کیا پارلیمان اور آئین کی بالادستی محض ڈھکوسلہ ہے؟

آمریت و جبر کے بالمقابل جمہوریت فرد کے حقوق، ناموس، وقار، اختیار، ضمیر کی آواز اور آزادی اظہار کا نام ہے جسے کسی دیدہ و نادیدہ دباؤ کے زیر اثر نہیں ہونا چاہیے۔

دنیا کی تمام جمہوریتوں میں خفیہ رائے دہی کا مدعا ہی بلاجبر و اکراہ، کسی کی ظاہری یا پوشیدہ چاپلوسی کے بغیر محض ضمیر کی مطابقت میں حق رائے دہی کا اظہار ہے چاہے وہ کسی بھی لیول پر ہو۔ درویش کو سمجھ نہیں آرہی اتنی واضح اور دوٹوک آئینی شق کی موجودگی کے باوجود ہمارے بعض بڑے بڑے ادارے کیوں حالت بخار میں ہیں۔ بلاشبہ ہماری سپریم جوڈیشری کو آئین کی تشریح کا حق حاصل ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ تشریح کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں ابہام ہو۔ نقطۂ توحید سمجھ میں آ جاتا ہے مگر جہاں بہت زیادہ دیگر خلفشار ہوں تو واقعی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ دعا ہے کہ پروردگار عالم ہم سب کی مشکلات، الجھنوں اور دیدہ و نادیدہ مجبوریوں سے جان بخشی فرمائے تاکہ ہم جمہوری روح کی عین مطابقت میں ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ سکیں۔

سینٹ کا الیکشن بلاشبہ ہماری ریاستی قومیتوں یا یونٹوں کو بلالحاظ آبادی تناسب قومی برابری و مساوی اعتماد کا مظہر ہے جسے دیگر تمام انتخابات کی طرح آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہونا چاہیے مگر درویش کو یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمارے بڑوں کو آج جو پریشانی اتنی شدت سے محسوس ہو رہی ہے، عام قومی و عوامی انتخابات کے موقع پر اس کا عشر عشیر بھی کیوں محسوس نہیں ہوتا؟ حالانکہ مابعد منعقد ہونے والے جتنے بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ انتخابات ہوتے ہیں ان سب کا منبع و محور اور اصل بنیاد تو بہرحال عوامی اعتماد کا براہ راست انتخاب یا چناؤ ہے۔ جب اس اصل بنیاد پر دھاندلی کے شدید ترین اعتراضات ابھرتے ہیں، ان پر اس قدر شدید پریشانی و تشویش کیوں محسوس نہیں کی جاتی؟

ماقبل 2018 میں جب جنرل انتخابات کا معرکہ درپیش تھا ذرا اس صورت حال کو تصور میں لائیں۔ ایک سو ایک آہیں نکلیں جو اوپر پہنچ کر ساری کی ساری ٹھنڈی ہوگئیں تب بھی تو سینٹ میں انتخابی صورتحال کچھ ایسی ہی پیدا ہوئی تھی اگر کسی کویاد ہو کہ 64 ووٹ 50 کیسے ہوگئے تھے؟ واضح اکثریت کے باوجود کیا میجک کھیلی گئی تھی، کیسی کیسی شرمناک ویڈیو سامنے آئی تھیں۔ حکومتی پارٹی کے اپنے ممبران اسمبلی کی پوری تفصیل سے کون بے خبر ہے جن کے خلاف حسب معمول تادیبی کارروائیوں کے نعرے خوب لگائے گئے مگر ہوا کیا؟ بعد ازاں وہ کن عہدوں پر لگائے گئے باقی نہیں تو گورنر پنچاب کو ہی یاد کرلیں۔ اس پوری ٹیم میں ہمارے بڑوں کی تشویش شاید کہیں مجبوری کا شکار ہو گئی ہو۔

آج مقام بلند سے یہ کہا جارہا ہےکہ جس جماعت کے جتنے ووٹرز ہیں اس کے اتنے ہی سنیٹرز بننے چاہئیں۔ ماشا اللہ بڑی اچھی خواہش ہے لیکن افسوس اس خواہش کا اظہار پچھلی تمامتر کہانی میں نہ ہو سکا۔ کیا آج کوئی جمہوری الذہن شخص یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ جس جماعت کی جتنی پاپولیرٹی ہوتی ہے اسے مختلف حیلوں ہتھکنڈوں سے ناک آؤٹ کرتے ہوئے اس کے حقوق کیوں چھینے جاتے ہیں؟عوام کی پاپولر قیادت سے ہمیں چڑ کیوں رہتی ہے؟ یہاں تو نچلی سطح کی جمہوریت میں منتخب بلدیاتی اداروں کو برداشت نہیں کیا گیا۔ آج بیوروکریسی کے ذریعے انہیں چلایا جا رہا ہے ہمیں اس پر یہ تمام پریشانی و تشویش کیوں نہیں ہے؟

