ضمنی انتخاب نے تحریک انصاف کی حکومت میں شگاف ڈال دیا
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- ہفتہ 20 / فروری / 2021
- 6770
وطن عزیز نے آزادی کے بعد کسی اور کام میں ترقی کی ہو یا نہ کی ہو البتہ انتخابات میں دھاندلی میں بے حد ترقی کی ہے۔ اس معاملے میں ہماری بیتابی کا یہ عالم رہا ہے کہ ہم نے آزادی کےفوراً بعد ہی جھُرلو پھیرنے کی اصطلاح ایجاد کرلی۔ اور پھر آنے والے سالوں میں اس کا خوب استعمال بھی کیا۔
ہم نے اس میدان میں ایسا کمال حاصل کیا۔ اس عمل کو نت نئی جہات اور اصطلاحات بخشیں۔ انتخابات سے پہلے دھاندلی ، انتخابات کے دوران دھاندلی اور انتخابات کے بعد دھاندلی۔ یہ تمام اقسام اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ اور ان کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ میں 1970 کے انتخابات کے علاوہ تمام صوبائی یا قومی انتخابات کا جائزہ لیں ۔ تو آپ کو کسی نہ کسی شکل میں جُھرلو پھرتا نظر آئے گا۔ کہیں انتخابات سے پہلے جوڑ توڑ کیا گیا۔ کہیں انتخابات کے دوران اپنی مرضی کے نتائج لئے گئے۔ کہیں انتخابات کے بعد نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ 1970 کے انتخابات کو بھی اس لئے صاف ستھرا ہونے دیا گیا کیونکہ طاقت کے مراکز کا خیال تھا کہ کوئی بھی پارٹی بڑی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔
اس لئے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی طرف سے کی گئی بے ضابطگیوں کا بھی نوٹس نہیں لیا گیا۔ لیکن ان شفاف انتخابات کے نتائج پہ ایسا جُھرلو پھیرا گیا کہ ملک ہی دو لخت ہو گیا۔ اور جُھرلو پھیرنے والوں کو ملال بھی نہیں ۔ اس بعد کوئی بھی انتخاب ’اُن‘ کی مداخلت کے بغیر نہیں ہوا۔ 1988 میں بھی جُھرلو پھیرا گیا۔ جس پارٹی کے جیتے کی توقع تھی، اس کی متوقع اکثریت کو کم کرنے کے لئے کچھ پارٹیوں کا اتحاد بنا کے ووٹ کو ’عزت‘ دی گئی۔ لیکن جیتنے والی پارٹی اس کے باوجود اکثریتی پارٹی بن کے اُبھری۔ پھر الیکشن کے بعد بھی جُھرلو پھیرا گیا اور حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھ کے کہاگیا کہ اب میراتھن دوڑو۔ میراتھن دوڑنا تو دور کی بات اس حکومت کا رینگنا بھی برداشت نہ ہوا۔
یہ عمل ہر انتخابات میں دُہرایا گیا۔ چاہے کوئی ’کرپٹ‘ سیاسی حکومت تھی۔ یا ’پاکیزہ‘ حکومت۔ یہ سلسلہ کبھی نہ ٹوٹا۔ تا آنکہ 2018 کے انتخابات آ گئے۔ اب معاشرے میں ایک نیا عنصر داخل ہو چُکا تھا۔ جس نے معاشرتی زندگی کی جہات بدل دی تھیں۔ لیکن ہماری ترجیحات نہیں بدلیں۔ یہ عنصر سوشل میڈیا ہے۔ اب ذرا ذرا سی بات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ ’انہوں‘ نے اپنے آپ کو اس نئی صورت حال سے ہم آہنگ کر لیا اور پروپیگنڈے کے اس نئے ذریعے کا خوب استعمال کیا۔ اس کی بنیاد پہ کچھ لوگوں کو شیطان مشہور کر دیا گیا اور کچھ لوگ فرشتے قرار پائے۔ لوگوں کو گھیر گھیر کر فرشتوں کی جماعت یعنی تحریک انصاف میں لایا گیا۔ جو اس پارٹی میں آ گیا پوتر قرار دیا گیا۔ اور جو نہیں آیا۔ اس کے لئے نیب کو استعمال کیا گیا۔ یوں ملک میں ایک پارٹی اور ایک شخص کو اتنی بلندی پہ لے جایا گیا کہ وہاں سے اوپر صرف آسمان دکھائی دیتا تھا۔ زمین ، زمین کے باسی یا زمینی حقایق نظروں سے اوجھل تھے۔
