اقوام متحدہ کے ماہرین کا مقبوضہ کشمیر میں مجوزہ بھارتی قوانین پر اظہار تشویش
- جمعہ 19 / فروری / 2021
- 5590
اقوام متحدہ کے دو ماہرین نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے اور مسلمانوں و اقلیتوں کو سیاسی عمل سے دور کرنے والے قوانین متعارف کروانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے اقلیتی امور فرنانڈ ڈی ویرینس اور آزادی مذہب یا عقیدے کے نمائندہ خصوصی احمد شہید کی جانب سے دو درجن کے قریب ممالک کے سفارت کاروں کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے کے بعد بیان جاری کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کا قیام خصوصی خود مختاری کی ضمانت پر عمل میں آیا تھا جہاں ہر نسل، زبان اور مذہبی شناخت کا احترام کیا جائے گا۔ یہ بھارت میں واحد ریاست تھی جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔
بھارت نے 5 اگست 2019 کو بغیر کسی مشاورت کے خطے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور مئی 2020 میں نام نہاد ڈومیسائل قانون متعارف کروایا گیا، جس سے مقبوضہ علاقے کو دیا گیا تحفظ ختم ہوگیا۔ اراضی قوانین میں تبدیلی سے خطے کو حاصل تحفظ میں مزید کمی آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ نئی دہلی حکومت کی جانب سے براہ راست حکومت کا تسلط اور خود مختاری ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی اپنی حکومت نہیں ہوگی اور وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی سازی یا قوانین میں ترمیم کا حق کھو چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے باہر دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ڈومیسائل دینے سے زبان، مذہب اور نسل کی بنیاد پر جغرافیائی تبدیلی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس قانونی تبدیلی سے سابق جموں و کشمیر ریاست میں باہر سے لوگوں کو آکر رہائش پذیر ہونے کا راستہ ملے گا، جس سے خطے کی جغرافیائی حیثیت اور اقلیتوں کی اپنے حقوق کے تحت سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ مقبوضہ خطے کے لوگوں کے معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کو یقینی بنائے تاکہ وہ اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کرسکیں۔ دوسری جانب بھارت نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ کو مسترد کیا ہے اور کہا یہ ماہرین غیر جانب دار نہیں ہیں۔