عربی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا ناقابل فہم فیصلہ

گزشتہ دنوں سینٹ کے اجلاس کے خاتمے کے قریب ایسا مسودہ قانون جزائے خیر کیلئے منظور کروایا گیا جس کے مطابق وفاقی حکومت کے زیراہتمام تعلیمی اداروں میں عربی لازمی مضمون کے طور پڑھائی جائے گی ۔

اس موقعہ پر وفاقی وزیر تعلیم ہی مو جود نہیں تھے۔ حکمران جماعت کے ایک ممبر نے پشتو اور انگریزی میں عربی ذبان کی تعریف میں قلابے ملا ئے۔ جماعت اسلامی کے امیر نے عربی کو سرکاری زبان قرار دینے کا مطالبہ کر ڈالا۔ پاکستان میں پہلے ہی اردو سرکاری دفتری زبان قرار دینے کی تحریک زوروں پر ہے ۔پنجابی بولنے والا ماں بولی کو نصاب میں شامل کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔اس طرح پاکستان میں بیک وقت اردو، عربی ، فارسی، سندھی ، پشتو ، بلوچی، سرائیکی اور پنجابی کے حقوق اور نفاذ کے حوالہ سے مطالبات سنائی دیتی ہے۔ دائیں بازو کے رجعت پسندانہ مذہبی  نظریات رکھنے کو یہ بیانیہ پسند آیا ہو گا۔ لسانی تناظر میں قومی زبان کے تشخص کا متنوع اظہار سامنے آسکتا ہے اور ہم کسی بھی زبان پر گرفت ہونے کا دعوی نہیں کر سکتے۔

     آئین پاکستان میں لازمی اور مفت تعلیم کا وعدہ کیا گیاہے جسے یپلز پارٹی کے پہلے دور اقتدار میں کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سرکاری ملازمت میں آنے کے بعد اساتذہ نے اپنے بنیادی فرائض کو بھلا دیا کہ پاکستانی نسل اس قابل ہوسکے وہ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے جدید تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر معیشت اور علم کی دنیا میں اپنا حصہ حاصل کر سکیں۔ ہم نے قدرتی وسائل کے بارے میں ہمیشہ خوش فہمیاں پیدا کی ہیں۔ قدرتی وسائل کو سائینس ، ٹیکنالوجی اور ایجادات کے ذریعہ پیداوری عمل، سرمایہ کی تخلیق کرکے معیشت کو بہتر بنایا جاسکتاہے۔ مگر اس کیلئے انسانی سرمائےکی بڑھوتی کی ضرورت ہے ۔بدقسمتی سے ہم زبان و بیان کی فصاحت اور ثقافتی ، سما جی اور لسانی الجھنوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم کسی فیلڈ میں گلوبل ما رکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارت  نہیں حاصل کر سکے۔ جہاں ایک طرف پر لسانی اور نسلی کدورتوں کا اظہار ہورہا ہے  تو دوسری طرف آبادی کی بڑھتی ہوئی رفتار، شرح نمو کو نگل رہی ہے۔ شہریوں کی اوسط عمر 22.8 برس  ہے ۔ ہماری زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ شرح خواندگی 59% ہے۔ ہم دنیاکے پسماندہ ترین ممالک شمار ہوتے ہیں۔ عالمی سطح کی اوسط شرح خواندگی 63% ہے۔

     پااکستان میں پرائیویٹ سیکڑمیں غیرمعیاری یونیورسٹیوں  نے تعلیمی معیار کو گرا دیا ہے ۔ پبلک سروس کمیشن  ہر سال تعلیمی معیار کی رپورٹ جاری کرتاہے۔ ہماری کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی سو بہترین میں شامل نہیں۔ ان کی جاری کردہ پی ایچ ڈی ڈگریوں کو عالمی معیار کا تصور نہیں کیا جاتا۔ ہائر ایجوکیشن کی رپورٹ تعلیمی معیار کے مطابق نہیں ہے جس کا ذکر کرنا مناسب نہیں ۔ہم 200 برس سے انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں مگر ذہنی طور پر علاقائی اور بدیشی زبانوں می پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے ہمیں کسی زبان میں مکمل دسترس حاصل نہیں۔ اس پسماندگی کا تعلق کسی خاص زبان سے نہیں ہے۔ ناکافی تعلیمی سہولیات اور ریاستی بیانیے کا تابع نصاب اس کا ذمہ دار ہے ۔ تعلیم کو کسی اخلاق سیاسی یا مذہبی بیانیے کی ضروت نہیں ہوتی۔ اصل بات اس سے جدید گلوبل تناظر میں شعور اور جدید مہارتوں کا حصول ہے۔ ہمیں ذہنی صلاحیتوں سے محروم کرنے والے بے مقصد اہداف سے بچنا چاہئیے۔ عربی زبان ہی کو لیجئے ملک کے ایوان بالا میں قانون منظور کیا گیاہے جس پر عمل برآمد کا رتی بھر امکان نہیں۔ اس ایوان میں ایک رکن کے سوائے کسی کو مخالفت کی ہمت نہیں ہوئی کہ عقیدے کے نام پر قوم کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ یہاں ضمیر کی نہیں ہوش، عمل اور فکری فہم کی بات ہے۔