کوہ پیما علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کردی گئی
- جمعرات 18 / فروری / 2021
- 5890
موسم سرما میں کے2 کی چوٹی سرکرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں محمد علی سد پارہ، جان اسنوری اور جان پابلو کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کردی گئی ہے۔
لاپتہ کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجا ناصر علی خان نے ساجد سد پارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ محمد علی سدپارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کی لاش مل گئی ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر سے اس وقت رابطہ منقطع ہوگیا تھا جب انہوں نے 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب بیس کیمپ تھری سے کےٹو کی چوٹی تک پہنچنے کے سفر کا آغاز کیا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران علی سد پارہ کے بیٹے نے کہا کہ مجھے اور کئی انٹرنیشنل کوہ پیماؤں کو یقین ہے کہ انہیں کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر حادثہ پیش آیا اور جس بلندی پر ممکنہ حادثہ ہوا تھا وہاں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خاندان، پوری پاکستانی قوم اور ہمارے کوہ پیما دوست مسلسل صدمے اور تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کی محبت میرے خاندان کے لیے انتہائی حوصلے اور ہمت کا باعث بنی۔ میرا خاندان انتہائی شفیق باپ سے محروم ہوگیا ہے۔
ساجد سدپارہ نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم سبز ہلالی پرچم سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے محب وطن قومی ہیرو سے اور دنیا ایک بہادر اور با صلاحیت مہم جو سے محروم ہوئی ہے۔ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں ہم سب ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے۔ میں اپنے والد کے مشن کو جاری رکھوں گا اور ان کے ادھورے خواب پورے کروں گا۔
ساجد سد پارہ نے بتایا کہ علی سدپارہ نے انتھک محنت، بہادری اور ہنر مندی سے 8 ہزار میٹر سے بلند 8 چوٹیاں سر کی تھیں۔ ان کے والد نے نہ صرف نانگا پربت کو پہلی بار سردیوں میں سر کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا بلکہ انہیں نانگا پربت کو چاروں موسموں میں سر کرنے کا ریکارڈ بھی حاصل ہے۔
ساجد سد پارہ نے لاپتا کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کی کوششوں پروزیر اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ دیگر سول اور عسکری حکام کے ساتھ ورچوئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