھتا ہے او راسے ہر سطح پر تسلیم بھی کیا جانا چاہیے۔جو لوگ افغانستان کے حل میں پاکستان اور امریکہ میں بداعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ امریکہ کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں او ران سے امریکہ کو خبردار رہنا ہوگا۔
امریکہ کو اس بات کا بھی تجزیہ کرنا چاہیے کہ افغان حکومت کا افغان امن معاہدہ میں کیا کردار ہے۔ کیونکہ اب تک افغان حکومت پر دباؤ بھی امریکہ کا تھا جو افغان طالبان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ افغان حکومت نئی امریکی حکومت کو دیکھ کر جو سولوفلائٹ اختیار کررہی ہے وہ بھی معاملات میں خرابی پیدا کرنے کاسبب بن رہی ہے۔ افغانستان میں تشدد کی سیاست چل رہی ہے اسے محض افغان طالبان سے جوڑنا اور افغان حکومت کو سیاسی ریلیف دینا درست حکمت عملی نہیں۔ افغانستان میں داخلی عدم استحکام او رانتشار یا پر تشدد سیاست کی ایک بڑی وجہ افغان حکومت بھی ہے جو کئی محاذ پر کمزور ہے۔افغان حکومت میں ایسے کئی لوگ ہیں جو بھارت کی خواہش پر منفی سیاست کررہے ہیں اور اس امن معاہدے کو خراب کرنے کر رہے ہیں۔پاکستان تو داخلی استحکام کی جنگ لڑرہا ہے۔ اسے وہ افغان امن کے ساتھ جوڑ کر بھی دیکھتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی وعسکری قیادت کی ترجیح افغان امن معاہدے کی کامیابی میں ہے۔
اس صورتحال میں سب کی نظریں امریکہ پر ہیں کہ وہ سیاسی مہم جوئی اور ٹکراؤ یا نئے سرے سے کچھ کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی بجائے جو معاملات پہلے سے چل رہے ہیں اسی میں بہتری پیدا کرے۔ امریکہ کا کردار یہ ہی ہونا چاہیے کہ پاکستان سمیت وہ تمام فریقین کی مشاورت سے آگے بڑھے او رہر طرح کے ٹکراؤکی پالیسی سے گریز کرے۔