پولنگ عملہ غائب ہونے پر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روک لیا گیا
- ہفتہ 20 / فروری / 2021
- 3410
الیکشن کمیشن نے ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روک لیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات اور '23 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران' کے کئی گھنٹوں تک ’غائب‘ رہنے کے بعد کیا گیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج پر شبہ ہے لہذا مکمل انکوائری کے بغیر غیر حتمی نیتجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری ہے۔ ای سی پی کے مطابق این اے 75 کے نتائج اور پولنگ عملہ 'لاپتہ' ہونے کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ معاملے کی اطلاع ملتے ہی رات گئے مسلسل آئی جی پنجاب ، کمشنر گجرانوالہ اور ڈی سی گجرانوالہ سے رابطے کی کوشش کرتے رہے لیکن رابطہ نہ ہوا۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف سیکریٹری پنجاب سے رات تین بجے رابطہ ہوا اور ان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ گمشدہ افسران اور پولنگ بیگز کی تلاش کی جائے گی لیکن بعد میں ان سے دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔ اور کئی گھنٹوں کے بعد 'تقریباً صبح چھ بجے پریزایئڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ حاضر ہوئے۔ ای سی پی نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کوتاہی برتنے پر اور پولنگ میٹریل میں ردوبدل کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئیر رہنما احسن اقبال نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں '23 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کے اغوا' کی تحقیقات سامنے آنے تک نتیجہ روکے۔ احسن اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے تو اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ 23 پولنگ سٹیشنز کا عملہ پولنگ مکمل ہونے کے بعد نتائج لے کر 'کہاں غائب ہو گیا تھا۔' 'قانونی طور پر تو ان نتائج کو ریٹرننگ آفیسر کے آفس جانا تھا جو کہ وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا۔ لیکن چار گھنٹے تک لاپتہ رہنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔'
مسلم لیگ کے رہنما نے الیکن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی بھی تحقیقات کرے کہ متعدد پولنگ سٹیشنز پر چار گھنٹے تک پولنگ رکوائی گئی جس سے ان کے بقول ہزاروں نون لیگ کے ووٹرز ووٹ ڈالنے سے محروم رہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کے حالات پیدا کئے گئے اس سے حلقے میں ہونے والا الیکشن مشکوک ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج ریٹرنگ آفیسر نے روک دیے تھے اور ان کے مطابق حلقہ کے حتمی نتیجے کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔
اس سے قبل اس حلقے کے کل 360 میں سے 337 پولنگ سٹیشنوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کی سیدہ نوشین افتخار 97 ہزار 588 ووٹ لے کر آگے تھیں جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملہی 94 ہزار 541 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 75 کا حلقہ پی ایم ایل نون کے رکن صاحبزادہ سید افتخارالحسن شاہ کے انتقال سے خالی ہوا تھا۔
دوسری طرف خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے گڑھ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیران کن کامیابی سے پی ٹی آئی 2018 میں جیتی گئی نشست کھو بیٹھی۔ غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون وزیر آباد کی نشست جیت گئی جبکہ ڈسکہ کی نشست پر نتیجہ روک لیا گیا ہے۔ تاہم نون لیگ کے لیے سب سے اہم جیت پی کے 63 نوشہرہ سے ہوئی جہاں پی ٹی آئی کو شکست کی توقع نہ تھی۔
مسلم لیگ نون کے امیدوار افتخار ولی، جنہیں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی، نے ضمنی انتخاب میں 21 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے فتح سمیٹی۔ ان کے مقابلے پی ٹی آئی کے میاں عمر کاکا خیل 17 ہزار سے کچھ زیادہ ووٹ لے سکے۔ نوشہرہ کی نشست پی ٹی آئی کے قانون ساز اور عمر کاکا خیل کے والد میاں جمشید الدین کی موت کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اس نشست کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے دعوی کیا تھا کہ پی ٹی آئی یہ انتخاب باآسانی جیت جائے گی۔
پی پی 51 وزیر آباد کے غیر حتمی نتائج کے مطابق (ن) لیگ کی بیگم طلعت محمود صرف پانچ ہزار ووٹ کے فرق سے پاکستان تحریک انصاف کے چودھری یوسف کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے کارکنوں نے پی پی51 وزیرآباد میں پی ٹی آئی کے لیے ہونے والی ووٹ چوری کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ٹوئٹر پر مریم نواز نے کہا کہ 'پی ٹی آئی کے لوگوں کی جانب سے ووٹوں کے بیگز کی چوری کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی عادل چٹھہ اور عطااللہ تارڈ نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔'
مریم نواز نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں پیغام دیا کہ 'میں ان سب کو خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ جنہوں نے ڈسکہ اور وزیرآباد سے نتائج روکے ہیں اور نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں یہ مہنگا پڑے گا۔'
'یہ سرعام دھاندلی ہے' اور دعویٰ کیا کہ یہ سب پی ٹی آئی کی ایما پر کیا گیا۔ مریم نوازنے ٹوئٹر پر کئی ویڈیوز جاری کیں جس میں ان کے مطابق دھاندلی کے مناظر ہیں۔
صحافی حامد میر نے بھی اسی حوالے سے ٹویٹ کی اور لکھا کہ گمشدہ ہونے والے چند افسران واپس آ گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دھند کی وجہ سے گم ہو گئے تھے۔ صحافی احمد نورانی نے ٹوئٹر پر سوال اٹھایا کہ ’جن جن پولنگ اسٹیشنز کا عملہ ’غائب‘ ہوا، صرف انہی کو دھند کا سامنا کرنا پڑااور انہی کے موبائل بند ہوئے۔‘