سینیٹ الیکشن کا ہنگامہ

  • تحریر
  • ہفتہ 20 / فروری / 2021
  • 6000

سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ تو ان کا  مطالبہ تھا جو ہم پورا کر رہے ہیں، یہ آج کس منہ سے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔  ٹاک شو میں پی ٹی آئی کے ایک سرکردہ رہنما نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے سارا زور اسی  نکتے پر لگایا۔  جواب آیا کہ آپ کو میثاق جمہوریت  کی اچانک یاد کیوں آ رہی ہے، ہمیں معلوم ہے۔  آپ کو اپنے ارکان پر اعتماد نہیں، خفیہ بیلٹ کی صورت میں آپ کو اصل ڈر یہ ہے کہ  کئی ناراض ارکان پارٹی امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔یہ اور اس سے ملتی جلتی بحث کئی دنوں سے جاری ہے۔

سیاست  کے بارے کہا جا تا ہے کہ ناممکنات کا کھیل ہے۔ کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے حلیف کل کے دشمن ہو سکتے ہیں۔ آج کی  سیاسی صف بندی اس کی گواہ ہے کہ مفادات  کس تیزی اور آسانی سے حلیفوں  اور حریفوں کی ترتیب بدل دینے پر قادر ہیں۔ یہ طرفہ تماشا حکومتی اور اپوزیشن صفوں میں مشترکہ ورثہ ہے۔ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔  سیاست میں  یہ مشہور محاورہ ہر  اس وقت ڈھال کے کام آتا ہے جب مفادات  کوئی ایسا کام کرنے پر اکسائیں  جو معمول سے ہٹ کر ہو۔ کہاں یہ کہ آج کی اپوزیشن کے بارے میں حکومتی بنچوں کے خیالات پارلیمنٹ میں سن کر جسم میں سنسناہٹ  پیدا ہو جائے او رکہاں یہ   کہ حکومت  سینیٹ میں اوپن بیلٹ کے لئے میثاق جمہوریت  میں شامل ایک شق کی تکمیل کے لئے اس قدر ہلکان  ہے، فٹافٹ آرڈی نینس بھی جاری ہو گیا  اور سپریم کورٹ سے رجوع بھی۔

سینیٹ کی آئین ِپاکستان میں خاص اہمیت ہے کہ چھوٹے صوبوں کو پارلیمانی نظام میں آبادی کے تناسب میں کمی کے باوجود  ایک فورم دستیاب ہو،جہاں سب صوبے برابر کی نمائندگی رکھتے ہوں۔ قانون سازی  کے مراحل میں اس فورم کی  ایک ناگزیر حیثیت ہے۔ اس قدر ناگزیر کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے باوجود سینیٹ قائم رہتی ہے۔ سینیٹ کے ارکان کی  ترکیب میں اسپشلائزڈ  اور مخصوص ارکان کی نشستیں  بھی رکھی گئیں تاکہ قومی اہمیت کے معاملات پر بحث و تمحیص اور غور و فکر  کرتے ہوئے اس ادارے کے ارکان باصلاحیت بھی ہوں اور تمام اہم شعبوں کے نمائندہ بھی۔

سینیٹ کے لئے طرزِ انتخاب  قدرے پیچیدہ  ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلی پر مشتمل حلقہ  انتخاب  میں  خفیہ ووٹنگ  کا طریقہ آئین میں  رکھا گیا۔  منشا یہ تھا کہ ارکان اس اہم ترین پارلیمانی فورم کے لئے ارکان کے انتخاب میں  خود پر دباؤ محسوس نہ کریں۔  مگر دیگر بہت سی اچھی آئینی کلازز کے ساتھ جو ہوا وہی کھلواڑ اس کلاز کے ساتھ بھی ہوا۔  ایک طرف تو سیاسی جماعتوں نے سینیٹ میں ٹکٹ دیتے وقت وفاداری بشرط استواری کو ہی بنیادی اصول بنایا یا پھر سہاگن وہی جو پیا من بھائے۔ بعض اوقات ایسے ایسے امیدوار سامنے آتے ہیں  کہ پارٹی کے اندر کھلبلی مچ جاتی ہے۔ دور کیا جانا اس انتخابی معرکے میں سامنے  آنے والے   کئی امیدواروں  کے بارے میں پارٹی ارکان  کی  وضاحت دیتے ہوئے زبان تالو  سے لگ جاتی ہے۔

