امریکہ جوہری معاہدے پر ایران کے ساتھ بات چیت کے لئے تیارہے
- جمعہ 19 / فروری / 2021
- 5460
امریکہ کے وزیرِ خارجہ انتھونی نےکہا ہے کہ اگر تہران جوہری معاہدے کی تعمیل کرتا ہے تو امریکہ باضابطہ طور پر معاہدے کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
امریکہ اس معاملہ پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک 2015 میں ہونے والے اس معاہدے کی طرف لوٹ آئیں جس کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دور رکھنا تھا۔ یہ بات امریکی وزیر خارجہ نے برطانیہ، فرانس، جرمنی کے گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے وڈیو خطاب میں کہی۔ ایران نے بھی مثبت ردِ عمل دیا ہے۔
چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اگر ایران معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے تو امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا اور وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔ ایران نے 2019 میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنا اس وقت شروع کی تھی کیوں کہ امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کو معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔ اور ایران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ایران کی طرف سے خلاف ورزیوں میں حالیہ مہینوں میں تیزی آئی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا کہ واشنگٹن مذاکرات کی ایسی کسی بھی دعوت کا مثبت جواب دے گا جس میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ کے ایران سے ہونے والے معاہدے پر مذاکرات ہوں گے۔ چار ملکی مشترکہ بیان کا جواب دیتے ہوئے ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ اس معاملے میں پہلا قدم امریکہ کو اٹھانا چاہیے۔
ایک ٹوئٹ میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ظاہری شائستگی دکھانے اور تمام تر ذمہ داری ایران پر ڈالنے کے بجائے ای تھری اور یورپی یونین کو چاہئے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور ایران کے خلاف ٹرمپ کی عائد کردہ پابندیوں کا خاتمہ کریں۔ جواد ظریف نے معاہدے کی بحالی کے لیے اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی اور فریقوں کے ساتھ بات چیت پر آمادگی کا اشارہ دیا تھا۔
امریکی عہدیدار نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس بارے میں آگے بڑھنے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے جو تعطل کے خاتمے اور معاہدے کی طرف جانے کے لیے پل کا کردار ادا کرے۔ ان کے خیال میں ایسا ہو سکتا ہے اگر امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کر دے اور ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر لے۔
ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے بتایا ہے کہ واشنگٹن کی حکمت عملی میں تبدیلی ایران کے لیے ایک نیا موقع پیدا کر رہی ہے لیکن آگے کا راستہ رکاوٹوں سے بھرپور ہے۔ تہران نے بائیڈن انتظامیہ کے لیے آئندہ ہفتے کی مہلت دے رکھی ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں ہٹا دے بصورت دیگر تہران معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھے گا۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اس اقدام سے گریز کرے۔ ان ممالک نے ایران کی جانب سے 20 فی صد تک یورینیم کی افزودگی اور یورینیم میٹل تیار کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورینیم کی زیادہ افزودگی اور خام ایندھن کی صفائی جوہری ہتھیار بنانے کی جانب ایک ممکنہ راستہ ہے اگرچہ ایران ایک مدت سے کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی ضروریات کے لیے ہے۔