جی سیون گروپ کا غریب ملکوں کو کورونا ویکسین پروگرام میں کثیر عطیوں کا اعلان

  • ہفتہ 20 / فروری / 2021
  • 4770

جی سیون گروپ کے رکن ممالک  نے کورونا وبا سے کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور اٹلی کے وزیر اعظم ماریو ڈراگی نے اپنے عہدے سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی عالمی اجلاس سے خطاب کیا ہے۔ اجلاس کی میزبانی برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانس نے کی۔

عالمی لیڈروں نے مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کیلئے مضبوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا، جس میں صحت سے متعلق ایک عالمی معاہدہ شامل ہے۔ ماحول کے تحفظ اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی روک تھام پر بھی بات ہوئی۔ جمعہ کے روز امریکہ نے پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اجلاس کے آغاز پر بورس جانسن نے کہا کہ عالمی وبا پر قابو پانے کے بعد ہمیں ملازمتوں میں اضافے اور معاشی ترقی تیز کرنے کی ضرورت ہو گی۔

سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جی سیون گروپ آزاد معیشتوں کی حمایت کرے گا اور باہمی اعتماد پر مبنی ڈیٹا کے لین دین سمیت جدید ترین ، آزاد اور شفاف ضوابط کی بنیاد پر کثیر ملکی تجارتی نظام کیلئے کام کرے گا۔ ایک فرانسیسی عہدیدار کا کہنا تھا کہ فیس بک کی جانب سے آسٹریلیا میں نیوز فیڈز پر بندش کے بعد، فرانس کے صدر ایمینوئل میکروں نے یہ معاملہ اٹھایا کہ آزادی اظہار کے تحفظ کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا کیا کردار ہونا چاہئیے اور کیسے ان پر قابو رکھا جائے۔

جی سیون کے لیڈروں نے گرما اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کے انعقاد کیلئے جاپان کے عزم کو سراہا۔ چین کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے جی سیون رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ منڈیوں سےبالاتر پالیسیوں اور پیروی سے نمٹنے کے بارے میں ایک دوسرے سے مشاورت کے بعد  مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے۔

صدر بائیڈن نے اپنے خطاب میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'سب سے پہلے امریکہ' کی پالیسی کے بجائے دنیا اور عالمی اداروں سے دوبارہ تعاون اور اشتراک کی بات کی۔  جی سیون رہنماوں نے غریب ممالک کیلئے کورونا وائرس ویکسین کی فراہمی کے پروگرام، کوویکس، میں خطیر رقم عطیے میں دینے کا اعلان کیا۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ہم خیال جمہوری ممالک میانمار میں ہونے والی بغاوت اور روس کے اپوزیشن رہنما الیکسی نیوالنی کی گرفتاری کی مذمت کرنے میں ایک ساتھ کھڑی ہیں۔  گروپ آف جی سیون کے ارکان میں امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا شامل ہیں، جن کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار تقریباً چالیس ٹریلین ڈالر ہے۔ یہ ممالک دنیا کی نصف سے ذرا کم معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