جھنڈا کیس سے پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہؤا ہے

ڈڈیال جھنڈا کیس میں قید راجہ تنویر احمد کی رہائی کے لیے  فری تنویر کمپین کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ سے کشمیری تارکین وطن نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے۔

 امریکہ سےجموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سنئیر رہنما راجہ مظفر نے کہا پاکستان کے کچھ اداروں کی ہٹ دھرمی عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور کشمیری عوام کے درمیان غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا کر رہی یے۔ تنویر احمد کا مسئلہ اب برطانوی وزیر اعظم تک پہنچ گیا ہے اور اس سے اچھا تاثر پیدا نہ ہو گا۔ تنویر احمد کی فیملی کو بھی یو کے میں پیغام بھیجے جا رہے ہیں کہ تنویر احمد اپنی سیاسی جد و جہد ترک کر کے واپس برطانیہ چلا جائے۔ راجہ مظفر نے کہا  آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والا محقق تنویر احمد ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کے لیے پر امن جد و جہد کر رہا ہے۔ لہذا پاکستان کو اپنے دعوؤں اور عمل میں مطابقت پیدا کرنی چاہیے۔

کینیڈا میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے خضر حیات نے وہاں کے متعدد اداروں اور شخصیات کے ساتھ تنویر احمد کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ جبکہ برطانیہ میں مقیم کشمیری رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے اراکین پارلیمنٹ اور وزیر اعظم بورس جانسن کی توجہ برطانوی کشمیری صحافی و محقق تنویر احمد کے مسئلہ پر مبذول کروائی ہے۔ اظہر احمد کے خط کے جواب میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور محمود کشمیری اور خواجہ حسن کے خطوط کے جواب میں برطانوی وزارت خارجہ نے تنویر احمد کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 راقم نے فری تنویر کمپین کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے شروع ہی میں پاکستان کو آزاد کشمیر حکومت کے زریعے مشورہ دیا تھا کہ جھنڈا کیس کو طول دینے کے بجائے اپنے طور پر حل کرنا ہی دانشمندی اور عزت ہے۔ تنویر احمد نے بھی عدالتوں پر اعتماد کر کے ضمانت کی درخواست دی تھی مگر اس کیس میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ  نے بھی سیاسی بنیادوں پر تنویر احمد کی درخواست مسترد کردی ۔ اور یہ غیر منطقی جواز پیش کیا کہ وہ دوبارہ جھنڈا اتار سکتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس ملک میں جو آدمی ایک بار کسی الزام میں گرفتار ہو گیا، اسے اس بنیاد پر کبھی بری ہی نہیں کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ یہ جرم کر سکتا ہے۔ اس طرح کے ریمارکس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے شایان شان نہ تھے۔

جہاں تک تنویر احمد پر لگائے جانے والے الزام  کا تعلق ہے تو دوران سماعت یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس نے پاکستانی جھنڈے کی توہین  نہیں کی، صرف اتارا ہے۔ کیونکہ مقبول بٹ شہید چوک تحریک آزادی کی علامت ہے جہاں تنویر احمد کو غیر ریاستی جھنڈے پر ا عتراض تھا۔ اگر یہ کیس تھانے میں ہی حل ہو جاتا تو شاید کسی کو پتہ بھی نہ چلتا لیکن اسے اچھال کر پوری دنیا کو بتا دیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے لوگ اب پاکستان کے خلاف بھی بغاوت کر رہے ہیں۔

 اب بھی وقت ہے کہ عدالت کویہ کیس میرٹ پر حل کرنے دیا جائے اور تنویر احمد کی رہائی کو برطانیہ واپسی سے مشروط نہ کیا جائے۔ گو تنویر احمد برطانوی شہری ہے لیکن اس کی پیدائش آزاد کشمیر میں ہوئی تھی جہاں اسے رہنے کا حق حاصل ہے۔