اسٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ کیا ہوتا ہے

ہم ٹی وی چینلز اور اخبارات کے کاروباری صفحات پر سٹاک مارکیٹ کے حوالہ سے اتار چڑھاؤ کے بارے میں خبرسنتے  اور پڑھتے ہیں۔  جس میں 100یا30  انڈیکس کا تذکرہ ہوتاہے۔

یہ  بالعموم کراچی سٹاک مارکیٹ میں سو یا تیس کمپنیوں کے روزانہ شیئرز کی ٹاپ کی خریدو فروخت کے حوالہ سے ہوتاہے یا پھر آل شئیرز انڈیکس کا بتایا جاتا ہےچو کہ اسٹاک مارکیٹ میں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور خرید و فروخت کو ظاہر کرتا ہے۔ انڈیکس سے کمپنیوں کے تجارتی لین دین کے ساتھ کارکردگی اور منافع کے بارے میں تعین ہو تاہے۔اگر ایک کمپنی کے زیادہ حصص کاا لین دین ہورہاہو۔ اس کے شیئرز کی مالیت بڑھ رہی ہو جس سے مارکیٹ کے انڈیکس میں اضافہ ہورہا ہو تو سرمایہ کار اس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگر کوئی کمپنی نقصان میں جارہی ہو تو سرمایہ اس کے حصص فروخت کردیتے ہیں، جس سے سٹاک مارکیٹ نیچے آجاتی ہے ۔

سٹاک مارکیٹ میں سٹے بازی کے ذریعہ حصصں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرکے سرمایہ کاروں کو تر غیب دی جاتی ہے ۔زیادہ منافع کے لالچ میں چھوٹے سرمایہ کار پھنس جاتے ہیں۔ بعد میں سٹے کی رقم شارٹ ٹرم منافع کے بعد نکال لیتی ہے جس سے کمپنی کے شیئرزکی قیمتیں کم ہوجاتی ہیں۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب جاتے ہیں۔ پاکستان میں کئی بار ایسا ہوا ہے۔ مگر ایسی صورتحال کو مسلسل برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

    اسٹاک مارکیٹ میں کمی یا اضافہ کاانحصار ملک کی سیاسی، اقتصادی اور تجارتی خبروں پر ہے۔ اگر صورتحال منفی ہے تو انڈیکس جمود سے دوچار رہےگا۔ ماضی میں جب دہشت گردی عروج پر تھی، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی چونکہ نئی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں جمود سے دو چا ہوئیں۔ میوچل فنڈز اور بینکس بھی سٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے اور شارٹ ٹرم منافع کیلئے سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ وہ سرپلس سرمائے کو منافع کمانے کیلئے استعمال کر سکیں ۔ پاکستان میں چھوٹے سرمایہ کار پہلے سونے کی خریداری کرتے تھے ۔ اگر قومی بچت سینٹز میں میں منافع زیادہ مل رہا ہو تو وہاں پیسے جمع کرواتے ہیں ۔اگر سٹاک مارکیٹ بہتر جارہی ہو اور زیادہ منافع اور ڈویڈنڈ ملنے کی امید ہو  تو ادھر کا رخ کرتے ہیں ۔

پاکستان میں زیادہ سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ میں کی جاتی ہے ۔ مو جودہ حکومت کی کنسڑکشن کیلئے پوچھ گچھ کی چھوٹ دینے سے سمینٹ اور تعمیراتی سامان تیار کرنے والی صنعت کو فروغ ملا ہے۔ اس کاروبا ر میں ملوث کمپنیاں سٹاک مارکیٹ میں بہتر کار کردگی دکھا رہی ہیں ۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے زیادہ سرمایہ کاری آئل کمپنیوں کے شیئرزخریدنے میں ہورہی ہے۔مگر اس عمل سے چندہزار دولتمند افراد فائدہ اٹھارہے ہیں جبکہ منڈی کی معیشت میں قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے ملک کی 70% آبادی مہنگائی میں پس رہی ہے ۔

مارکیٹ میں 100 کا انڈیکس صف اول کی کمپنیوں کی کارکردگی اور30شرعی اصولوں کے مطابق کام کرنے کا انڈیکس ہے ۔جن کمپنیوں کی اچھی کا رکردگی ہوتی ہے انہیں بلیو چیپس کہا جاتاھے۔۔

سٹاک مارکیٹ می صنعتی اور تجارتی اداروں کے سا تھ سمال اور میڈیم سکیل کمپنیاں بھی ہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں رجسڑڈ ہونے سے یہ کمپنیاں اور مصنوعات ملکی سطح پر اجاگر ہو تی ہیں ۔ان کمپنیوں میں عوام کی دلچسپی سے انڈیکس میں اضافہ ہو تاہے۔ لسٹنگ سے کمپنیوں ٹیکس میں رعایت ملتی ہے۔ میراث یا جانشینی کے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنی کارکردگی کے تناظر میں اپنے انتظامی امور کو جدید تناظر میں ڈھال سکتی ہیں اور مسابقت کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ میں چھو ٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار

پاکستان سٹاک مارکیٹ کے انڈیکسیز کے اتار چڑھاؤ کو جاننے کیلئےمختلف مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی خام مال تیل کی قیمتوں  کا آئل سیکڑ کے حصص کی قیمتوں پر اثر دیکھا جاسکتا ہے۔