جھنڈا کیس میں عدلیہ کا دوہرا معیار

ڈڈیال جھنڈا کیس کی سماعت کرنے والے جج سہیل اسلم نے راجہ تنویر احمد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ڈڈیال کچہری میں آنے والے حامیوں کی موجودگی پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے بحث نہیں سنی اور تنویر احمد کو واپس جیل بھیج کر 23 فروری کی تاریخ دے دی۔

پاکستان کی تاریخ میں متعدد بار جج صاحبان خود اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آئے جس کی بڑی مثال سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک ہے۔ پاکستان میں تو عدالتوں پر حملے بھی ہوتے رہے، ہم نے تو عدالت ہر ایسا کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ ایسے حملے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم  تو عدالت سے دور کچہری کی حوالات کے باہر ہر امن طور پر تنویر احمد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کھڑے رہے۔

پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی پولیس اور ہمارے درمیان کسی قسم کی تلخی پیدا نہیں ہوئی بلکہ پولیس کا رویہ بہت اچھا رہا۔ لیکن حیران کن طور پر جج صاحب نے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلوں کی موجودگی پر برہمی کا اظہار کیوں  کیا۔ یاد رہے جس جج نے تنویر جھنڈا کیس کی سماعت شروع کی تھی، اسے تبدیل کر کے پاکستان سے کشمیری مہاجرین کی سیٹ سے تعینات ہو نے والے جج کو مزید سماعت کے لیے لایا گیا ہے۔ اس پر کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔  پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار سے باہر جب کوئی ہوتا ہے تو جس چیز کو وہ اپنا حق سمجھتا ہے، اقتدار میں ا کر وہی حق وہ دوسروں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ارباب اختیار نے دہرا معیار اپنا رکھا یے۔

جھنڈا کیس ایک معمولی کیس تھا۔ یہ پولیس تھانے میں ہی حل ہو سکتا تھا لیکن اب اس کو طول دینے کی اصل وجہ سامنے آ گئی ہے۔ وہ یہ کہ اس کیس کو بنیاد بنا کر پس پردہ راجہ تنویر احمد کو واپس برطانیہ بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تنویر احمد کا کہنا ہے کہ وہ جموں کشمیر میں ہندوستان، پاکستان اور چین میں سے کسی کے جھنڈے کو بھی جموں کشمیر کا قومی جھنڈا نہیں مانتے۔ انہوں نے مقبول بٹ شہید چوک سے ایک غیر ریاستی جھنڈا اتار کر "بلی کے گلے میں گھنٹی باندھی ہے"۔   

تنویر احمد جیل کے ڈر سے سمجھوتہ کر کے واپس جانے کے لیے تیار نہیں۔ آزاد کشمیر عدلیہ کے پاس 6 ماہ کا وقت تھا۔ اس سے استفادہ کر کے اس کیس کو خوش اسلوبی سے نمٹا دینا چاہئے تھا۔ ایسا نہ کر کے آزاد کشمیر عدلیہ اور حکومت پاکستان خود عوامی کٹہرے میں آ کھڑی ہوئی ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ فہم و فراست اور حکمت و دانش کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کوئی بہتر فیصلہ کر کے آزاد کشمیر عدلیہ اپنا وقار بحال کرے۔ ہم جب عدالت سے مایوس ہو کر باہر نکلے تو آگے اسلام آباد سے آئی ہوئی تین رکنی بی بی سی کی ایک میڈیا ٹیم موجود تھی۔ جس نے مجھ سے پوچھا کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی طرف سے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے یہاں آزاد کشمیر میں لوگ پاکستان کی کشمیر پالیسی کے بارے کیا سوچتے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ لوگ سوچتے ہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو متحد کر کے بھارت کے خلاف جد وجہد کو مؤثر بنانا چاہئے تھا۔ مگر پاکستانی حکومت نے گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دینے کا اشو کھڑا کر کے اور آزاد کشمیر کے اختیارات کو محدود کر کے بھارت کے خلاف مرکوز کی جانے والی عوامی توجہ کا رخ اپنے خلاف موڑ لیا ہے۔

پاکستانی حکومت ایسا کر کے پاکستانی اور کشمیری عوام کے ساتھ ٹھیک نہیں کر رہی۔ لگتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بنانے والے پاکستان کے ہمدرد نہیں ہیں یا پاکستانی حکمران خود پاکستان کے مفادات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ پاکستان نے افغان جنگ میں بھی فرنٹ سٹیٹ کا کردار ادا کیا مگر غلط  خارجہ پالیسی کی وجہ سے افغانستان آج پاکستان کا مشکور ہونے کے بجائے اگر دشمن نہیں تو واضح طور سے ناراض تو نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ تنویر احمد نے بی بی سی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے اور ان کو برطانیہ واپس چلے جانے کے لیے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے عوامی سروے کے زریعے عوام شعور اجاگر کر رہے تھے اور یہی ان کا اصل جرم ہے۔

برطانوی حکومت کے کردار کے بارے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں تنویر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا مگر اب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے برطانوی حکومت کو مثبت اور موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں یہی وہ مثبت سوچ ہے جس کے بل بوتے پر افراد اور قوموں کو مسائل اور تنازعات حل کر کے دنیا میں امن کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے۔ اور دشمنیاں دوستی میں بدل کر بہتر دنیا کا وہ خواب پورا کیا جاسکتا ہے جس کے دنیا کے سارے انسان مستحق ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کو خود بھی یہ سوچنا چاہئے کہ کیا انہوں نے آپس میں  صرف دشمنی پالنے کے لیے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔ اور ہم ریاست جموں کشمیر کے منقسم لوگوں کو بھی  74 سالہ تقسیم کی تاریخ سے سبق سیکھ کر ریاستی بیانیہ پروموٹ کرکے کسی حل کی طرف بڑھنا چاہئے۔