آرمی چیف کو خط لکھنے کا معاملہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا مداخلت سے انکار

  • جمعہ 19 / فروری / 2021
  • 7710

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کے سربراہ، کور کمانڈرز اور اعلیٰ افسران کو خطوط لکھنے کے معاملے پر گرفتار ہونے والے ایک ملزم کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی ہے۔

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کمانڈنگ افسر خود اس بات کا تعین کرے کہ  یہ معاملہ فوجی عدالت کے دائرہ سماعت میں آتا ہے یا اس کو سویلین عدالت میں بھیجا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت اس وقت تک زیر حراست ملزم کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دے جب تک اس معاملے کی تفتیش کرنے والے افسر خود اس بات کا تعین نہ کرلیں کہ ملزم کے اس اقدام کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی بنتی ہے یا نہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مدعی کی طرف سے جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ابھی اس معاملے کی تفتیش ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ حسن عسکری پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی کے صاحبزادے ہیں۔ اُنہیں چند ماہ قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اور دیگر معاملات پر آرمی چیف، تھری سٹار اور ٹو سٹار جنرلز کو خطوط لکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ایجوٹینٹ جنرل کی جانب سے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا یہ اقدام ماتحت افسران کو اعلیٰ افسران کے خلاف بغاوت پر اکساتا ہے۔ ملزم حسن عسکری کو گرفتار کرنے سے پہلے انہیں کئی بار متنبہ کیا گیا کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز آجائیں لیکن انہوں نے اس پر عمل  نہیں کیا۔

درخواست گزار میجر جنرل ریٹائرڈ سید ظفر مہدی کی وکیل زینب جنجوعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا اور کمرہ عدالت میں فوجی افسران کے علاوہ سویلین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کمانڈنگ افسر کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر دو ہفتوں کے بعد ملزم سے اس کے گھر والوں کی ملاقات کروائی جائے۔