انتخابی نظام میں شفافیت کا بحران
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 19 / فروری / 2021
- 4760
سیاست اور جمہوریت کی کنجی اس کے شفافیت کے نظام پر ہوتی ہے۔ کیونکہ سیاست اور جمہوری نظام کی ساکھ اس کی اخلاقی اقدار پر قائم ہوتی ہے۔لیکن پاکستانی سیاست میں دولت، اقراپروری، کرپشن اور بدعنوانی سمیت غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات کے معاملات نے اس حقیقی سیاسی و جمہوری نظام کی ساکھ پر بنیادی سطح کے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
بدقسمتی سے ہر وہ فرد یا ادار ہ جو براہ راست نظام کی شفافیت کو قائم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، اسے ناکامی کا سامنا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہر انتخاب کے بعد اس کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں اور انتخابی عمل متنازعہ بن جاتا ہے۔ 2013کے انتخابات کے بعد جو عدالتی کمیشن بنا اس نے بھی اپنے تفصیلی فیصلہ میں 41نکات پر مبنی انتخابی بے ضابطگیوں پر تجاویز دیں او رکہا کہ ان پر توجہ دے کر حکومت اور ادارے انتخابی نظام کو شفاف بنائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسی طرح عمران خان کے سیاسی دھرنے کے نتیجے میں ایک 35رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی جس کا کام انتخابی اصلاحات پر اپنی سفارشات تیارکرنا اور اس پر مزید پالیسی اور قانون ساز ی کی مدد سے انتخابی نظام میں شفافیت پیدا کرنا تھی۔لیکن2018کے انتخابات پر بھی ہارنے والی جماعتیں اسے دھاندلی پر مبنی انتخاب قرار دیتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخواہ کے حوالے سے مارچ2018کے سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے ایک ویڈیو کا بڑا چرچا ہے جس میں ہم نے دیکھا کہ مبینہ طور پر ووٹوں کی براہ راست خریداری صاف دکھائی دے رہی تھی۔یہ معاملہ محض یہاں تک محدود نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ماضی میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں اسی طرح کے الزامات پر مبنی معاملات ہم دیکھ چکے تھے،لیکن اس ویڈیو نے جو کچھ سیاسی سطح پر اہل سیاست کا بھرم تھا اسے بھی بری طرح بے نقاب کیا۔اگرچہ عمران خان نے اپنے ان ارکان کو پارٹی سے بے دخل کردیا تھا مگر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔حالانکہ اس وقت ان لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے تھااو ران کے خلاف قانونی طور پر ریفرنس بھیجا جانا چاہیے تھا۔ان افراد کو الیکشن ایکٹ 2017کے تحت دفعہ 167,168,169اور 170کے تحت سزا دلوائی جاتی لیکن اس وقت بھی سمجھوتہ کیا گیا او راب اس ویڈیو کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا نہ ہونا بدنیتی ہے۔
اسی طرح چیرمین سینٹ کے خلاف جو حزب اختلاف نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور عددی تعداد ہونے کے باوجود اس میں ناکامی پر یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن اپنے ہی ارکان کے خلاف کچھ نہیں کرسکیں۔ حالانکہ دونوں جماعتوں نے نہ صرف ان معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی بلکہ کہا گیا کہ ایسے ممبران جنہوں نے پارٹی فیصلے سے ہٹ کر ووٹ دیا، ان کو کسی بھی طور پر معاف نہیں جائے گا۔لیکن یہ کمیٹی بے نتیجہ رہی اور کچھ نہیں ہوسکا۔ بنیادی طور پر بحران ہماری سیاسی جماعتوں کے داخلی جمہوری نظام کا بھی ہے جہاں شفافیت سے زیاد ہ اقرا پروری اور پسند ونا پسند کے معیار کا غلبہ ہے۔جب سیاسی جماعتوں میں قیادت سے لے کر اوپر سے نیچے تک عملی طور پر جوابدہی کا نظام قائم نہیں ہوگا جمہوری نظام کی ساکھ قائم نہیں ہوسکے گی۔اس لیے خود سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بھی توجہ طلب ہے جو اپنے اندر بہت سی غیر معمولی تبدیلیاں چاہتا ہے۔
