ترقیاتی فنڈز کیس میں تحقیقات کے بجائے جج کو آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکا گیا: جسٹس عیسیٰ
- ہفتہ 20 / فروری / 2021
- 4040
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کے کیس میں اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ تحقیقات کے بجائے جج کو آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکا گیا۔
یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق اخباری خبر پر نوٹس لیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کی تھی۔ جسٹس عیسیٰ بھی اس بینچ کے رکن تھے۔
تاہم کیس کو دوسری سماعت میں ہی وزیراعظم کی جانب سے خبر کی تردید کے بعد نمٹا دیا گیا تھا۔ اور تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا گیا۔ اس میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق مقدمات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ جسٹس عیسیٰ کو موصول نہ ہونے پر انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا۔ اب ان کا اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے۔
28 صفحات پر مشتمل نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ جب سپریم کورٹ نے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے وسیع پیمانے پر رپورٹ ہونے والے بیان کا نوٹس لیا۔ وزیراعظم پاکستان کا بیان بظاہر آئین سے متصادم تھا تاہم اس کا اختتام غیرمتوقع تھا۔ مبینہ خلاف ورزی کی صحیح تحقیقات نہیں کی گئی بلکہ سپریم کورٹ کے ایک جج کی سرزنش کی گئی اور اسے آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکا گیا۔
انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ 3 فروری 2021 کو اس عدالت کے جسٹس مقبول باقر اور مجھ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایک حکم جاری کیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ قومی اخبارات بشمول معتبر روزنامہ ڈان میں 28 جنوری 2021 کو 'ہر قانون ساز کیلئے 50 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری' کی ہیڈ لائن کے تحت یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں جس میں ایک وزیر کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم نے رکن قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے 50 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ وہ اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرواسکیں۔
اسی طرح یکم فروری کو اسی اخبار نے 'ترقیاتی فنڈز‘ کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا جس میں وزیراعظم کی جانب سے اپنی پارٹی کے ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو ان کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے نصف ارب روپے دینے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ اختلافی نوٹ میں جسٹس عیسیٰ نے لکھا کہ بعد ازاں اس معاملے پر چیف جسٹس نے ایک 5 رکنی بنچ تشکیل دیا جس میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور میں (جسٹس عیسیٰ) شامل تھے۔ تاہم میں نے اس 5 رکنی بنچ اور اس سے جسٹس مقبول باقر کو نکالنے پر اعتراض کیا اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ چیف جسٹس نے بنچ کی تشکیل پر اعتراض کا تحریری یا زبانی جواب نہیں دیا کیوں انہوں نے 2 رکنی بنچ کی تشکیل نو کی اور کیوں جسٹس مقبول باقر کو اس سے باہر کیا گیا جبکہ ریکارڈ کے مطابق چیف جسٹس کے زبانی حکم پر 5 رکنی لارجر بنچ بنایا گیا۔ بعد ازاں 10 فروری کو اس کیس کی سماعت کے بعد جاری کیے گئے حکم میں یہ کہا گیا کہ ایک مخصوص جج وزیراعظم سے متعلق معاملات کو نہیں سن سکتا۔ جبکہ اٹارنی جنرل، صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کے قانون افسران اور کسی حکومتی ملازم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
جسٹس عیسیٰ نے لکھا کہ اس روز سماعت کے بعد مجھے موبائل فون پر پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے این اے 65 میں چوہدری سالک حسین کے لیے مخصوص تعمیراتی کام کے سلسلے میں کئی کروڑ روپے منظور کیے۔ اٹارنی جنرل نے تحقیقات کے بجائے جج کو شکایت کنندہ بنانے کی کوشش کی۔ واٹس ایپ پر ملنے والی دستاویزات کھلی عدالت میں ججز اور حکومتی وکلا کو دیں، دستاویزات کی تصدیق نہ ہوتی تو بات وہیں ختم ہوسکتی تھی۔
جسٹس عیسیٰ نے 11 فروری کی عدالتی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ چیف جسٹس نے اچانک کیس ختم کرتے ہوئے کھلی عدالت میں (بنچ کے دیگر اراکین سے مشورے کے بغیر) یک طرفہ طور پر قرار دیا کہ ایک جج کو ’وزیراعظم پاکستان سے متعلق معاملات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے‘۔ اس کے بعد وہ اپنی نشست سے اٹھے اور دیگر ججز کو بھی پیروی پر مجبور کیا۔ بعد ازاں شام ہونے تک میڈیا کو معلوم ہوگیا کہ ایک حکم/ فیصلہ جاری کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ایک جج کو میڈیا کے ذریعے اس کا معلوم ہوا حالانکہ یہ فیصلہ اس بنچ کی جانب سے جاری کیا گیا جس کا وہ حصہ تھے۔
انہوں نے لکھا کہ یہ حکم نہ انہوں نے پڑھا تھا اور نہ ہی دستخط کے لیے انہیں بھیجا گیا تھا جس پر انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا۔ خط میں جسٹس عیسیٰ نے لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ 11 فروری 2021 کو مذکورہ کیس میں ایک حکم/فیصلہ (پتا نہیں کونسا) جاری کیا گیا تھا جو میڈیا کو جاری کردیا گیا جبکہ یہ ‘چونکا‘ دینے والی بات ہے کہ اب تک مجھے حکم/فیصلہ موصول نہیں ہوا۔
جسٹس عیسیٰ نے اپنے خط میں سوالات کیے تھے کہ مجھے بتایا جائے کہ کیوں مجھے حکم/ فیصلہ نہیں بھیجا گیا؟ کیوں سینئر جج کو فیصلہ بھیجنے کی روایت کو نہیں اپنایا گیا؟ کیوں اسے میرے پڑھنے سے قبل میڈیا جو جاری کردیا گیا (مجھے اس پر دستخط کرکے اتفاق یا اختلاف کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا)؟ اسے میڈیا کو جاری کرنے کا حکم کس نے دیا ؟ مجھے کیس کی فائل دی جائے تاکہ میں بالآخر حکم/ فیصلہ پڑھ سکوں۔ جسٹس عیسیٰ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تمام ججز کے دستخط ہونے تک حکم نامہ قانونی نہیں ہوسکتا۔
28 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں انہوں نے لکھا کہ سینیٹ الیکشن سے قبل وزیراعظم نے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا کہا جبکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ووٹوں کی خرید و فروخت کا کہہ رہی ہیں۔ میں وزیراعظم کے نہیں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں دیگر 13 افراد کے ساتھ وزیراعظم کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔ اگر وزیراعظم کو فریق بنانا وجہ تھی تو فریق بنچ کے 3 ججز بھی تھے اور سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ 3 ججز بھی بنچ میں شامل تھے۔
اختلافی نوٹ کے آخر میں جسٹس عیسیٰ نے لکھا کہ میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ یہ حکم لکھنا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، میں معذرت خواہ ہوں کہ اگر اس سے کسی کو تکلیف پہنچی یا کوئی ناراض ہوا کیونکہ یہ میرا ارادہ نہیں۔ میں نے وہی کہا جو میں نے محسوس کیا۔
جسٹس عیسیٰ نے لکھا کہ ایک مثبت نوٹ کے ساتھ اختتام کرتے ہوئے میں کہنا چاہوں گا کہ سب سے زیادہ بہترین ادارے وہ ہوتے ہیں جہاں خلوص، شفافیت اور جائز اختلاف رائے ہو۔ میری دعا ہے کہ یہ ادارہ تمام طرح کی آئینی خلاف ورزی کے خلاف اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف لوگوں کے تحفظ کے لیے بلا کسی رکاوٹ کے کھڑا ہو۔