کراچی میں جیو و جنگ گروپ کے دفتر پر حملہ

  • اتوار 21 / فروری / 2021
  • 7550

کراچی میں نجی نیوز چینل جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملہ ہوا ہے۔ چینل کے مطابق مظاہرین نے واک تھرو گیٹ اور مرکزی دروازہ توڑ دیا اور عملے پر بھی تشدد کیا۔

مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور عملے پر تشدد کے بعد دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ایک پروگرام میں کی گئی متنازع بات کی وضاحت دی جائے۔ جیو نیوز کے مزاحیہ پروگرام خبرناک کے میزبان اور تجریہ کار ارشاد بھٹی نے سوشل میڈیا پر وائرل متنازع ویڈیو پر وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ ’جس طرح مجھے خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پیارے ہیں اسی طرح سندھ اور سندھی میرے وجود کا حصہ ہیں‘۔

کراچی میں جیو نیوز دفتر پر حملے کے حوالے سے جیو نیوز چینل کے رپورٹر نے بتایا کہ پروگرام کے میزبان اپنا وضاحتی بیان جاری کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ اور تشدد کیا گیا۔  انہوں نے بتایا کہ مظاہرین عملے کو دھکے دیتے ہوئے دفتر کے اندر داخل ہوگئے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جیو کے پروگرام میں استعمال ہونے والی زبان سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس پر جیو کی انتظامیہ کو معافی مانگنی چاہیے۔ جیو کے دفتر کے ساتھ مظاہرین دھرنا دے کر بیٹھے ہیں جبکہ پولیس کی نفری بھی پہنچ چکی ہے۔

جیونیوز کے بیورو چیف فہیم احمد صدیقی نے بتایا کہ مظاہرین  رائے کا حق رکھتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر پروگرام سے متعلق ویڈیو ایڈٹ کرکے اپ لوڈ کی گئی۔ جس بنیاد پر احتجاج کیا جارہا ہے درحقیقت پروگرام میں وہ بات اس طرح سے نہیں ہے جس طرح سوشل میڈیا پر ایڈٹ کی گئی ویڈیو میں پیش کی گئی ہے۔

فہیم احمد نے بتایا کہ اس کے باوجود جیو نیوز کے اسی پروگرام میں وضاحت کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایکشن لینا چاہیے کیونکہ مظاہرین نے دفتر پر حملے سے متعلق باقاعدہ اعلان کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جیو نیوز کے دفتر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔  انہوں نے جیو نیوز کے چیف ایگزیکٹو افسر اظہر عباس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں اس عزم کا اظہار کیا کہ جو بھی اس واقعے میں ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔  سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی میڈیا کی آواز دبنے نہیں دے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے جیو اور جنگ گروپ کے مرکزی دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طنز و مزاح کا پروگرام تھا اور اگر کسی بات پر جذبات کو ٹھیس پہنچی تو اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کا مناسب طریقہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ واقعہ کراچی میں پیش آیا اس لیے فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری حکومت سندھ پر عائد ہوتی ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب ایسی صورتحال جنم لے رہی تھی پولیس نے ایکشن کیوں نہیں لیا۔ انہوں نے جیو اور جنگ دفتر کے مرکزی دفتر پر حملے کے بارے میں کہا کہ محرکات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

صدر پریس کلب فاضل جمیلی نے بھی حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب حملے کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور حکومت سندھ سے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس پوری صورتحال میں پولیس کا کردار ایک سوالیہ نشان رہا۔

خیال رہے کہ جیو نیوز کے مزاحیہ پروگرام خبرناک کے میزبان اور تجریہ کار ارشاد بھٹی نے وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ ’سندھ کے عوام نے پروگرام کو بہت پسند کیا تو ساتھ ہی ایک دو جملوں پر اعتراض کیا۔ میں سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ طنز و مزاح کا پروگرام ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح مجھے خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پیارے ہیں اسی طرح سندھ اور سندھی میرے وجود کا حصہ ہیں۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ سندھ اور سندھیوں کے لیے میری جان بھی حاضر ہے۔