مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان انتقال کرگئے
- جمعرات 18 / فروری / 2021
- 4610
مسلم لیگ ن کے سنیئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان طویل علالت کے بعد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب وفات پا گئے۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر عفنان اللہ نے ٹوئٹر پیغام میں ان کی وفات کی تصدیق کی۔
68 سالہ سینیٹر مشاہد اللہ خان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کے بعد مشکل صورتحال میں مسلم لیگ ن کے سینٹرل سیکریٹری کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران وہ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی بھی رہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں بے باک اندازِ بیان اختیار کرتے تھے۔
2015 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت کے دوران جب وہ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی تھے تو انہیں سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ظہیر السلام کے بارے میں بیان دینے پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
ان کی وفات کو مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ان کی وفات کی خبر پر سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سیاست اور جمہوریت کے لیے ان کی خدمات اور نڈر انداز بیان پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ان کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ ’مشاہد اللہ خان، نواز شریف کے وفادار اور غیر معمولی ساتھی ہمیں چھوڑ گئے ہیں۔ میں اس افسوسناک خبر کو سن کر صدمے میں ہوں۔ ان کے پدرانہ انداز اور محبت کو کبھی بھول نہیں پاؤں گی۔ ایک بہت بڑا صدمہ۔ خدا انہیں جوار رحمت میں رکھے۔آمین۔‘
مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال نے اپنے پیغام میں کہا پاکستان مسلم لیگ ن ایک بہادر، وفادار اور انتہائی زیرک پارلیمینٹیرین سے محروم ہو گئی۔ مسلم لیگ کے رہنما سنینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ ’وہ متفرق خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ ایک جانے مانے ٹریڈ یونینسٹ تھے، پی آئی اے کی ایئر لیگ کے بانی، انہوں نے کراچی کے ایڈمنسٹیٹر اور بطور وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی بہت خوب کام کیا۔ انہوں نے نئے پروگرامز شروع کیے۔ ان کا بیٹا عفنان اللہ ایک بہت قابل سکالر ہے۔
مشاہد اللہ خان 1953 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی اورپھر کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔ اس وقت وہ سینیٹ کی ایوی ایشن کمیٹی کے چیئرپرسن تھے۔ وہ 1975 سے 1997 تک پی آئی اے کے ریفک سپروائزر رہے۔ 1997 سے 1999 تک افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق وزارت میں ایڈوائزر رہے۔ 1999 میں کراچی میونسپل کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر فائز ہوئے لیکن پرویز مشرف کے مارشل لا لگانے پر، تین ماہ بعد ہی انہیں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا۔ وہ 2002 سے لے کراب تک مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر تھے۔