جوبائیڈن حکومت کو درپیش چیلنجز؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 18 / فروری / 2021
- 5450
جوبائیڈن حکومت کو داخلی محاذ پر جو چیلنجز درپیش ہیں ان کی اس قدر متنوع جہتیں ہیں کہ تفصیل میں جائیں تو پورا کالم انہی کی نذر ہو جائے گا۔ ہمارے قارئین کو شاید ان ایشوز سے کوئی اتنی زیادہ دلچسپی نہیں ہو گی۔
اس لئے ہم ان کے خارجی محاذ پر پہلے بڑے چیلنج یعنی چائینہ پالیسی پر بات کرنے سے پہلے دوسرے بڑے چیلنج پر بات کرتے ہیں جو خارجی محاذ پر ہے اور ہماری ہمسائیگی میں ہے۔ وہ ہے امریکا اور مغربی طاقتوں کا ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ جو اوباما انتظامیہ کی رہنمائی میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ اور جس کا مقصد تھا کہ ایران یورینیم انرچمنٹ کرتے ہوئے ایٹم بم نہ بنانے پائے۔ ایران پر عالمی اداروں کی سخت گیر بندشیں ڈالتے ہوئے اسے کچھ مالیاتی و معاشی رعایتیں بھی دی گئی تھیں جن پر اسرائیل اور سعودی عرب کو شدید تحفظات تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ چونکہ خود کو اسرائیل اور عربوں کا سب سے بڑا محافظ ثابت کرتے تھے اس لئے انہوں نے جوش یا شتابی میں نہ صرف اس معاہدے کو سبوتاژ کر دیا بلکہ ایران کےخلاف یک طرفہ طور پر پیہم محاذ آرائی کی پالیسی اپنائے رکھی۔ انہوں نے خطے میں ایران کو تنہا کرنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی، جنگ کے بادل صبح و شام منڈلاتے رہے اس کا ایرانی معیشت کو تو بلاشبہ بہت نقصان ہوا۔ ایرانی کرنسی بے وقعت ہو گئی مگر ساتھ ہی یہ نقصان ہوا کہ صدر اوباما کی پالیسی سے اس کے ایٹمی پروگرام پر جو رکاوٹیں اور چیکس لگے تھے، وہ ہٹ جانے سے ایران اس طرف کافی آگے بڑھ گیا۔ صدر ٹرمپ ایران پر پابندیاں لگاتے ہوئے یہ بھول گئے کہ وہ دوسری عالمی طاقتوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران جس طرح امریکا کیلئے ڈراؤنا خواب ہے اس سے بھی بڑھ کر اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر عرب ہمسائے خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے خطے کی پوری عرب اور عالمی سیاست کو جھنجھوڑ کر رکھا ہوا ہے۔ یہ یمن کے حوثی باغیوں تک محدود مسئلہ نہیں ہے جہاں سعودی مفادات دبوچے جا رہے ہیں۔ بلکہ شام اور لبنان کے راستے حزب اللہ کی شدت و دہشت کا خوف بھی ہے جس نے عربوں کو یہود دشمنی بھلا کر اس کی جگہ شیعہ دشمنی نے لے لی ہے۔ رہ گئے اسرائیل میں بسنے والے یہود، تصور کیا جا سکتا ہے کہ نیو کلیئر ایران کی موجودگی میں وہ سکون کی نیند کیسے سو سکتے ہوں گے۔
ان حالات میں ایک طرف صدر جوبائیڈن ضرور یہ چاہیں گے کہ ایران کو کچھ معاشی رعایتیں دیتے ہوئے اس کے نیو کلیئر پروگرام کو کنٹرول میں لائیں مگر ساتھ ہی ان پر یہ دباؤ بھی ہے کہ وہ رعایات کے ایشو پر ایک خاص حد سے آگے نہ جائیں۔ کیونکہ صدر ٹرمپ ایران کا گھیراؤ کرتے ہوئے اسرائیل اور اپنے عرب دوستوں کے ساتھ جس قدر آگے چلے گئے ہوئے تھے، جوبائیڈن اس کا مورال گرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ کسی نوع کی کوئی مایوسی بھی پھیلانا نہیں چاہیں گے۔ نیز ان کے مغربی اتحادیوں کے بھی کچھ تقاضے ہیں جیسے کہ فرانس کے صدر میکرون نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل میں سعودی عرب کو بھی شامل کیا جائے۔ یا عرب لیگ کے حالیہ اجلاس میں سعودی مطالبہ بھی آیا ہے جسے ایران قبول کرنے سے انکار کرے گا۔ نئے امریکی سکیورٹی ایڈوائز جیک سیالون نے حال ہی میں میں کہا ہے کہ ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے ایران پہلے سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ ایران کے ساتھ طے شدہ ’’مشترکہ جامع لائحہ عمل‘‘ کہلانے والے معاہدے کا خاتمہ اس کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اس کے سبب ایران کے ایٹمی پروگرام میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ جوبائیڈن انتظامیہ کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کا اعتماد مجروح کئے بغیر یہ ٹیڑھی کھیر کیسے نکالتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ بڑا اور خطرناک چیلنج بائیڈن انتظامیہ کیلئے افغانستان کا ایشو ہے، جہاں گزشتہ دو دہائیوں سے امریکا حالت جنگ میں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے طویل دوحا مذاکرات کے بعد طالبان سے تشدد چھوڑنے اور قومی دھارےمیں شامل ہونے کی ایک ڈیل طے کی تھی۔ جس میں پاکستان کی معاونت بھی امریکا کو حاصل تھی۔ لیکن اب اس پر بھی بہت سے سوالات و اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔ سب سے پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ صدرٹرمپ نے کسی خاص وزڈم ، منصوبہ بندی یا حکمت عملی کے ساتھ یہ سب نہیں کیا تھا۔ انہیں ایک دھن تھی کہ میں اپنی انتخابی کامیابی کیلئے عوام کے سامنے یہ ثابت کروں کہ میں نے نہ صرف یہ کہ اپنے پورے چار سالوں میں امریکا کیلئے کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑی ہے بلکہ پہلے سے موجود جنگی کارروائیوں کا خاتمہ کرتےہوئے اپنی افواج کو واپس اپنے ملک لا رہا ہوں۔ اس سے امریکی مورال یا مفادات کے علاوہ علاقائی تنازعات میں کیا بربادیاں آتی ہیں۔ امریکی قوم کا وقار، انسانی حقوق، جمہوریت اور اقوام کی آزادیاں کس قدر تباہ ہو سکتی ہے، ان باتوں سے انہیں کوئی غرض نہ تھی۔
دوحا مذاکرات کے ذریعے طالبان سے جس نوع کی شرائط منوائی گئی تھیں ان کا سرے سے کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ وہ تمام باتیں طالبان کے ضمیر سے ہی مطابقت نہ رکھتی تھیں۔ اب طالبان اور تشدد دو مختلف چیزیں کیسے قرار دی جا سکتی ہیں۔ طالبان اگر لاکھ دفعہ یہ لکھ کر بھی دے دیں کہ وہ القاعدہ کو اپنے قریب نہیں بھٹکنے دیں گے لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ گوشت اور ناخن علیحدہ ہو جائیں ؟ (جاری ہے)