پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) خفیہ ووٹنگ کے معاہدے سے مکر گئیں: چیف جسٹس
- جمعرات 18 / فروری / 2021
- 4320
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ افسوس ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنے ہی معاہدے سے مکر گئیں۔ وہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کررہے تھے۔
دونوں جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں خفیہ ووٹنگ ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ میثاق جمہوریت کی دستاویز اب بھی موجود ہے لیکن اس پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اب اس پر عمل نہیں کررہیں۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ اس دوران اٹارنی جنرل و صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل و دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سینیٹ ووٹرز کے لیے ہدایت نامہ تیار کیا ہے؟ گزشتہ انتخاب کے لیے ہدایت نامہ تیار کیا گیا تھا تاہم ہمیں ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ہم نے ہدایت نامہ تیار کیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے عدالت میں دلائل دینا شروع کیے اور کہا کہ ہدایت نامے میں متناسب نمائندگی اور خفیہ ووٹنگ کا ذکر ہے۔ ووٹ ڈالنے کا عمل خفیہ ہونا چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینیٹ انتخابات پر نہیں ہوتا۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں۔ جس پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے کھل کر دیں، سزا صرف ووٹوں کی خرید و فروخت پر ہو سکتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ قانون ہمیشہ معاشرے کے تجربات سے بنتا ہے۔ کوئی برا واقعہ ہو تو اس کے حوالے سے قانون سازی ہوتی ہے، موجودہ حالات میں شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اراکین اسمبلی کو سیاسی جماعتیں لے کر آتی ہیں، جہنیں مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
احمد اویس نے کہا کہ شفافیت کے لیے ہر چیز خفیہ رکھنا لازمی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 59 میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 59 سینٹ کے حوالے سے ہے۔ بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے دلائل شروع کیے اور بتایا کہ ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال ہی غیر مناسب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اپنے سر پر بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ ہارس ٹریڈنگ کا سب نے سنا ہے کسی کے پاس شواہد نہیں ہیں۔ اخباری خبروں اور ویڈیوز تک ہی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا کبھی سینیٹ کا الیکشن چیلنج ہوا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت کو سیاسی سوالات سے دور رہنا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین بذات خود بھی ایک سیاسی دستاویز ہے۔ آئینی تشریح کرتے وقت عدالت سیاسی کام ہی کر رہی ہوتی ہے۔
بنچ کے سربراہ کے ریمارکس کے بعد ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام شفاف الیکشن کے لیے انتظامات کرنا ہے۔ پولنگ بوتھ میں نہ رشوت چلتی ہے نہ اُمیدوار سے کوئی رابطہ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا الیکشن کے نتائج کے بعد ووٹ کا جائزہ لیا جاسکتا ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ گنتی کے وقت ووٹ کو دیکھا جاتا ہے تاہم گنتی کے وقت ووٹ ڈالنے والے کا علم نہیں ہوتا۔ آئین ووٹ ڈالنے والی کی شناحت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کیا اوپن بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہوجائے گی؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اوپن بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہوگی یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سینیٹ انتخابات آرٹیکل 226 کے تحت ہوتے ہیں جو انتخابات کو خفیہ رکھنے کا پابند کرتا ہے۔ آئین کے تحت ہونے والے انتخابات خفیہ ہوتے ہیں۔
کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت ترمیم چاہتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے اس کی وضاحت کردی ہے، کابینہ کے پاس یہ معاملہ تھا لیکن انہوں نے بوجھ خود نہیں اٹھایا۔ سارا بوجھ انہوں نے عدالت پر ڈال دیا، سپریم کورٹ کا دائرہ ایڈوائزری ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ سلمان طالب الدین نے جواب دیا کہ عدالت صرف اٹھائے گئے سوالات کے جواب دے سکتی ہے۔ اب بہت ساری باتیں ہورہی ہیں، بہت کچھ سنا جارہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ان باتوں سے غرض نہیں۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ مکمل سیاسی معاملہ ہے۔ عدالت اس سے پہلو تہی کرے، عدالت خود کو سیاست سے بالاتر رکھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین میں خود سیاسی قوانین موجود ہیں، ہم نے آئین کو دیکھنا ہے۔
ان کے ریمارکس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمشن کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے دیں۔ کرپٹ پریکٹسز کی روک تھام بھی عدالت نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ کرپٹ پریکٹسز، رشوت ستانی و غیر قانونی پریکٹسز نہیں ہونی چاہئیں۔
ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں سب کچھ موجود ہے۔ الیکشن کے مراحل اور ان کا طریقہ کار سب وضع شدہ ہے۔ آرٹیکل 226 بالکل واضح ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب ٹھیک ہے لیکن آپ ووٹ کاسٹ کرنے کے وقت سے متعلق بتائیں، کیا ووٹ کی چھان بین کی جاسکتی ہے کہ یہ قانون کے تحت کاسٹ ہوا یا نہیں۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بیلٹ پیپر ووٹر کے ہاتھ میں آنے کے بعد اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ دیکھے کہ ووٹر نے کس کو ووٹ دیا۔ ووٹ کا اپنا تقدس ہے جس کو مجروح نہیں کیا جاسکتا۔ ووٹ کی خفیہ شناخت کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔
سلمان طالب الدین کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے کہ ووٹ بکتے ہیں، فرض کرلیں ووٹ بکتے بھی ہیں لیکن پھر بھی اس کی شناخت نہیں ہوسکتی۔ جس پر بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ووٹ کی سیکریسی صرف بیلٹ بکس تک ہوتی ہے۔ اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ٹریبونل یا الیکشن کمیشن کیسے دیکھ سکتا ہے۔ شکایت کی صورت میں کیا الیکشن کمیشن ووٹ کی شناخت کرسکتا ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ووٹ کاسٹ کرتے تو دیکھا جاسکتا ہے لیکن کس کو ووٹ دیا کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ووٹ کی شناخت نہیں کی جاسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ افسوس ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنے ہی معاہدے سے مکر گئیں۔ دونوں جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں خفیہ طریقے کار کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ میثاق جمہوریت کی دستاویز اب بھی موجود ہے لیکن اس پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اب اس پر عمل نہیں کررہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پہلے اطمینان کرنا ہے الیکشن میں گڑ بڑ ہوئی ہے۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ کسی کا ووٹ دیکھنے سے کیسے پتا چلے گا اس نے پیسہ لیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا مخصوص نشستوں پر ہونے والا الیکشن آئین کے تحت ہوتا ہے؟ جس پر سلمان طالب الدین نے کہا کہ الیکشن آئین کے تحت ہی ہوتا ہے لیکن مخصوص نشستوں پر طریقہ کار مختلف ہے۔ مخصوص نشستوں پر خفیہ ووٹنگ نہیں ہوتی سیاسی جماعتیں نامزدگیاں کرتی ہیں۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر ووٹنگ نہیں ہوتی پھر بھی اسے الیکشن کہا جاتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ متناسب نمائندگی سینیٹ میں صوبوں کی ہوتی ہے کسی جماعت کی نہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ خفیہ رائے شماری کا اطلاق مخصوص نشستوں پر کیوں نہیں ہوتا؟ ان کی بات کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آرٹیکل 226 کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جہاں ووٹنگ ہو۔ آرٹیکل 226 کی ایسی تشریح نہیں کی جاسکتی کہ آئین میں ترمیم کا تاثر ملے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے دلائل دیے اور کہا کہ قرآن پاک میں بھی کرپشن سے منع کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے انتحابی عمل میں کرپشن ہوتی تھی، دنیا نے انتحابی عمل سے کرپشن روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ بعد ازاں اس کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