سینیٹ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی حکومت کو سرپرائز دے سکتے ہیں

  • جمعرات 18 / فروری / 2021
  • 6450

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم  اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست کے لیے پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اعتراضات ریٹرننگ افسر نے مسترد کر دیے ہیں۔

اسلام آباد کی جنرل نشست پر یوسف رضا گیلانی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار ہیں اور ان کے اس نشست پر انتخاب کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر کامیابی کی صورت میں یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا الیکشن لڑانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

یوسف رضا گیلانی کے کاغذاتِ نامزدگی کے خلاف اعتراضات پر ریٹرننگ افسر نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد انہیں سینیٹ کا الیکشن لڑنے کا اہل قرار دیا ہے۔  فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی پانچ سالہ نااہلی ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔ تاہم زیرِ التوا مقدمات پر کسی کو الیکشن لڑنے سے روکا نہیں جا سکتا۔

تحریک انصاف کی جانب سے فرید رحمان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے۔ وزیرِ اعظم کے حلف کی خلاف ورزی کرنے پر نااہلی تاحیات ہے۔ ان کے خلاف نیب میں ریفرنس زیر التوا ہیں۔ اس لیے اُنہیں سینیٹ انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کا نام سینیٹ کی نشست کے لیے دیے جانے کو اپوزیشن کی سیاسی چال قرار دیا جا رہا ہے۔  یوسف رضا گیلانی اس انتخاب میں حکمران جماعت کے عبدالحفیظ شیخ کے مدمقابل ہوں گے۔ عبدالحفیظ شیخ، یوسف رضا گیلانی کے دورِ حکومت میں اُن کے وزیرِ خزانہ تھے اور  پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹر بھی بنے تھے۔ لیکن موجودہ الیکشن میں وہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے اپنے سابق باس کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔

یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے الیکشن لڑوانے پر تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کا اسلام آباد سے سینیٹ الیکشن لڑنا خاصا معنی خیز ہے۔ اپوزیشن نے باقاعدہ اس پر ورکنگ کے بعد ہی انہیں اس نشست پر کھڑا کیا ہے۔ اُن کے بقول یوسف رضا گیلانی حکمران جماعت کو سرپرائز دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں سینیٹ کی دو نشستیں ہیں جن میں سے ایک جنرل اور ایک خواتین کی نشست ہے۔ جنرل نشست پر یوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ کے درمیان ہی اصل مقابلہ ہوگا۔ اس نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اسلام آباد کے ماضی کے ایم این اے طارق فضل چوہدری کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ لیکن امکان ہے کہ وہ اپنا نام واپس لے لیں گے۔

اسلام آباد سے جنرل نشست پر اگر یوسف رضا گیلانی کے لیے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو دستبردار کروایا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی بھی خواتین نشست کے لیے (ن) لیگی امیدوار کی حمایت کرے گی۔ اسلام آباد کی ان دو نشستوں کے لیے قومی اسمبلی کے 342 ارکان ووٹ دیں گے۔ اس وقت حکمران جماعت کے اتحادیوں کے ساتھ 180 ووٹ ہیں جب کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے پاس 158 ووٹ ہیں۔ جماعت اسلامی کے چار ووٹ  خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔

خفیہ رائے شماری کی صورت میں 15 ووٹ کا فرق آنا مشکل  نہیں۔ اس نشست پر حکومت کے لیے اپ سیٹ ہونے کا بھی امکان ہے۔ یوسف رضا گیلانی اپنے دورِ حکومت میں ارکان قومی اسمبلی کے لیے خاصے فیاض رہے اور موجودہ اسمبلی میں اپوزیشن کے علاوہ حکمران جماعت کے کئی ارکان سے ان کے ذاتی مراسم  ہیں۔

پیرپگاڑا خاندان کے علاوہ، سندھ اور خیبرپختونخوا میں بھی ان کی رشتہ داریاں ہیں۔ اس تمام صورتِ حال میں یوسف رضا گیلانی حکمران جماعت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اسلام آباد کی نشست پر حکومت کے لیے اپ سیٹ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب عبدالحفیظ شیخ کے نام پر پی ٹی آئی کے بعض لوگوں کو بھی اعتراضات ہیں اور خفیہ رائے شماری کی صورت میں پیپلز پارٹی فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کرے گی۔