اب نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شخص ’ضرورت‘ سے زیادہ مقبول ہو گیا۔ انتخابات والے دن اسی کے نام کے چرچے تھے۔ اب خطرہ یہ تھا کہ یہ بہت بڑی اکثریت لے گیا تو کیا ہوگا۔ لہذا انتخابات والے دن سسٹم ہی بٹھا دیا گیا۔ اور میرا اندازہ ہے کہ عمران خان کی سیٹیں کم کی گئیں۔ اصل حقیقت تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن میرا اندازہ ہے عمران خان کی سیٹیں کم کی گئیں۔ اور حساب کتاب مہارت سے کیا گیا۔ لیکن انتخابات کے بعد بھی اپنی مرضی کے نتائج لئے گئے۔ یعنی 2018 کے انتخابات ماہرین نے جُھرلو کے تمام طریقے بیک وقت استعمال کئے۔ اور اپنے مقاصد کے لئے ایک ہی تیر سے کئی شکار کئے۔ بقول شاعر دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ/ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔
حکومت میں آنے کے بعد عمران خان اور اُن کی کابینہ نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو مسلسل نشانے پہ رکھا۔ پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا سیل دن رات چور چور اور ڈاکو کا راگ الاپتا رہا۔ تقریباً تین سال سے حکومت نے اگر کسی شعبے میں جانفشانی سے کام کیا ہے تو وہ اپنے ناقدین اور مخالفین کا ناطقہ بند کرنے میں کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ نیب کے ذریعے مقدمے بنائے گئے۔ وزیر اعظم صاحب بنفس نفیس اپوزیشن لیڈروں کو چور، ڈاکو اور غدار قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس محنت اور جانفشانی کا نتیجہ کیا نکلا۔ وہ کل 19 فروری کے ضمنی انتخابات سے عیاں ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں میں پی ٹی آئی الیکشن ہا ر گئی۔ ڈسکہ والی نشست کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ لیکن اگر فرض کریں پی ٹی آئی یہ سیٹ جیت بھی گئی تو پھر بھی ایک چور اور ڈاکو کی پارٹی نے صادق اور امین کی پارٹی جتنے ووٹ لئے ہیں۔
صرف اکیس انتخابی مقامات کے نتائج ابھی آنے ہیں اور جن کے نتائج آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق صادق اور امین پارٹی ڈسکہ کا انتخاب ہار رہی ہے۔ صادق اور امین پارٹی کے لئے یہ انتخابات لمحہ فکریہ ہیں۔ کہ چور، ڈاکو اور غدار ان سے انتخابات جیت گئے ہیں۔ کیا ان تمام حلقوں کے عوام چور، ڈاکو اور غدار ہیں؟ تسلیم کر لیں کہ آپ کا دن رات کا پروپیگنڈا ناکام ہو گیاہے۔ اگر اس میں سے کچھ نشستیں پہلے ہی نون لیگ کی تھیں۔ تو پھر بھی آپ کا پروپیگنڈا عوام کی رائے تبدیل نہیں کر سکا۔ جو نشست آپ کے ہاتھ سے گئی وہاں کے عوام نے بھی آپ کی باتوں پہ کان نہیں دھرا۔
فرض کریں کہ ان الیکشن میں کسی قوت نے کوئی کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ جس کا میں ذکر چُکا ہوں تو پھر بھی یہ آپ کی ناکامی ہے کہ وہ جو آپ کو لے کے آئے، آج اپنا وزن آپ کے مخالف پلڑے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر آپ شفاف انتخابات کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں تو بھی اسے آپ کی ناکامی ہی گردانا جائے گا۔ کیونکہ پھر یہ کہا جائے گا کہ 2018 کے انتخابات آپ کو جتوائے گئے۔ کیونکہ اب اگر مقدمات اور مسلسل پروپیگنڈا آپ کو نہیں جتوا سکا تو اس وقت آپ اپنے زور پہ کیسے جیت سکتے تھے ؟
الغرض ان ضمنی انتخابات نے آپ کی حکومت میں ایک بڑا شگاف ڈال دیا ہے۔ یہ نتائج آپ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ پاکستانی سیاست میں آپ کی موجودگی ایک تیسری قوت کے طور پہ بہت ضروری ہے۔ میں اس کا حامی ہوں۔ لیکن اپنے بیانیے پہ نظر ثانی کیجئے۔ اپنے رویے کو خود احتسابی کی بھٹی سے گزاریے۔ تبھی آپ کُندن بن سکتے ہیں۔ ورنہ آپ کی حیثیت پیتل سے زیادہ نہ ہوگی۔ جس سے لوٹے بنائے جاتے ہیں۔ جن کا پیندا بہت آسانی سے گھوم جاتا ہے۔ شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات۔