مشرق وسطیٰ میں غلطیاں دہرانے سے بچنے کے لیے ایران سے مذاکرات ضروری ہیں: جو بائیڈن
- اتوار 21 / فروری / 2021
- 9130
امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے متعلق دوبارہ سے مذاکرات شروع کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تا کہ ایسی غلطیاں نہ کی جائیں جن سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال مزید خراب ہو۔
میونخ سلامتی کانفرنس سے ورچوئل خطاب کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں شفافیت اور بہتر بات چیت کے ذریعے اسٹریٹجک غلط فہمیوں اور غلطیوں کو کم سے کم سطح پر لانا ہو گا۔ بائیڈن کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ تہران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی صرف اس صورت میں بند کرنے کو تیار ہوگا کہ اگر امریکہ ان کے ملک پر عائد پابندیاں اٹھا لے۔
جواد ظریف کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ اگر امریکہ غیر مشروط اور قابل عمل طور پر وہ تمام پابندیاں اٹھا لے جو سابق صدر ٹرمپ نے نافذ کی تھیں۔ تو ایران تمام ایسے اقدامات جو رد عمل میں کیے گئے تھے واپس لے گا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے محتاط سفارت کاری اور ہمارے درمیان تعاون بہت ضروری ہے تاکہ غلطیوں سے بچا جا سکے۔ اسی لیے وہ مذاکرات دوبارہ سے شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔ بائیڈن نے اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ امریکہ اپنے یورپی حلیفوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کو خراب کرنے کے اقدامات کے خلاف کام کرنے کو تیار ہے۔
واضح رہے کہ 2018 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد ایران پر پابندیاں نافذ کر دی تھیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔ ٹرمپ نے ایران پر غیر قانونی بیلسٹک میزائل پروگرام چلانے اور خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات لگاتے ہوئے معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ کے علاوہ جرمنی نے مشترکہ طور پر اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی تصدیق کی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران معاشی ریلیف کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو بڑے پیمانے پر محدود کرنے پر راضی ہوا تھا۔