متناسب نمائندگی کی بحث کرنی ہے تو پھر اس کے کاپس منظر بھی سمجھ لیا جائے۔ یہاں متناسب نمائندگی سے مراد صوبائی قومیتوں یا یونٹوں کا ایشو ہے۔ آج اگر ہم نیدر لینڈ والی سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر شاید ضیاء الحق کی طرح آئین کا کھلواڑ کرنا ہو گا ، پارٹیاں خود ہی حصہ بقدر جثہ کے مطابق اپنی نامزدگی کرلیں گی، ضرورت ہی کیا ہے اس سارے منڈل کی۔ آخر آج ہمیں آئین پاکستان کی موجودگی میں یہ دور دراز کی کیوں سوجھ رہی ہیں؟

آج میثاق جمہوریت کو زہر سے شہد سمجھتے ہوئے یاد فرمایا جا رہا ہے بلاشبہ وہ ایک معرکے کی سیاسی بلوغت پر مبنی دستاویز ہےجس میں اچھے مستقبل کے حوالے سے نیک خواہشات ہیں۔ وقت کے ساتھ جن پر نظرثانی کی پوری گنجائش موجود ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کی قیادت اپنا کنٹرول مستحکم بنانے کے لئے اس نوع کے سمجھوتے کرنے میں آزاد ہے مگر ان کی اصلیت و حقانیت تو اسی وقت ابھرے گی جب پارلیمان میں کماحقہ مباحثے کے بعد آئین و قانون سازی کا پراسس ہوگا۔ وہاں ماہرین یہ گوش گزار کرسکتے ہیں کہ اوپن کی بجائے خفیہ حق رائے دہی جمہوری روح اور فرد کے حقوق کی عین مطابقت میں ہے لہٰذا دیگر آرا کی طرح یہ ایک رائے ہے جو دلائل سے تبدیل بھی ہوسکتی ہے، سو اس پر تشویش چہ معنی دارد؟

اب دیکھتے ہیں اس نقطے کو کہ آئین ایک سیاسی دستاویز ہے جو سیاستدان تیار کرتے ہیں۔ حضور بات اتنی سی نہیں ہے ایسے حوالے دے کر اگر کوئی آئینی ذمہ داری پر فائز شخصیت سیاسی کردار کا تہیہ کرلے تو اور بات ہے، ورنہ آئین محض سیاسی دستاویز نہیں ہے۔ یہ ہماری قانونی ، سماجی، عمرانی، تاریخی ، تہذیبی بلکہ قومی بقا کی ضامن دستاویز ہے۔ یہ اتنا بڑے عہدے اور اتنےبڑے ادارےان کا وجود اسی کا مرہون منت ہے۔ اس کے آرٹیکل 226 کو کون نہیں جانتا ہے، پتہ پتہ بوٹا بوٹا........ بلاشبہ ہمارے بزرگوں کی تشویش قابل فہم ہے۔ ان کا دکھ سمجھ آتا ہے وہ رنجیدہ خاطر ہیں کہ لوگ بھاری رقومات کے تھیلے تھامے بیٹھے ہیں لیکن کیا تھیلوں کے خوف سے ہم ایوب، یحییٰ، ضیاء اور مشرف کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں۔  ہر بیماری کی اپنی دوا یا علاج ہوتا ہے یہ تمام احتسابی ادارے جو ہم نے محض سیاستدانوں کو نیچا دکھانے کے لئے ان کے پیچھے لگا رکھے ہیں، آپ انہیں کرپٹ عناصر کا قلع قمع کی ذمہ داری کب دیں گے؟

سیدھی بات ہے اس ملک کی آئینی تاریخ پہلے ہی گھناؤنی گھاتوں اور وارداتوں کے باعث تار تار ہے، جسد قومی غیر آئینی موشگافیوں سے زخمی و چُور ہے۔ خدارا اس قوم پر ترس فرمایاجاۓ اور ماور ا آئین منفی سوچوں کا خاتمہ ہونے دیں۔ اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ سب کس قدر درد ناک ہے۔ سیدھی سی بات تھی کہ اپنی اپوزیشن کو اعتماد میں لیتے ہوئے اگر آپ آئین میں ترمیم کروا سکتے تھے تو ضرور کروالیتے۔ جب نہیں کروا سکتے تو پھر آپ کی 28 سیٹوں سے کونسا انقلاب فرانس آ جائےگا؟

ہم اپنے آئینی اداروں کو کیوں سبزی کی دکان بنائیں اور کیوں اپنی پارلیمینٹ آئین اور جمہوریت کی حقیقت کو مسخ کرتے ہوئے اسے ڈھکوسلہ یا بازیچۂ اطفال بنائیں۔ پرویز رشید صاحب کے لئے دعا ہے کہ ان کی عظمت دوسروں کے لئے مینارہ نور ہو اور سینٹر مشاہد اللہ خان مرحوم کی یادیں ہمیں نیا حوصلہ اور ولولہ دیں۔