لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو اتنا بتادیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا مرگئے: مریم نواز
- بدھ 17 / فروری / 2021
- 5790
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ملک کے اداروں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں لیکن میں ان سے یہی کہتی ہوں کہ آپ کی بھی مائیں بہنیں اور اولادیں ہیں۔ خدا کے واسطے لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کو یہ بتادیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا مر گئے۔
اسلام آباد کے ڈی چوک پر لاپتا افراد کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ یہ لوگ کچھ نہیں کریں گے۔ رو دھو کر چپ ہوجائیں گے لیکن جو قیامت روز ان کے دل پر گزرتی ہے اسے تو قرار آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا انسان کی مجبوریاں اس کے فرض سے بڑی ہوتی ہیں۔ چاہے آپ سلیکٹڈ ہیں، آپ کو جس طرح بھی اقتدار میں بٹھایا گیا ہے لیکن ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ یہ آپ کا فرض ہے کہ اگر آپ ان کے پیاروں کو بازیاب نہیں کرسکتے تو آپ یہ تو کرسکتے ہیں کہ جن کے پیارے اس وقت ٹارچر سیلز میں ہیں، انہیں بتادیں کہ ان کے پیارے کہاں ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ میں ان ماؤں بہنوں، بیٹیوں کی بات سن کر یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر کوئی ہمارا پیارا آنکھوں کے سامنے اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے اور خود آپ اسے مٹی کے سپرد کر کے آتے ہیں تو رہتی زندگی تک اس کی یاد اور تکلیف انسان کے دل سے نہیں جاتی۔ لیکن ان انسانوں کا غم کیا غم ہوگا جو روز صبح اٹھ کر اپنے پیاروں کا انتظار کرتے ہیں اور رات کو سوتے وقت تک ان کی آنکھیں منتظر رہتی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر کسی بچے کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم یتیم ہیں یا ہمارے والد زندہ ہیں، جس ماں کو یہ معلوم نہ ہو کہ میرا بیٹا زندہ ہے یا مر گیا، کسی بیوی کو یہ پتا نہ ہو کہ وہ بیوہ ہے یا اس کا شوہر زندہ ہے۔ یہ اپنے گھروں میں باعزت طریقے سے رہنے والے افراد ہیں اور یہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، جہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ پہلے انسان کی باتیں بہت بڑی بڑی ہوتی ہیں لیکن جب اقتدار مل جاتا ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں اور مجبوریاں سامنے آجاتی ہیں۔ میں عمران خان کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وزیراعظم ہاؤس یہاں سے فاصلے پر نہیں۔ شاید 5 منٹ کا راستہ ہے اور ان بچیوں نے مجھے بتایا کہ یہ ایک ہفتے سے یہاں موجود ہیں تو آپ نے ایجنسیز کو جواب نہیں دینا، آپ اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں۔ یہ 22 کروڑ عوام آپ کی ذمہ داری ہیں۔
آپ ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتے، آپ کے اختیار میں کچھ نہیں لیکن آپ ان کے سروں پر ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں۔ یا آپ کو کہنے کے لیے صرف یہ بات ملی ہے کہ میں لاشوں سے بلیک میل نہیں ہوں گا۔ یہ لاشیں نہیں زندہ لاشیں ہیں، جیتے جاگتے لوگ ہیں، آئیں اور ان کی بات سنیں۔
مریم نواز نے کہا کہ آپ کی باتیں آپ کی قبر تک آپ کا پیچھا کریں گی۔ ایک وفاقی وزیر جن کا میں نام بھی لینا نہیں چاہتی، انہوں نے یہ کہا کہ وہ بلوچستان اور پنجاب کا موازنہ کررہے تھے۔ خدا کا واسطہ ہے، مظلوم کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا۔ سندھی پنجابی، کے پی کے یا بلوچستان کا کوئی بھی ہو، مظلوم مظلوم ہوتا ہے اس کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا۔ ان کے زخم پر نمک نہ چھڑکیں۔
مریم نواز نے کہا کہ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی یہی کہنا چاہتی ہوں کہ یہ آپ ہی کے ملک کے لوگ ہیں۔ آپ ہی کی مائیں بہنیں بیٹیاں ہیں۔ ان کے ساتھ بات کریں جو مسئلہ حل ہوسکتا ہے وہ حل کریں۔ جو افراد زندہ ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کریں اور جو زندہ نہیں انہیں کم از کم ان کی موت کی اطلاع دے دیں۔ روزِ محشر کو یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھیں، حکمراں کی پوچھ بہت سخت ہے۔
لاپتا افراد کے کمیشن کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ یہ کمیشن آنکھوں کو دھول جھونکنے کے مترادف ہوتے ہیں یہ صرف وقت لینے کا طریقہ ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں اس وقت سوائے اظہار یکجہتی کے کچھ نہیں کرسکتی، میں صرف انہیں یہ احساس دلاسکتی ہیں کہ یہ اکیلے نہیں۔ بلوچستان زخمی صوبہ ہے، ان کی شکایات ٹھیک ہیں اگر کوئی ناراض ہے تو اسے دھکا دے کر پرے نہیں کرتے بلکہ ساتھ ملانے کی کوششیں کرتے ہیں۔