قانون سازی کے موجودہ  طریقہ کار کے مطابق سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کے سبب حکومت  ایک مسلسل سردرد کا شکار ہے۔  پی ٹی آئی حکومت کو اسی لئے کچھ  اہم ترین قوانین کی منظوری قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے کروانی پڑی۔  اسی سبب حکومت کی کوشش ہے کہ ہر ممکن طریقے سے سینیٹ میں اکثریت حاصل کی جائے۔  ووٹ  خریداری خفیہ رائے دہی کی ایک  کریہہ روایت  رہی ہے   جو   ان سینیٹ  انتخابات کے عمل  پر ایک بد نما داغ ہے۔ سب نہیں مگر چند ارکان اس بہتی گنگا میں اشنان کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  وہ مالدار جو سیاسی اثر و رسوخ کے خواہاں ہوتے  ہیں مگر سیاسی عمل کی جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتے وہ ایسے گنگا اشنان پر تیار امیدواروں سے معاملات طے کر لیتے ہیں، یوں دونوں کی مراد پوری ہوجاتی ہے۔   

پی ڈی ایم کی تحریک نے  سیاسی ماحول پہلے ہی گرما رکھا ہے، اس پر مستزاد موجودہ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک  کم از کم    ورکنگ ریلیشن شپ نہیں بن سکی۔  حکومت کی ہر تان  اپوزیشن کو چور لٹیرے ڈاکو کہنے سے شروع اور این آر او نہیں  دینے پر ختم ہوتی ہے۔ اپوزیشن کا منترا   سلیکٹڈ سے شروع ہوتا ہے  اور سلیکٹرز سے  گِلے پر ختم ہوتا ہے۔ قائمہ کمیٹیوں اور پس پردہ   رابطوں سے  پارلیمنٹ چلانے کے بارے میں بھی  کم از کم  مشاورت اور انڈر سٹینڈنگ مفقود نظر آئی۔  سینیٹ کے ووٹنگ  کے طریقہ کار  کو بدلنے کے لئے اصولاٌ تو آئینی ترمیم  درکار ہے۔ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن نے یہی موقف سامنے رکھا  لیکن جہاں  حکومت اور اپوزیشن کی  ورکنگ ریلیشن کا یہ عالم ہو،  وہاں مشاورت کیسی اور باہمی تعاون کیسا؟

اس صورت میں وہی ہوا جو اب  کچھ عرصے سے معمول سا بن گیا ہے یعنی سیاسی معاملات عدالت کی دہلیز پر۔  ماضی قریب میں ایک سے زائد بار عدالتیں اپنے ریمارکس   میں واضح کر چکی ہیں کہ  سیاسی  معاملات کو سیاسی فورم پر حل کیا جانا چاہئے نہ کہ عدالتوں کو سیاسی معاملات میں گھسیٹا جائے۔ عدالت کی رائے  بالکل صائب مگر کیا کیجئے کہ کل بھی اور آج بھی حکومتی اور اپوزیشن  جماعتیں پارلیمانی روایت، تحمل، باہمی برداشت  اور  ایک دوسرے کو  مناسب سپیس دینے کا حوصلہ پیدا کرنے سے گریزاں  ہیں۔  ایک بار پھر ایک  آئینی مسئلہ جس کے حل کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے، حکومت وقت  نے  اسے عدالتی فورم پر ڈھیر کرنا مناسب جانا۔

حکومت کی مجبوری ہے  کہ آئینی ترمیم کے لئے درکار دو تہائی اکثریت اس کے  پاس نہیں  مگر سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا یہ موقع  کسی صورت گنوانے کا رسک بھی نہیں لینا چاہتی۔  حکومت وقت کے کچھ ارکان  ناراض بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی ایسے موقع کی تاک میں ہوتے ہیں۔ دوسری طرف پی ڈی ایم  سینیٹ میں حکومتی اکثریت کا ناممکن بنا کر اسے نکیل ڈالے رکھنے کے لئے خفیہ رائے دہی پر تکیہ کئے ہوئے ہے۔  کیا فیصلہ ہوتا ہے اور کون کامیاب ہو تا ہے،  یہ تو وقت ہی بتائے گا  لیکن  جہانگیر ترین کی کامیاب واپسی تو بہرحال ہو چکی۔ سینیٹ الیکشن کے اس ہنگامے پر مرزا  غالب یادآئے:

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو

اک تماشا ہوا گِلہ نہ ہوا