اگرچہ سینٹ کے حالیہ انتخاب کی شفافیت کا ایک بڑا نکتہ اوپن بیلٹ یا خفیہ بیلٹ کی صورت میں اعلی عدلیہ میں زیر بحث ہے۔ اب یہ فیصلہ اعلی عدلیہ نے کرنا ہے کہ وہ موجودہ سنگین صورتحال او رانتخابات کی شفافیت پر کیا فیصلہ کرتی ہے او رکیسے وہ اپنے فیصلے کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو پابند کرتی ہے کہ وہ شفافیت پر مبنی نظام نہ صرف قائم کرے بلکہ شفافیت کا یہ نظام ہر سطح پر واضح نظر بھی آنا چاہیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت انتخابی نظام کی شفافیت قائم کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرتیں جو ضروری ہے۔جب ہم حزب اختلاف کا حصہ ہوتے ہیں تو انتخابی نظام کی شفافیت پر بہت سوالات اٹھاتے ہیں لیکن جب یہ ہی لوگ اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتے ہیں تو اپنی ہی ماضی کی باتوں کی تردید کرکے سٹیٹس کو ہی برقرار رکھتے ہیں۔بہتر ہوتا کہ اگر ہماری سیاسی قیادت مل کر اوپن یا خفیہ بیلٹ کا فیصلہ بذریعہ پارلیمنٹ کرتے۔لیکن سیاست دان اپنے فیصلے خود کرنے کی بجائے قانون کا سہارا لے کر ان معاملات کو عدلیہ کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں جو درست حکمت عملی نہیں۔
ایک مسئلہ انتخابی نظام میں اسٹبلیشمنٹ کی مداخلت سے جڑا ہوا ہے او ریہ بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ کیونکہ ان الزامات یا اقدامات سے ہمارا انتخابی نظام بڑی اصلاحات چاہتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ بھی جہاں اداروں کو اپنے اپنے قانونی دائرہ کار تک محدود رکھنا ہے وہیں ایسی سیاسی، انتظامی اور قانونی اصلاحات سمیت ان پر عملدرآمد کے نظام کو یقینی بنانا ہے جو ہر سطح کی انتخابی نظام میں مداخلت کو روک سکے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اس تضاد سے باہر نکلے کہ اگر معاملات ان کے حق میں ہوں تو سب اچھا ہے او راگر معاملہ ان کے خلاف ہے تو پھر الزامات کا سہارا لیا جائے۔سیاسی قیادت چاہے وہ حکومت میں ہو یا حزب اختلاف سے جڑے ہوں سب کا بیانیہ ایک ہونا چاہیے۔لیکن اگر ہم سب اپنی اپنی ذاتی خواہش کی بنیاد پر اپنے اپنے مفادات پر قائم رہیں گے تو شفافیت متاثر ہوگی۔
اب اگر یہ سینٹ کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوتا ہے او ران انتخابات کے بعد بھی ہمیں یہ ہی الزامات کی سیاست کا کھیل یعنی ووٹوں کی خریداری کا منظر سننے یا دیکھنے کو ملتا ہے تو یقینی طور پر یہ سیاست،جمہوریت اور قانون سمیت ریاستی مفاد کے مخالف ہوگا۔اس کے بعد ملک میں مقامی سطح کے مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی ہونے ہیں تو ایسے میں انتخابی نظام کی شفافیت کا مجموعی نظام درست ہونا چاہیے او رجو بھی سیاسی، قانونی اور انتظامی سطح پر اصلاحات درکار ہیں وہ ہماری سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔اسی طرح سیاسی جماعتوں کوبھی اپنے داخلی سیاسی نظام کی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہاں جو بگاڑ ہے اس کا سدباب بھی اہمیت رکھتا ہے۔
مسئلہ محض سینٹ کے انتخابات کا نہیں بلکہ قومی، صوبائی او رمقامی حکومتوں کے انتخابات کا مجموعی نظام عدم شفافیت کا شکار ہے اور اس میں ہر سطح پر غیر معمولی اقدامات درکار ہیں اورہر ادارے میں بڑے پیمانے پر اصلاح ضروری ہے۔بہتر ہوتا کہ اس سیاسی ماحول میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان موجود بداعتمادی نہ ہوتی او ریہ مل کر جو اصلاحات کرلیتے۔ اس طرح ریاستی و حکومتی مفاد کا تحفظ ہوتا۔ لگتا ہے کہ ہمارا سیاسی او رانتخابی نظام یونہی سیاسی تماشہ کے طور پر قائم رہے گا۔ اس کی ذمہ داری سب ہی فریقین پر عائد ہوتی ہے۔